وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کچے کے ڈاکوؤں کا خاتمہ کسی صورت قابلِ مذاکرات نہیں، یہ ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔انہوں نے چیف سیکریٹری آصف حیدر کو ہدایت دی کہ کچے کے انفراسٹرکچر کے لیے تفصیلی منصوبہ تیار کریں، جس میں سڑکیں، اسکول، اسپتال، ڈسپنسریاں اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات شامل ہوں۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ سیلاب کی صورتحال بہتر ہوتے ہی بحالی اور ترقیاتی منصوبے شروع کر دیے جائیں گے۔یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس غلام نبی میمن، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، پرنسپل سیکریٹری آغا واسع، کمشنر کراچی حسن نقوی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آزاد خان، چیف آپریٹنگ آفیسر واٹر بورڈ اسد اللہ خان اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے پولیس حکام کو ہدایت دی کہ ڈاکوؤں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن میں مزید تیزی لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقے سیلاب کی زد میں ہیں اور جرائم پیشہ عناصر وہاں سے نکل گئے ہوں گے یہی وقت ہے کہ انہیں ختم کر دیا جائے۔ ہر حال میں آپریشن کو تیز کیا جائے۔وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار اور انسپکٹر جنرل پولیس غلام نبی میمن نے وزیراعلیٰ کو آپریشن کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اکتوبر 2024 سے کچے کے علاقے میں ٹیکنالوجی پر مبنی آپریشنز میں تیزی لائی گئی ہے۔اب تک 760 ٹارگٹڈ آپریشنز اور 352 سرچ آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔ جنوری 2024 سے اب تک 159 ڈاکو ہلاک کیے گئے ہیں جن میں سکھر میں 10، گھوٹکی میں 14، کشمور میں 46 اور شکارپور میں 89 شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 823 مجرم گرفتار کیے گئے جبکہ آٹھ انتہائی مطلوب ملزمان بھی مارے گئے۔ پولیس نے 962 مختلف نوعیت کے ہتھیار بھی برآمد کیے۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ کچے کے ڈاکوؤں کا خاتمہ ناگزیر ہے اور یہ ہر صورت میں یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی کہ کچے کے علاقوں کے لیے جامع ترقیاتی منصوبہ تیار کریں جس میں سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں، ڈسپنسریوں اور ٹرانسپورٹ کی سہولتوں کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی سیلاب کی صورتحال بہتر ہوگی بحالی اور ترقیاتی منصوبے شروع کر دیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گھوٹکی کندھکوٹ پل کی تعمیر پورے علاقے کو کھول دے گی، رابطے بہتر ہوں گے اور امن و امان کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہر حال میں امن و امان کی بحالی ہے۔ایک اور اجلاس میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کراچی میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس اور ٹینکرز کے خلاف کارروائی کا بھی جائزہ لیا۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اب تک 243 غیر قانونی ہائیڈرنٹس مسمار کیے جا چکے ہیں، 212 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور 103 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ فی الحال 3 ہزار 200 ٹینکرز کو کیو آر کوڈ کے ذریعے رجسٹرڈ کیا گیا ہے، جس سے پانی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے اور واٹر بورڈ کی آمدنی میں 6 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ہدایت دی کہ غیر قانونی ٹینکر مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن اس وقت تک جاری رہے جب تک اسے مکمل طور پر ختم نہ کر دیا جائے۔
Read Next
1 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آبادی میں بےقابو اضافے کو سنگین سماجی اور معاشی چیلنج قرار دے دیا
3 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے چیئرمین نیب کی ملاقات، واگذار زمین صوبائی حکومت کے حوالے*
4 دن ago
سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے فنانس کا اہم اجلاس وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی صدارت میں منعقد،متعدد منصوبوں کی منظوری
4 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس،سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی امداد اور بحالی کا جامع پیکج منظور
5 دن ago
میئر ایڈووکیٹ انور علی لہر صاحب کی زیرِ صدارت میونسپل کارپوریشن لاڑکانہ کا عام روایتی اجلاس
Related Articles
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 6.135 ارب روپے سے تعمیر شدہ کورنگی کاز وے پل کا افتتاح کردیا*
5 دن ago
حضرت لال شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے7 سے9 فروری 2026 تک جاری رہنے والے سہ روزہ عرس مبارک کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ
1 ہفتہ ago
وزیراعلیٰ سندھ کا سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کیلئے پیکج کا اعلان،تمام امدادی اداروں کو ایک ہی کمان میں دینے کا فیصلہ
1 ہفتہ ago



