پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی میں بڑے پیمانے کا مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں سابق حکومت کے دور کے حوالے سے جمع کروائی گئی آڈٹ رپورٹ کے مطابق پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کی غفلت سے 73 کروڑ 89 لاکھ روپے کا سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
خود کار وصولی، بینک گارنٹی کے بغیر ٹھیکے اور مشکوک نقد ادائیگیوں کے باعث سرکاری خزانے کو بھاری مالی نقصان ہوا ۔
شاہ پور کانجراں مویشی مارکیٹ میں 80 کروڑ روپے کا ٹھیکہ، مگر 62 کروڑ 98 لاکھ روپے ہی وصول ہوسکے:آڈٹ رپورٹ میں مزید انکشافات ہوئے ہیں جن کے مطابق 
بینک گارنٹی نہ لینے کے باعث 17 کروڑ 20 لاکھ روپے کا ممکنہ نقصان، ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچایاگیا۔ خود وصولی کے باعث 47 کروڑ 45 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔لاہور میں مویشی منڈی کی انٹری اور پارکنگ فیس خود وصول کرنے سے 32 کروڑ 55 لاکھ روپے ہی حاصل ہوسکا۔اگلے سال نیلامی کے بعد یہی فیس 80 کروڑ روپے تک پہنچ گئی 245 فیصد کم وصولی پر تحقیقات کا آغاز کیاجائے۔ مارکیٹ آپریشنز کے نام پر 3 کروڑ 38 لاکھ 24 ہزار روپے کی مشکوک نقدی نکلوائی گئی۔سرگودھا اور راولپنڈی مویشی مارکیٹس میں غیرمعمولی نقد ادائیگیوں کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ 
خوشاب اور گوجرانوالہ میں یہی کام صرف 15 لاکھ 60 ہزار روپے میں مکمل کیا انتظامی افسران پر جعلی ادائیگیوں کا الزام بدستور تحقیق طلب ہے:آڈٹ رپورٹ کے مطابق بینک گارنٹی حاصل نہ کرنے سے 23 کروڑ 5 لاکھ 31 ہزار روپے کا نقصان کیاگیا۔ ٹھیکیداروں کو مبینہ طور پر فائدہ پہنچانے کا شبہ خارج ازامکان نہیں۔ مویشی منڈیوں کے 101 کروڑ 18 لاکھ 60 ہزار روپے کے ٹھیکے دیے گئے مگر ٹھیکیداروں سے بینک گارنٹی نہ لی گئی۔ حکومتی خزانے میں صرف 5 کروڑ 19 لاکھ 50 ہزار روپے جمع کرائے گئے ۔مجموعی طور پر 77 کروڑ 61 لاکھ 34 ہزار روپے ٹھیکیداروں کے پاس رہے۔





