انوکھی مشین برائے گلوبل وارمنگ حل

 

دنیا گلوبل وارمنگ اور اسکے نتیجے میں ھونے والی Climate Change سے شدید متاثر ھو رہے ہیں اسکی حالیہ مثال دوبئی میں غیر معمولی اور طوفانی بارشیں ہیں ۔

 

ان مسائل کے حل کے لیے قدرت نے فری سولر مشینیں مہیا کر رکھی ہیں لیکن حضرت انسان ان مشینوں کو اکھاڑ اکھاڑ کر اپنے گھر تعمیر کر رہا ھے۔ یہ انوکھی مشین برائے تحفظ ماحول "درخت” کہلاتی ھے۔

 

گلوبل وارمنگ میں 60 % رول کاربن ڈائی آکسائڈ کا ھے۔ گلوبل وارمنگ گیسیں سورج کی زائید حرارت کو روک لیتی ہیں اور نتیجتاً 6کلومیٹرز اوپر تک گرمی بڑھ جاتی ھے اور پانی کا تبخیر بڑھ جاتا ھے ھواؤں اور بادلوں میں Turbulence بڑھ جاتا ھے جس سے طوفانی بارشیں اور ھواؤں کے طوفان آتے ہیں ۔ موسم کی Sustainability ختم ھو چکی ھے۔ پودے کا 100% انحصار ماحول سے مطابقت (Compatibility) پر ھے بری طرح متاثر ھو رہے ہیں اور Food Insecurity کے مسائل جنم لے چکے ہیں ۔

 

پودے سولر انرجی سے چلتے ہیں ۔ یہ سولر انرجی یعنی حرارت اور گلوبل وارمنگ پیدا کرنے والی کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کو جذب کر کے ھمارے لیے فوڈ، فیڈ اور ایندھن (لکڑی)بناتے ہیں ۔ اسکے علاہ کروڑوں لوگوں کی روزی کا انحصار درختوں و فصلوں پر ھے۔ پھل فروٹ، لکڑی ، ادویات ، Ecosystems, Food Chains, جانوروں اور ھماری خوراک کا Direct اور Indirect انحصار درختوں پر ھی ھے۔

 

درخت دنیا میں روزانہ کروڑوں ٹن لکڑی پیدا کرتے ہیں اور پودے یہ لکڑی گلوبل وارمنگ گیس کو جذب کرکے ھی بناتے ہیں ۔

 

ایک نارمل پودا سال میں 25 کلوگرام کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتا ھے اور 100 کلوگرام آکسیجن پیدا کرتا ھے۔

 

ایک انسان کا کاربن فٹ پرنٹ 4 سے 16 ٹن سالانہ ھے اس لئے ہر انسان گلوبل وارمنگ میں حصہ دار ھے۔ ھم سب ماحول کے سب سے بڑے Consumers ہیں لیکن ان Consumers میں سے کوئی بھی اسکا بل نہیں دیتا یعنی Compensate نہیں کرتا۔ اس طرح تو کوئی نظام نہیں چل سکتا ۔ یہ واحد نظام ھے جو Non payment پر آپ کا کنیکشن منقطع نہیں کرتا لیکن Consumers کو کچھ خیال کرنا چاہییے کہ اس نظام کے Resources کو احتیاط سے استعمال کرے۔

 

ایک انسان اپنی روزی مرہ زندگی میں جو بھی activities کرتا ھے اس میں ڈائریکٹ یا Indirect جو کاربن Emissions ھوتی ہیں وہ اسکا کاربن فٹ پرنٹ کہلاتا ھے۔ مثلاً گاڑی، ڈیزل انجن کو فیول، AC, بجلی کا استعمال ، کھانے پکانے کے لیے سوئی گیس کی استعمال ، بسوں پر سفر، خوراک ضائع کرنا جس کے گلنے سڑنے سے کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا ھوتی ھے، زیادہ دیر تک نہانا، ناجائز پنکھے، لائینیں چلائے رکھنا وغیرہ ۔

 

بڑے شہروں میں 85 فیصد تک آلودگی ٹریفک کی وجہ سے ھے جو عام پبلک ھی استعمال کرتی ھے۔ صنعتی آلودگی 10 % تک ھے۔

جواب دیں

Back to top button