اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ سید خالد حیدر شاہ، اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، پروجیکٹ ڈائریکٹر کلک عائشہ حمید، میونسپل کمیشنر کے ایم سی سمیت تمام ٹائونز کے میونسپل کمشنرز نے شرکت کی۔

اجلاس میں کراچی شہر میں تجاوزات کے خاتمہ، شہر کی اہم شاہراہوں سمیت تمام ٹائونز کی شاہراہوں سے تجاوزات کے فوری خاتمہ، تمام ٹائونز میں ڈیبریز کے فوری خاتمہ، ہیروئینوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائی سمیت دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعلٰی سندھ نے شہر میں تجاوزات پر نہ صرف اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے بلکہ وہ اس سلسلے میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔ وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ فوری طور پر پہلے مرحلے میں کراچی کی 30 اہم شاہراہوں جس کی نشاندہی کے ایم سی اور تمام ٹائونز کے میونسپل کمیشنرز کریں گے، ان پر اینٹی انکروچمنٹ مہم کا آغاز کیا جارہا ہے۔چند روز کے بعد دوسرے فیز میں تمام ٹائونز کی اندرونی شاہراہوں اور گلیوں میں اس مہم کو تیز کیا جائے گا۔ تمام ٹائونز یا کے ایم سی کی جانب سے دئیے گئے کسی بھی قسم کے عارضی اجازت نامے فوری طور پر منسوخ کئے جارہے ہیں۔ تمام ٹائونز کے میونسپل کمیشنرز آئندہ 24 گھنٹوں میں اپنے ٹائونز میں روڈ کٹینگ، عارضی اجازت ناموں، چارجڈ پارکنگ چاہے وہ ٹائون کی ہو یا کے ایم سی و دیگر کسی اداریے کی، ان تمام کی گزشتہ ایک سال میں آمدنی اور دیگر کی رپورٹ پیش کریں گے۔
کن کن سڑکوں پر چارجڈ پارکنگ کی اجازت دی گئی ہے، اس کی مکمل تفصیل اور اس سے سال میں آمدنی کی رپورٹ بھی پیش کی جائے۔ٹائونز میں کتنے جنریٹرز، ہوٹلوں اور بلڈنگ میٹیریل کو عارضی اجازت نامے دئیے گئے ہیں اس کی مکمل رپورٹ بھی 24 گھنٹے میں پیش کی جائے۔
ہیرونچیو کا مسئلہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے اور اب سوشل اشیو بن گیا ہے، اس کے سدباب کو یقینی بنانا ہوگا۔ سندھ حکومت کی جانب سے ٹائونز اور یوسی کے او زی ٹی شئیر میں اضافہ کیا گیا، جو کا مقصد ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کی ادائیگی وقت پر کرنے کے ساتھ ساتھ ٹائونز کی اپنی آمدنی اور او زی ٹی کی بچنے والی رقم سے ترقیاتی کام کروائے جائیں۔ ہر یوسی کو 5 لاکھ کی جگہ 12 لاکھ روپے دئیے گئے ہیں لیکن ان کو کس مد میں کتنی رقم کہاں خرچ کرنا ہے اس کا بھی شیڈول دیا جارہا ہے، جس کے بعد جو اس پر عمل نہیں کرے گا اس کا اکاؤنٹ بند کردیا جائے گا۔دگنے سے زائد فنڈز کے اجراء کے اثرات عوام کو نظر آنے چاہیے، کیونکہ ہم عوامی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔ اجلاس میں تمام ٹائونز کے میونسپل کمشنرز نے اپنی اپنی رپورٹ پیش کی تاہم رپورٹ مکمل نہ ہونے کے باعث تمام کو ہدایات دی گئی کہ وہ 24 گھنٹے میں اپنی مکمل رپورٹ ایڈیشنل چیف سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے پاس جمع کروائیں۔






