عمران خان کا ویژن ہے کہ معاشی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے، مقروض قوم کبھی عظیم قوم نہیں بن سکتی،علی امین گنڈاپور

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کا ڈائریکٹوریٹ آف ایگریکلچر ایکسٹینشن کا دورہ کیا ۔ وزیراعلیٰ کی فوڈ سکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے تحت فیلڈ اسٹاف میں موٹر سائیکل تقسیم کرنے کی تقریب میں شرکت، صوبائی وزیر زراعت میجر (ر) محمد سجاد کے علاؤہ دیگر اراکین صوبائی کابینہ، ممبران صوبائی اسمبلی اور محکمہ زراعت کے حکام بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

وزیراعلٰی علی امین خان گنڈاپور نے محکمہ زراعت کی طرف سے لگائے مختلف زرعی اسٹالز کا معائنہ کیا۔ وزیراعلی نے زیتون سے تیل نکالنے کے لئے پلانٹس کا بھی افتتاح کیا۔ وزیراعلٰی نے محکمہ زراعت کے فیلڈ اسٹاف میں 500 موٹر سائیکل بھی تقسیم کئے۔ خیبر پختونخوا فوڈ سکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور جاپان کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔ پراجیکٹ کا مقصد صوبے میں فوڈ سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔ یہ منصوبہ 5 سالوں پر محیط ہے جس کا تخمینہ لاگت 88 ملین ڈالر ہے۔اس پراجیکٹ کے تحت سیلاب سے متاثرہ اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، سوات، ملاکنڈ اور دیر بالا میں زراعت کے شعبے میں مختلف اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ پراجیکٹ کے تحت موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت کو فروغ دینے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔ ساڑھے 4 لاکھ کسانوں کو تصدیق شدہ بیج اور کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ سبزیوں کی پیداوار میں اضافے کیلئے Vertical Farming کو فروغ دیا جائے گا۔ پروگرام کے تحت ادارہ جاتی صلاحیت میں بہتری کیلئے کسانوں کا یکجا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔ کیڑوں مکوڑوں کی تلفی اور فصل کی جانچ کیلئے آئی ٹی پر مبنی نظام وضع کیا جائے گا۔ اسی طرح 28,000 خواتین کو کچن گارڈننگ اور فوڈ پروسیسنگ کی تربیت دی جائے گی۔ بیج کی صفائی، ذخیرہ اور کیمیکل سیفٹی کیلئے کٹس کی فراہمی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔

تقریب سے وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قدرت نے خیبر پختونخوا کو بے شمار وسائل سے نوازا ہے، صوبے میں زراعت کے شعبے میں بے پناہ استعداد موجود ہے، بدقسمتی سے ماضی میں ان وسائل سے استفادہ کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے۔ان وسائل سے مؤثر استفادہ کرکے صوبے اور ملک کو معاشی طور پر خود کفیل بنایا جاسکتا ہے، بدقسمتی سے اتنے وسائل ہونے کے باوجود ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ بانی چئیرمین عمران خان کا ویژن ہے کہ معاشی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے، مقروض قوم کبھی عظیم قوم نہیں بن سکتی۔زراعت کے شعبے کی ترقی ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ زراعت کے شعبے کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اصلاحات متعارف کرا رہے ہیں۔ہم استعداد والے تمام شعبوں میں بھر پور سرمایہ کاری کر رہے ہیں، موجودہ صوبائی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں صوبے کی آمدن میں 44 فیصد ہوا ہے، ہماری کوشش ہے کہ صوبے کی آمدن میں 100 فیصد اضافہ کریں۔زراعت کے شعبے میں جاری منصوبوں کی جلد تکمیل کے علاؤہ نئے منصوبے بھی شروع کر رہے ہیں، رواں مالی سال زراعت کے شعبے کے بجٹ میں 54 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔صوبے میں آبی وسائل کے تحفظ اور بنجر اراضی کو سیراب کرنے کے لئے متعدد منصوبے شروع کئے گئے ہیں، سی آر بی سی منصوبے کے علاؤہ چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کے منصوبے شروع کئے جارہے ہیں۔ان منصوبوں سے صوبے کی لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی سیراب ہوگی، یہ منصوبے نہ صرف صوبے بلکہ ملک کی فوڈ سکیورٹی کے لئے اہمیت کے حامل منصوبے ہیں۔فی ایکڑ پیداوار کو بڑھانے کے لئے جدید فارمنگ متعارف کرارہے ہیں، ہمارا ہدف نہ صرف زرعی پیداوار میں خود کفالت ہے بلکہ برآمدات بڑھا کر زرمبادلہ بھی کمانا ہے۔

جواب دیں

Back to top button