بلدیہ عظمٰی لاہور کے شعبہ پلاننگ نے واہگہ بارڈر کے ایریا میں سینکڑوں غیر قانونی تعمیرات کروا کر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں۔واہگہ زون میں غیر قانونی تعمیرات کی 134 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ پر کوئی خاص کارروائی نہ ہوسکی۔ملوث افسران اور ملازمین کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔جن زونل آفیسر پلاننگ ارم الطاف،بلڈنگ و انفورسمنٹ انسپکٹرز ارسلان جمیل،صنابل صلاح الدین،محمد سلیم،حافظ عاقب اور تنویر منج شامل ہیں۔واہگہ زون کی انکوائری رپورٹ میٹروپولیٹن آفیسر آرکیٹیکٹ ایم سی ایل ڈاکٹر رائے امتیاز حسن نے مکمل کر کے لوکل گورنمنٹ کو مزید کارروائی کے لئے بجھوائی تھی۔لوکل گورنمنٹ بورڈ کی طرف سے صنابل صلاح الدین جو مرکزی کردار ہیں کو بلڈنگ انسپکٹر سے ہٹا کر بورڈ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے
یہ بات اہم ہے کہ اس اہم انکوائری رپورٹ کے بعد انتہائی حساس اور اہم واہگہ زون میں غیر قانونی رہائشی اور کمرشل تعمیرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔واہگہ بارڈر سے ملحقہ علاقے بھی غیر قانونی تعمیرات کی زد میں ہیں۔جہاں جعلی بلڈنگ و انفورسمنٹ انسپکٹرز سرگرم ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ، ایڈمنسٹریٹر اور متعلقہ افسران کسی قسم کی کارروائی سے گریزاں ہیں۔واہگہ زون میں حافظ قاسم اور رانا سجاد نامی دو ملازموں کو بلڈنگ و انفورسمنٹ انسپکٹرز بنا کر کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔دونوں ملازمین کا شعبہ پلاننگ سے کوئی تعلق ہے نہ ہی اس شعبہ میں ان کے آرڈر ہیں۔پاک بھارت جنگ اور تنازعہ پر بھی واہگہ زون میں غیر قانونی تعمیرات کو فرق نہیں پڑا۔یہ لاہور کا واحد زون ہے جہاں جعلی نقشے منظور کرنا بھی معمول ہے۔جن میں فارم ہاؤسز،انڈسٹریل اور کمرشل نقشے شامل ہیں۔واہگہ زون کے ممنوعہ اور سرحدی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات ڈپٹی کمشنر و ایڈمنسٹریٹر کی توجہ کی منتظر ہیں۔جعلی پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے ساتھ جعلی بلڈنگ و انفورسمنٹ انسپکٹرز کو گرفتار کرنے سے ہی ایسی غیرقانونی تعمیراتی سرگرمیوں کی روک تھام ممکن ہے۔






