وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران وزیراعلی سیٹیز ڈویلپمنٹ پروگرام میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد اور سپیشل سیکرٹری ڈویلپمنٹ آسیہ گل نے بھی شرکت کی۔ پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی (پی ایم ڈی ایف
سی) کے مینجنگ ڈائریکٹر سید زاہد عزیز نے بریفنگ دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 20 شہروں میں واٹر سپلائی اور سینی ٹیشن کی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ مزید 59 شہروں میں ڈیٹا کولیکشن کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ وزیراعلی مریم نواز نے 110 شہروں میں میونسپل سروسز کی فراہمی کے 150 ارب روپے کے میگا پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کے درمیان سیوریج پائپ لائن نہیں بچھائی جائے گی بلکہ چھوٹے شہروں کے اردگرد ڈرینج سسٹم کا بائی پاس ماڈل نافذ کیا جائے گا تاکہ گندے پانی کے مضر اثرات سے بچا جا سکے۔ مستقبل کی نئی آبادیوں کو اسی بائی پاس ڈرینج سسٹم سے منسلک کیا جائے گا۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ ایک لاکھ تک کی آبادی کے لئے کم از کم ایک واٹر سٹوریج ٹینک بنایا جائے گا جبکہ اس سے زیادہ آبادی کے لئے اسی تناسب سے پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک تعمیر ہوں گے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ برساتی پانی کے نکاس کے لئے مربوط نظام رائج کیا جائے گا۔ ویسٹ واٹر کی ٹریٹمنٹ کی جائے گی۔ پمپ سٹیشن سولر سسٹم پر منتقل کئے جائیں۔
صوبائی وزیر نے پی ایم ڈی ایف سی کو تخمینہ لگانے کا موثر طریقہ وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر شہروں کی گلیوں اور گھروں کا سٹائل ملتا جلتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیوریج کی کسی پائپ لائن کا قطر ایک فٹ سے کم نہیں ہونا چاہیئے۔ اس پروگرام کے تحت شہروں کی اگلے 25 سال تک کی ضروریات مدنظر رکھی جائیں گی۔ ذیشان رفیق نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پروگرام کی تکمیل سے 110 چھوٹے شہروں کی 65 لاکھ جبکہ 51 بڑے شہروں کی سوا کروڑ آبادی کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام شہروں کے ساتھ مجموعی طور پر 6642 گرین ایریاز وقف کئے جائیں گے۔اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے پی ایم ڈی ایف سی کو ہر شہر کی انتظامیہ سے میٹنگ کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ضلع اور تحصیل انتظامیہ کا فیڈ بیک جلد حاصل کر کے پروگرام کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔





