بخدمت جناب وزیر محکمہ لوکل گورنمنٹ پنجاب
اسلام وعلیکم سر
امید ہے آپ خیریت سے ہونگے اور اللہ تعالی ہمیشہ آپکو اپنی رحمت کے سایہ میں رکھے۔
آپ کے زیر سایہ محکمہ لوکل گورنمنٹ (میونسپل کمیٹیوں )میں ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں-
میڈیا کے توسط سے یہ بات میرے علم میں آئی ہے کہ آپ کے زیر سایہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ ۲۰۲۲ میں مجوزہ ترامیم کی بابت کاروائی جاری ہے۔ مذکورہ ترامیم میں سے ایک ترمیم ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کی بابت بھی مجوزہ ہے- جس میں ڈپٹی ڈائریکٹرز لوکل گورنمنٹ کو بطور ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹیز تعینات کیا جانا زیر بحث ہے-
عالیجاہ! اس سلسلہ میں چند ایک گزارشات ہیں۔
۱- ایکٹ کی روشنی میں تمام لوکل گورنمنٹس کے سر براہ چیئرمین ہوتے ہیں اور چئیرمین عوامی لوگ ہوتے ہیں اور ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو مطمئن کرنا بھی جانتے ہیں اور کسی بھی ناگہانی صورت میں بہتر فیصلہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں
۲- چیئرمین حضرات کی عدم موجودگی میں یہ ڈیوٹی ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز کو بطور ایڈمنسٹریٹرز تفویض کی گئی ہے۔ مذکورہ آفیسران معاشرے کے ذہین اور اعلی صلاحیت کے حامل افراد ہوتے ہیں ۔ وہ بھی عوام کے مسائل کوحل کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اور عوام کی ایڈمنسٹریشن کو سمجھتے ہیں اور کسی بھی مشکل وقت میں بہتر فیصلہ کرنے کی ذہنی قوت کے حامل ہوتے ہیں ۔ اور اس طرح وہ لوکل گورنمنٹس کے لیے ایک بہتر ایڈمنسٹریٹر کے طور پر ثابت ہوئے ہیں۔
جناب عالی
۳- ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو اگر بطور ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا گیا تو اداروں کی گڈ گورننس متاثر ہوگی ۔ چونکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ز کے پاس نہ تو ایڈمنسٹریشن کا تجربہ ہے اور نہ ہی ان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ عوام کے پریشر کا سامنا کر سکیں ۔ یقین کریں تو ان سے بہتر ایڈمنسٹریشن کا تجربہ چیف آفیسرز کے پاس ہے ۔ وہ میونسپل کے معاملات ڈپٹی ڈائریکٹر ز کی نسبت زیادہ اچھے طریقہ سے چلا سکتے ہیں ۔
ویسے بھی پنجاب میں اکثر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ز کے پاس ڈی ڈی ایل جی کا چارج ہے ۔ تو اسطرح چیف آفیسرز اور ڈی ڈی ایل جیز کے درمیان سینئر اور جوئینرز کی ٹکر چل پڑے گی۔ جو اداروں کے لیے ایک اچھا شگون نہ ہے. محکمہ پہلے ہی کوئی بہت اچھے حالات میں نہیں چل رہا ہمیں امید تھی کہ نیو سیٹ اپ ایا ہے نیو منسٹر صاحب ائے ہیں انشاءاللہ محکمہ اور بہتر مضبوط ہوگا مگر اس طرح کی ترامیم محکمہ غور کمزور کریں گی اور روزانہ کی پبلک ڈیلنگ ہے 100 طرح کی روز لڑائیاں ہیں ہماری بات تو ایک سپاہی نہیں سنتا اگر ہمارے ایڈمنسٹریٹرز یہ بڑے افسران نہ ہوں ہمیں تو لوگ کمیٹیوں میں گھس کے ماریں تو براہ کرام کمیٹیوں کی عزت احترام اور اپ جناب کا کوئی بھی حکم اچھے طریقے سے نافذ العمل ہوگا یہ افسران ہمیں ہر لحاظ سے سپورٹ کرتے ہیں اے ڈی ایل جیز ابھی اتنے جو کہ نہیں ہیں اور کبھی ہو بھی نہیں سکتے کیونکہ یہ لوکل گورنمنٹ ہے تو یہاں تو لوگوں کو کوئی کمزور افسر چاہیے ہوتا ہے اس کو تو لے دے جاتے ہیں مرکز سے صوبے سے اتنی سپورٹ نہیں اتی مہربانی فرما کر ڈیپارٹمنٹ کو اور مضبوط کیا جائے اور اس میں بہترین ترامیم کی جائیں تاکہ یہ ڈیپارٹمنٹ چلے چیف افسران کو سنا ہی نہیں جا رہا سینیئر ترین افسر ہیں قابل ترین لوگ ہیں ہر وقت کی پبلک ڈیلنگ ہے ان حالات میں بھی ڈیپارٹمنٹ چلا رہے ہیں ہمیں تھا کہ چیف افسران کے ساتھ کوئی کانفرنس کی جائے گی کوئی ان کی بات سنی جائے گی لیکن ہمیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی بندہ بھی بات سننا ہی نہیں چاہ رہا
درخواست ہے کہ جو ایڈمنسٹریٹرز پہلے سے تعینات ہیں ان ہی کو یہ ڈیوٹی تفویض کی جائے اگر موجودہ صورتحال میں ایسا ممکن نہ ہے تو صوبہ کے پی کے کیطرح چیف آفیسرز کو ہی کیئر ٹیکر کے اختیارات دیے جا سکتے ہیں
اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کو کسی بھی صورت میں بطور ایڈمنسٹریٹرز نامزد نہ کیا جائے چونکہ اس سے پہلے ایک بار یہ تجربہ ناکام ہو چکا ہے جب اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور تحصیلداران کو بطور ایڈمنسٹریٹرز تعینات کیا تھا۔ ایک ہی سکیل کے آفیسرز کو دوسرے کا سربراہ تعینات کرنا قرین انصاف نہ ہے
امید ہے آپ ہماری گزارشات کو محکمہ کی گڈ گورننس کے لیے ضرور قبول فرمائیں گے
والسلام
افسران لوکل گورنمنٹ سروس پنجاب






