واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) لاہور کی پہلی بورڈ میٹنگ واسا ہیڈ آفس میں منعقد ہوئی، ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا اور ایم ڈی واسا غفران احمد اور وائس چیئرمین چوہدری شہباز احمد نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں مالی سال 2024-25 کے لیے 65 ارب روپے اور 2025-26 کے لیے 75.5 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا، جسے بورڈ کی منظوری کے بعد واسا اتھارٹی میں حتمی طور پر پیش کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے نئے پبلک ہیلتھ سروسز ریگولیشنز کی توثیق کی گئی، جن کا مقصد شہری سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ ان ریگولیشنز کے تحت غرقی کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا تاکہ زیر زمین پانی کے ذخائر کو آلودگی سے بچایا جا سکے۔ ہر ہاؤسنگ سکیم کے لیے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کرنا لازمی ہوگا، اور ٹریٹمنٹ کے بعد حاصل ہونے والا پانی پاکستان ماحولیاتی معیار کے مطابق باغبانی، سڑکوں کی صفائی اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی نگرانی اسکاڈا سسٹم اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کی جائے گی اور تمام ڈیٹا براہ راست واسا کے کنٹرول روم کو منتقل ہوگا۔مزید یہ کہ ہاؤسنگ سکیموں کو جامع رین واٹر مینجمنٹ پلان تیار کرنے کا پابند بنایا گیا ہے تاکہ بارشی پانی کے علیحدہ نکاسی کے نظام کے ذریعے اربن فلڈنگ میں کمی لائی جا سکے اور گراؤنڈ واٹر ری چارج کو یقینی بنایا جا سکے۔ جمع شدہ بارشی پانی کو پودوں کی آبیاری، سڑکوں کی صفائی اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ہاؤسنگ سکیموں اور گھروں پر فلو میٹرز لگانا لازمی ہوگا تاکہ پانی کے استعمال کی نگرانی ہو سکے، جبکہ حد سے زیادہ پانی کے استعمال پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ لاہور بھر میں گھروں اور کمرشل کنکشنز پر میٹرز نصب کیے جائیں گے تاکہ بلنگ صرف استعمال کی بنیاد پر ہو اور پانی کے ضیاع پر قابو پایا جا سکے۔ایم ڈی واسا غفران احمد نے اس موقع پر کہا کہ واسا لاہور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کی روشنی میں شفاف مالیاتی نظام، جدید سہولیات اور پائیدار منصوبہ بندی کے ذریعے شہریوں کو بہترین خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ہاؤسنگ مدیحہ شاہ، پنجاب واسا سے طاہر امین، پی اینڈ ڈی سے رانا راشد، فنانس سے محمد یسین اور لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے خضر حیات نے بھی شرکت کی۔






