زیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا اپنی ٹیم کے ساتھ ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بینہسن اور انکی ٹیم کے ساتھ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ورلڈ بینک کی ڈولپمنٹ پورٹ فولیو کی پیش رفت پر بات چیت ہوئی۔وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری اور متعلقہ افسران شریک تھے۔ورلڈ بینک کی ٹیم میں کنٹری ڈائریکٹر کے ساتھ ان کے سیکٹر ہیڈز اجلاس میں موجود تھے۔ورلڈ بینک کے 13 منصوبے 3.1 ملین ڈالرز کی مالیت سے جاری ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے مزید بتایا کہ ورلڈ بینک نے 3.1 ملین ڈالرز میں سے 1.3 ملین ڈالرز جاری کئے ہیں۔سندھ فلڈ ایمرجنسی ریہیبلی ٹیشن پروجیکٹ (ایس ای آر پی) پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ایس ای آر پی 500 ملین ڈالرز کا پروجیکٹ ہے اور 31 ڈسمبر 2027ء کو مکمل ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سیلاب متاثر آبپاشی کے نظام کی بحالی کام تیزی سے جاری ہے۔تبادلہ خیال کے دوران ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نےپروجیکٹ پر اطمینان کا اظہار کیا۔اور بتایا گیا کہ ایس ای آر پی کیلئے ابھی تک 30.28 ملین ڈالرز جاری ہوئے ہیں۔
ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے اس سال 212 ملین ڈالرز جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی۔فلڈ ہاؤسنگ کی تعمیر نو:
گھروں کی تعمیر کا منصوبہ 500 ملین ڈالرز کا ہے۔ ورلڈ بینک نے فلڈ ہاؤسنگ پروجکیٹ کو بہترین منصوبہ قرار دیا۔اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ فلڈ ہاؤسنگ جون 2027ء میں مکمل کیا جائے گا۔
کراچی موبیلٹی پروجیکٹ (کے ایم پی) کے تحت دو جام صادق پل تعمیر کی گئی ہیں۔ دونوں پلوں کی ڈیزائن مکمل ہوچکی ہیں ، وزیراعلیٰ سندھ کی اجلاس آگاہی دی۔جام صادق پل کے لئے پلنگ ورک کا آغاز ہوگیا ہے۔بی آر ٹی یلو لائن کے بس ڈیپو ٹو پر کام شروع ہوگیا ہے۔یلو لائن کے ڈیپو ون پر اسی ماہ کی 17 تاریخ سے کام شروع کیا جائے گا۔بی آر ٹی یلو لائن پروجیکٹ 260 ملین ڈالرز کا منصوبہ ہے۔کلک پروجیکٹ کے 9 منصوبوں پر کام شروع کیا گیا ہے۔
مزید 18 اسکیموں پر کام جلد شروع کیا جائے گا، وزیراعلیٰ سندھ نے مزید بتایا کہ ٹاؤنز اور کے ایم سی کیلئے 73 سکیموں میں سے 25 سکیموں کا کام ہوچکا ہے
شہر کراچی کے مختلف ٹاؤنز میں 64 اسکیموں کے کاموں کا اشتہار دیا گیا ہے۔






