ہم آپ سب صحافی خواتین و حضرات کے مشکور ہیں ، کہ آپ اپنا قیمتی وقت دے کر پریس کانفرنس میں شرکت کیں ۔آج ہم وہ صورت حال آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں ، جس کا سامنا خیبر پختونخوا کے ساڑھے چار کروڑ عوام اور اُنکے منتخب کردہ مقامی حکومتوں کے 30 ہزار نمائندے کررہے ہیں ۔پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی حکم پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے زیر نگرانی مقامی حکومتوں کے مرحلہ وار انتخابات کا انعقاد کیا ، پہلے مرحلہ کے انتخابات 19 دسمبر 2021 اور 15 مارچ 2022 کو کونسلز کا پہلا اجلاس منعقد ہوکر منتخب نمائندوں نے عہدوں کا حلف لیا اور اس طرح دوسری مرحلہ کی انتخابات 31 مارچ 2022 کو منعقد ہوئے اور 20 جون 2022 کو پہلا اجلاس منعقد ہوکر حلف لیا اور دونوں مرحلوں کے کونسلز کے چار سالہ میعاد کا آغاز ہوا ۔ انتخابات میں پی ٹی آئی کو کامیابی حاصل نہیں ہوسکی اپوزیشن کے مقابلہ میں انکے بہت کم نمائندے منتخب ہوسکے ، لہٰذا 12 اپریل 2022 کو صوبائی اسمبلی سے لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2019 میں ترامیم کراکے مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں انتظامی اور مالی اختیارات چھین لئے گئے ۔ جس کے خلاف منتخب نمائندوں نے مسلسل بھر پور احتجاج کئے اور پشاور ہائی کورٹ میں پیٹیشنز بھی دائر کی ۔ وزارء اعلٰی محمود خان ، علی امین گنڈاپور نے وعدے کئے ، کہ ترامیم کو واپس لیکر اختیارات اور فنڈز کو بحال کردیں گے ، لیکن چار سالوں ایک پیسہ فنڈز فراہم نہیں کیا اور نہ ہی ترامیم واپس لئے ، پشاور ہائی کورٹ نے بھی ترامیم کو مسترد کرکے اوریجنل ایکٹ کی بحالی اور فنڈز کی فراہمی کیلئے فیصلے صادر کئے ، لیکن پی ٹی آئی حکومت نے آئین و قانون اور عدالتی فیصلوں پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا ۔ مقامی حکومتوں کے نمائندے کئی بار صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے ، لیکن فائرنگ ، وحشیانہ لاٹھی چارج ، واٹر کینن ، گرفتاریوں اور زخموں کے سوا کچھ نہیں ملا ۔ وزیراعلی محمود خان اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور سے سات بار مُلاقات اورمطابات کی منظوری کے متعلق اُنکی طرف سے میڈیا پر اعلانات ، کاروائی اجلاس ہائے کی جاری ہونے کے باوجود اختیارات اور فنڈز بحال نہیں کی۔پی ٹی آئی اپنے لئے تو آئین و قانون اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کی بات کرتی ہے ، لیکن خود انکا اپنا طرز عمل بلکل اُلٹا ہے ، مقامی حکومتوں کے حوالہ سے آئین و قانون اور عدالتی فیصلوں کو اُنکی صوبائی حکومت کے منتخب اور تعینات عہدیدار ہر لمحہ پاؤں تلے روند رہے ہیں ۔مقامی حکومتیں آئین کی آرٹیکلز 140اے ، 32, 37 کلاز آئی کی پیداوار ہے اور مضبوط ، با اختیار ، فعال بلدیاتی نظام کا تقاضا کرتی ہے ، سیاسی مالی اور انتظامی اختیارات و زمہ دار یوں کی مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو منتقلی کاحُکم دیتی ہے جبکہ آئین کی ابتدائیہ اور آر ٹیکلز 2اے، 7 ,17 اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی ابتدائیہ واضح اور اعلانیہ قومی ، صوبائی مقامی منتخب نمائندوں پر مشتمل حکومتوں کی مضبوط ، بااختیار اور فعال نظام کی تقاضا کرتی ہے ۔لوکل کونسلز ایسوسیشن خیبر پختونخوا نے ہر فورم پر مضبوط ، بااختیار اور فعال مقامی حکومتوں کے قیام کیلئے آواز بلند کی ہے اور اجلاسوں ، مذاکروں ،احتجاجی مظاہروں اور عدالتی کاروائیوں سے لیکر سیاسی جماعتوں کے مرکزی و صوبائی اور مقامی نمائندوں سے مذاکرات کے سلسلے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔لوکل کونسلز ایسوسیشن خیبر پختونخوا نے 29 اکتوبر 2025 کو نومنتخب وزیراعلی سہیل آفریدی اور وزیر بلدیات مینا خان آفریری کو مقامی حکومتوں کے مسائل پر ملاقات کیلئے خط لکھا گیا ہے ، دوبارہ reminders بھی بھیجے گئے ہیں ، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے ۔ یہ صوبائی حکومت کی غیر سنجیدگی کا عالم ہے ۔ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں ، کہ مضبوط ، بااختیار اور فعال مقامی حکومتوں کے بغیر نچلی سطح پر اچھی حکمرانی کا قیام ، سماجی و میونسپل خدمات کی مستعد فراہمی ، مربوط مقامی ترقی اور ترقیاتی عمل میں عوام کی شراکت داری ناممکن ہے۔مقامی حکومتوں کا بہترین نظام 2001 میں قائم کیا گیا تھا ، پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفع سیاسی انتظامی مالی اختیارات کو اوپر سے نچلی سطح پر اور افسر شاہی سے مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو منتقل کئے گئے تھے ، جوکہ جمہوریت اور فعال جمہوری نظام کا تقاضا ہے ۔ لیکن افسر شاہی نے مسلسل سازش کرکے نظام کو رول بیک کیا اور لنگڑی لونگڑی بے اختیار نظام کے لئے صوبائی اسمبلی کے ممبران کو استعمال کیا ، صوبائی قومی و اسمبلی کے ممبران کی دلچسپی چھوٹے چھوٹے ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری ملازمین کی تعیناتی ، پوسٹنگ و ٹرانسفر میں زیادہ ہوتی ہے، ، جوکہ مقامی حکومتوں کا دائرہ اختیار اور مینڈیٹ ہے ، مقامی حکومتوں منتخب نمائندے اُنکے لئے رُکاؤٹ ہوتے ہیں ، اس لئے وہ بااختیار بلدیاتی نظام کے مخالف ہوتے ہیں ، افسر شاہی اسکو استعمال کرکے نظام کو بے اختیار اور غیر فعال بنا دیتی ہے ۔ حالانکہ ممبران سینٹ قومی و صوبائی اسمبلی کا اختیار قانون سازی اور پالیسی سازی میں حکومتوں کی رہنمائی تک محدود ہے ۔18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس انتظامی و مالی اختیارات کی بڑی منتقلی ہوئی ہے ، جوکہ صوبائی حکومتوں سنبھالی نہیں جارہی ہے ، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے، کہ 2001 مقامی حکومتوں کی نظام کے مقابلہ میں مذید اختیارات کی منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے اسکو یقینی بنا یا جائے ۔اس لئے ہم اس پریس کانفرنس کے ذریعہ مطالبہ کرتے ہیں ، کہ مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کے تمام صوبوں بشمول اسلام آباد میں مضبوط ، بااختیار اور فعال بلدیاتی نظام کیلئے آئین پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کیلئے پورا باب شامل کیا جائے ، جس میں بلدیاتی نظام کے خدوخال ، انتخابات ، میعاد ، تسلسل ، اختیارات ، زمہ داریاں قانونی طور پر واضح و لازم درج ہو ۔ صوبائی حکومتوں کو بھی اختیارات کی منتقلی پلان کے اغراض و مقاصد بہترین عوامی مفاد میں قبول و منظور اور عملی بنانے کیلئے آگے بڑھنا چاہئے ۔ 
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے چار سال تک مقامی کو غیر فعال ، غیر مؤثر اور بے اختیار بنایا ہوا ہے ، خیبر پختونخوا حکومت کے منتخب اور تعینات عہدیداروں نے آئین و قانون کو معطل ، منسوخ رکھکر آرٹیکل 6 کے تحت جُرم کا ارتکاب کیا ہے ، اس لئے وفاقی حکومت تمام حالات کا جائزہ لیکر مناسب کاروائی کیلئے اقدامات اُٹھائے۔صوبائی حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کرتے ہیں ، کہ مقامی حکومتوں کے حوالہ سے اپنی غیر آئینی ، غیر قانونی رویہ و روش اور طرزعمل سے باز آجائے اور مقامی حکومتوں کو حکمرانی کا تیسرا درجہ ( tier) تسلیم کرکے مقامی حکومتوں کو اختیارات منتقل کرکے مداخلت سے باز آجائے ۔مقامی حکومتیں عوام کی حکومتیں ہوتی ہیں ، مقامی حکومتوں کو مضبوط ، بااختیار اور فعال بناکر ہی نچلی سطح پر اچھی حکمرانی ، سماجی و میونسپل خدمات کی بہترین فراہمی ، مربوط مقامی ترقی ، عوامی شراکت داری اور روزانہ کے مقامی مسائل کا نظام قائم ہوسکتی ہے ۔حمایت اللہ مایار صدر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن مئیر مردان کے علاوہ عزیز اللہ خان مروت ترجمان ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا،انتظار خلیل کوارڈنیٹر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا،رفیع اللہ خان تحصیل چئیرمین دیر بالا،ارباب وصال پارلیمانی لیڈر عوامی نیشنل پارٹی،غیور خان تحصیل چئیرمین پبی،ہارون صفت تحصیل چئیرمین عبدالبصیر مہمند،ہمایون خان تحصیل ڈیر اسماعیل خان اور دیگر بھی پریس کانفرنس میں شریک تھے۔






