ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کی واضح ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر سے غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے لیے ایک بڑے کریک ڈاؤن کا آغاز کر رکھا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد سرکاری اراضی کو ناجائز قابضین سے واگزار کرانا اور شہریوں کے لیے صاف ستھرا اور کھلا ماحول فراہم کرنا ہے۔ انسداد تجاوزات آپریشنز پوری شدت سے جاری ہیں

اور روزانہ کی بنیاد پر شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک میگا آپریشن کیا گیا جس میں سرکاری اراضی کا بڑا حصہ واگزار کرایا گیا۔ اس آپریشن کے دوران، کچی کوٹھی سٹاپ کے قریب قبرستان کی ساڑھے تین کنال (3.5 کنال) اراضی کو ناجائز قبضے سے واگزار کرایا گیا جو ایک طویل عرصے سے تجاوزات کی زد میں تھی۔ واگزار کرائی گئی اس اراضی کی سرکاری مالیت تقریباً 15 کروڑ روپے بنتی ہے، جو کہ انتظامیہ کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ ضلع کی سطح پر ان آپریشنز کی نگرانی میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن ہیڈکوارٹر کاشف جلیل اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز خود کر رہے ہیں تاکہ کارروائیوں کو موثر اور شفاف طریقے سے انجام دیا جا سکے۔ میگا آپریشن کے دوران، تجاوزات مافیا کی جانب سے مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا، جہاں ایک شخص کو سرکاری عملے پر حملے کی کوشش کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ انتظامیہ نے موقع پر موجود 15 املاک کو سربمہر کیا اور تجاوزات کا سامان لادنے کے لیے 3 ٹرک سامان ضبط کیا گیا۔ اس کارروائی میں بڑی تعداد میں غیر قانونی دکانوں اور سٹرکچرز کو مسمار کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجاوزات کا ایک انچ بھی کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف یہ کارروائیاں بلا امتیاز اور بلا تفریق جاری رہیں گی جب تک کہ شہر سے تمام غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ سید موسیٰ رضا نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر لاہور کو ایک تجاوزات فری شہر بنانا ضلعی انتظامیہ کا مشن ہے۔ یہ آپریشنز نہ صرف سرکاری اراضی کی حفاظت کو یقینی بنا رہے ہیں بلکہ شہر کی خوبصورتی، ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری اور شہریوں کے لیے پیدل چلنے کے راستوں کی بحالی میں بھی معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ لاہور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ کوئی بھی شہری یا گروہ غیر قانونی طریقے سے سرکاری یا عوامی جگہوں پر قبضہ نہ کر سکے۔






