چیئرمین سی ڈی اے نے منصوبے پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا.چیئرمین سی ڈی اے کو منصوبے پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں اور ان کے تکمیلی شیڈول کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ جناح ایونیو انٹرچینج پر فلائی اوور کے باکس گرڈرکی بیس سلیب مکمل ھو چکی ہے۔منصوبے کی ورٹیکل اور فائنل سلیب رواں ماہ مکمل ھو جائے گئی۔ جناح ایونیو سے ایف ٹین کی جانب برج پر 2 ڈیک سلیبز کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے نے جناح ایونیو سے ملحقہ ایف ٹین برج پر مکمل کی گئ ڈیک سلیبز کے کام کا بھی معائنہ کیا۔چیئرمین سی ڈی اے نے F-10 راؤنڈ آباؤٹ پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لئے انجینئرنگ ری ماڈلنگ ڈیزائن منصوبے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
چیئرمین سی ڈی اے کو جناح ایونیو پر تعمیر کیے جانے پروٹیکٹڈ یوٹرن کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی ۔چیئرمین سی ڈی اے کو منصوبے میں آنے والے درختوں کی منتقلی کے حوالے سے بھی آگاہی دی گئی۔جس کے مطابق منصوبے کی سلپ روڈز کو ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کوئی بھی درخت متاثر نہ ہو۔پی ایچ اے سے ٹری ٹرانسپلانٹر حاصل کرکے بڑے درختوں کی متبادل جگہوں پر کو باحفاظت منتقلی کو یقینی بنایا جائے، چیئرمین سی ڈی اے نےچیئرمین سی ڈی اے نے تعمیراتی کاموں میں آنے والے درختوں کی مکمل حفاظت کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔محمد علی رندھاوا نے کہا کہ منصوبے کو ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس کا کوئی بھی درخت متاثر نہ ہو۔چیئرمین سی ڈی اے کو ناظم الدین روڈ پر ایف ٹین روڈ سے ملحقہ تعمیر کئے جانے والے پروٹیکٹڈ یوٹرن پر بھی متعلقہ افسران نے بریفنگ دی۔پروٹیکٹیڈ یوٹرن سے ایک درخت متاثر ہو رہا تھا جس کے باعث منصوبے کے ڈیزائن میں معمولی تبدیلی کی گئی ہے۔محمد علی رندھاوا نے کہا کہ ایف ٹین راؤنڈ آباؤٹ میں آنے والی سروس لائنز کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔منصوبے کے تمام حصوں پر 24/7 تعمیراتی سرگرمیاں شیڈول کے مطابق جاری ہیں۔چیئر مین سی ڈی اے کا جناح ایونیو انٹرچینج پر اب تک کے تعمیراتی کاموں پر اظہار اطمینان کیا ۔بعد ازاں، چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے سرینا انٹرچینج منصوبے پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا ۔سرینا انٹرچینج منصوبے کے حوالے سے متعلقہ افسران کی چیئرمین سی ڈی اے کو بریفنگ دی گئی ۔سہروردی روڈ پر سرینا انڈر پاس کو فنشنگ کے بعد ٹریفک کیلئے مکمل کھول دیا گیا ہے۔ سری نگر ہائی وے پر زیر تعمیر دونوں انڈر پاسسز کو رواں ماہ ٹریفک کیلئے کھول دیا جائے گا۔منصوبے کو خوبصورت بنانے کیلئے لینڈ سکیپنگ اور ہارٹیکلچر ورک کے کام کو یقینی بنایا جائے، محمد علی رندھاوا نے مزید ہدایت کی کہ منصوبے کے اطراف دیدہ زیب مستقل لائٹس اور ڈیجیٹل سکرینز بھی نصب کی جائیں۔ تعمیراتی کاموں کے اعلیٰ معیار کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔کنسلٹنٹس اور ریزیڈنٹ انجنئیرز سائٹ پر معیار اور تیز تر تعمیراتی سرگرمیوں کو یقینی بنائیں۔ان منصوبوں کی تکمیل سے اسلام آباد شہر کے انفراسٹرکچر میں جدت کے ساتھ ٹریفک کے دیرینہ مسائل پر قابو اور شہریوں کو سگنل فری سہولیات میسر ہوگی۔






