آئل اینڈ گیس کے شعبے میں خیبر پختونخوا حکومت کی اہم کامیابی،شمالی وزیرستان میں واقع میران بلاک میں تیل و گیس کی دریافت کے لئے معاہدے پر دستخط کر دیئے گئے ۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب پختونخوا ہاوس اسلام میں منعقدہوئی ۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ وفاقی وزارت پیٹرولیم ، محکمہ توانائی خیبر پختونخوا کے علاوہ شراکت دار کمپنیوں کے اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ، آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے درمیاں معاہدے پر دستخط ہوئے ۔ معاہدے کے تحت کے پی او جی سی ایل خیبر پختونخوا حکومت کے واحد ہولڈنگ کمپنی کی حیثیت سے میران بلاک میں سب سے زیادہ یعنی 51 فیصد شیئرز کا مالک ہوگا، باقی 49 فیصد شئیرز کی ملکیت او جی ڈی سی ایل اور دیگر کمپنیوں کے کنسورشیم کے پاس ہوگی، معاہدے کے تحت کے پی او جی سی ایل مذکورہ بلاک میں 51 فیصد منافع کا بھی مالک ہوگا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے پر اگلے تین سالوں میں 20 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی، یہ ساری سرمایہ کاری او جی ڈی سی ایل اور کنسورشیم میں شامل کمپنیاں کریں گی، سرمایہ کاری میں کسی بھی نقصان یا خسارے کی صورت میں صوبائی حکومت کو کوئی نقصان نہیں اٹھانے پڑے گا، میران بلاک میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر ملنے کے امکانات ہیں۔وزیراعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ میران بلاک ایکسپلوریشن کے لئے معاہدے پر دستخط نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک کے لئے اہمیت کا حامل ہے، میران بلاک میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں جن کی ایکسپلوریشن سے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی، کے پی او جی سی ایل اور دیگر قومی کمپنیوں کے درمیان یہ معاہدہ ایک بڑی کامیابی کی شروعات ہے، اس اہم کامیابی پر میں کے پی او جی سی ایل، او جی ڈی سی ایل اور کنسورشیم میں شامل دیگر کمپنیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔میران بلاک کی ایکسپلوریشن سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، علاقے کے لوگوں کو روزگار کے بے پناہ مواقع ملیں گے اور عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوگا، ملک خصوصا خیبر پختونخوا میں بے پناہ قدرتی وسائل موجود ہیں لیکن ماضی میں ان وسائل سے بھر پور استفادہ کرنے پر خاص توجہ نہیں دی گئی۔

ہمارے پاس سستی پن بجلی کے بے پناہ وسائل ہونے کے باوجود بجلی بنانے کے لئے فرنس آئل اور ایل این جی امپورٹ کیا جاتا ہے، ماضی کے ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک آج 76 ہزار ارب روپے کا مقروض ہے، ملک کو قرضوں کے اس بوجھ سے نکالنے کے لئے سب کو مل کر ایک لائحہ عمل تیار کرکے اس پر عمل کرنا ہوگا، ہم اپنے قدرتی وسائل کا دانشمندانہ استعمال کرکے ملک کو خود کفالت کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ملک میں توانائی کی ضروریات کے سلسلے میں خیبر پختونخواہ کا بہت بڑا کردار ہے، ملک میں تیل کی مجموعی پیداوار کا 42 فیصد حصہ خیبر پختونخوا پیدا کرتا ہے، گیس کی مجموعی پیداوار کا 13 فیصد حصہ خیبر پختونخوا میں پیدا ہوتا ہے، اسی طرح ایل پی جی کی مجموعی پیداوار کا 40 فیصد حصہ خیبر پختونخوا پیدا کرتا ہے۔
ہم نے صوبے میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت کرنے کے لئے بجٹ میں تین ارب روپے مختص کئے ہیں، صوبائی حکومت میران بلاک ایکسپلوریشن پر کام کرنے والی کمپنیوں کو ہر ممکن سکیورٹی فراہم کرے گی۔






