وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت ستھرا پنجاب کے کنٹریکٹرز کی کانفرنس منعقد ہوئی۔سیکرٹری بلدیات شکیل احمد میاں، ایڈیشنل سیکرٹری احمر کیفی نے بھی شرکت کی۔کانفرنس میں ستھرا پنجاب کے اہداف اور درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کنٹریکٹرز اور سی ای اوز کی اب تک ہونے والی کامیابیوں اور مشکلات پر بریفنگ دی گئی۔ستھرا پنجاب پروگرام کے آغاز کو تین ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے، وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ کنڑیکٹرز کو کارکردگی کا سہ ماہی جائزہ لینے کے لئے لاہور بلایا۔وزیراعلٰی مریم نواز کے ویژن کی عملی تصویر آج پورے پنجاب میں موجود ہے۔آئوٹ سورسنگ کا اس شعبے میں پہلے کوئی ماڈل پاکستان میں موجود نہیں تھا۔ستھرا پنجاب پروگرام سے ایک لاکھ 13 ہزار ملازمتیں مہیا کی گئیں، ذیشان رفیق نے کہا کہ
صوبہ بھر میں 23 ہزار مشینری بھی آ چکی ہے۔نئی انڈسٹری وجود میں آنے سے معیشت کو فروغ ملا، یہی جذبہ آگے بھی برقرار رکھیں۔
وزیراعلی نے اچانک دورے شروع کر دیے ہیں، سستی کی گنجائش نہیں۔عوام اور وزیراعلی کی توقعات پر پورا اترنا ہمارا نصب العین ہے۔کنڑیکٹرز کی اپنے ماتحت سٹاف پر گرفت ہونا بہت ضروری ہے۔ستھرا پنجاب کا دائرہ کار بتدریج ہر گائوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔پورا پروگرام ڈیجیٹل ہے، کنٹرول روم میں ظاہر ہونے والا ڈیٹا ہی کارکردگی کا پیمانہ ہے۔
حاضری اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کا ڈیٹا ساتھ ساتھ اپ لوڈ کریں۔پنجاب میں صفائی کا نظام پورے ملک کے لئے ماڈل بنانا ہمارا ٹارگٹ ہے۔بڑے شہروں کے کمرشل علاقوں میں دو شفٹیں شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ہیلپ لائن پر موصولہ شکایات کا 24 گھنٹے کے اندر ازالہ کیا جائے، وزیر بلدیات نے واضح ہدایت جاری کی۔انہوں نے کہا کہ سٹاف کو مقررہ کم سے کم تنخواہ کی ادائیگی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔آپریشن پلان پر عملدرآمد کرنا کنٹریکٹر کی ذمہ داری ہے۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے کہا کہ کولیکشن پوائنٹس اور ویسٹ انکلوژرز کی تعداد جلد پوری کی جائے۔اب تک کی کارکردگی تسلی بخش لیکن مزید بہتری کی متقاضی ہے۔ایچ آر اور مشینری کے اہداف تقریباً پورے کر لئے گئے۔نئے نظام کے چیلنجز سے ہم سب نے مل جل کر نمٹنا ہے۔





