گلگت. وزیر تعلیم گلگت بلتستان شہزاد آغا نے اساتذہ کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ تعلیم میں ماضی میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور اساتذہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر منصفانہ سلوک پر افسوس کا اظہار کیا اور واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ

ان کی حکومت اساتذہ جاری ہے کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ماضی میں محکمہ تعلیم کے بعض افسران کی جانب سے اساتذہ کے ساتھ ناروا سلوک اور ناانصافیاں روا رکھی گئیں جن کے باعث تدریسی عمل متاثر ہوا اور اساتذہ کا اعتماد محکمہ سے اٹھ گیا۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ان تمام مظالم اور زیادتیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ ہماری حکومت اصلاحات کے عمل کو یقینی بناتے ہوئے ان عناصر کے خلاف کارروائی کرے گی جنہوں نے اس مقدس پیشے کو بدنام کیا۔وزیر تعلیم نے اساتذہ کو آئینی و قانونی تحفظ کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا قانونی حق ہے اور بطور اساتذہ آپ نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ حکومت نہ صرف آپ کے حق کو تسلیم کرتی ہے بلکہ دھرنے میں شرکت کرنے والے کسی بھی ٹیچر کے خلاف کسی بھی قسم کی محکمانہ کارروائی نہیں کی جائے گی۔ دھرنے کے دوران جو لیٹر سے نکلے ہیں۔ ٹیچروں کے خلاف انکوائری ختم کی جائے گی ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ بطور وزیر تعلیم خود کو اساتذہ کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور ان کی آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اساتذہ کے تمام جائز مطالبات پر ہمدردی سے غور کر رہی ہے اور متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں کہ وہ فوری طور پر مسائل کے حل کے لیے لائحہ عمل مرتب کریں۔وزیر تعلیم نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ طلباء کے وسیع تر مفاد میں دھرنے کو پرامن طریقے سے ختم کریں اور کل سے اپنے اپنے اسکولوں میں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز کریں تاکہ تعلیمی نظام میں مزید خلل نہ آئے۔انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ کی جدوجہد صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کو درست سمت میں گامزن کرنے کے لیے ہے، اور حکومت آپ کے جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔آخر میں وزیر تعلیم نے اساتذہ برادری کو یقین دلایا کہ موجودہ حکومت اساتذہ کی فلاح و بہبود، سروس سٹرکچر، ترقیوں، تبادلوں اور دیگر اہم امور کو مکمل دیانتداری سے حل کرے گی، تاکہ گلگت بلتستان کا تعلیمی نظام مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے۔






