لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اربوں روپے کے نقصان کے بعد118 سڑکوں پر غیر قانونی کمرشل عمارتوں کو نوٹیسیز دینے کے لئے متحرک ہے۔بلدیہ عظمٰی لاہور سے 2013 میں ان سڑکوں پر کمرشلائزیشن و کنورژن کے اختیارات ایل ڈی اے نے ہتھیا لئے تھے لیکن 12 سال میں ہزاروں نئی کمرشل تعمیرات ہو چکی ہیں۔ایل ڈی اے نے اس طویل عرصہ میں ایم سی ایل کی 118 سڑکوں پر کمرشلائزیشن کی وصولی کے لئے کوئی خاص اقدامات نہ کئے جس سے جہاں ایم سی ایل اربوں روپے کے ریونیو سے محروم ہو گئی وہاں ایل ڈی اے بھی اربوں روپے کی آمدن وصول کرنے میں ناکام رہا۔اب ایل ڈی اے کی جانب سے لاہور کی ان اہم 118 کمرشل روڈز پر نوٹیسیز کے بعد اب تک سینکڑوں متنازعہ کیسیز سامنے آئے ہیں۔جس میں ایم سی ایل کے زونل افسران اور ملازمین ملوث پائے گئے ہیں۔ایل ڈی اے کی غفلت کے باعث شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب میں بھی 2013 کے بعد کنورژن و کمرشلائزیشن کی مد میں اربوں روپے کا بلدیاتی اداروں کو نقصان ہوا جبکہ ایل ڈی اے نے بھی ریونیو اکٹھا کیا نہ ہی ان اضلاع تک عملی طور پر کوئی کارروائی یا اقدامات کئے۔ذیلی دفاتر تک نہ بنائے گئے جس کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ نے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان اور پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے مطابق بلدیاتی اداروں کے اختیارات کا حوالہ دے کر سٹینڈ لیا جس پر دیگر دونوں اضلاع نے بھی تائید کی اور حکومت پنجاب کو ایل ڈی اے کا لاہور ڈویژن تک کمرشلائزیشن و کنورژن کے حوالے سے وسیع دائرہ ختم کرنا پڑا۔اب ایل ڈی اے نے اپنی سکیموں اور سڑکوں پر کمرشلائزیشن و کنورژن کے آمدن کے مطلوبہ اہداف پورے نہ ہونے پر اچانک ایم سی ایل کی 118 سڑکوں پر نوٹیسیز جاری کرنا شروع کر دیئے ہیں تاکہ ان سڑکوں سے اربوں روپے فیس وصول کر کے آمدن کے اہداف پورے کئے جا سکیں۔تاہم اہم بات یہ ہے کہ 12 سال کوتاہی،غفلت اور نااہلی کے مرتکب کسی افسر کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکیں جن کی وجہ سے اس طویل عرصہ کے دوران جہاں فیسوں کی مد میں اربوں روپے کا سرکاری خزانے کو نقصان ہوا وہاں غیر قانونی کمرشل و انڈسٹریل سرگرمیوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا جن کے خلاف 12 تک نہ تو بلدیاتی اداروں نے کارروائی کی نہ ہی ایل ڈی اے متحرک ہوا۔واضع رہے کہ پنجاب کے ایک سیکرٹری بلدیات جو چیف سیکرٹری بنائے گئے نے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001 و ایکٹ 2013 کے برعکس لاہور ڈویژن کے بلدیاتی اداروں کے اختیارات ایک لیٹر کے ذریعے ایل ڈی اے کو منتقل کر دیئے۔مقامی حکومتوں کے اختیارات کی منتقلی سے آئین پاکستان کی بھی خلاف ورزی کی گئی جس میں مقامی حکومتوں کو تحفظ حاصل ہے۔
Read Next
7 گھنٹے ago
قبائلی اضلاع نے بھی ایسا بدترین کرفیو نہیں دیکھا، جیسا آج مریم صفدر کی جعلی حکومت میں لاہور میں لگایا گیا،محمد سہیل آفریدی
7 گھنٹے ago
بلدیہ عظمٰی لاہور شعبہ پلاننگ کا غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سمن آباد زون میں آپریشن،7 سیل،دو جزوی مسمار
1 دن ago
بلدیہ عظمٰی لاہور شعبہ پلاننگ کا راوی زون میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن،5 سربمہر
2 دن ago
سی ای او ایل ڈبلیو ایم سی شہریار عارف خان کی ہدایت پر عزیز بھٹی ٹاؤن تاج باغ میں ریلوے ٹریک کے اطراف پڑے ملبے اور کوڑے کو کلئیر کرنے کے لیے 24 گھنٹےکا الٹی میٹم
5 دن ago
بلدیہ عظمٰی لاہور شعبہ ریگولیشن کا تحصیل کینٹ،صدر،واہگہ اور شالیمار میں تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن
Related Articles
بلدیہ عظمٰی لاہور شعبہ پلاننگ کا گلبرگ زون میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن دو مسمار،تین سربمہر
5 دن ago
بلدیہ عظمٰی لاہور کے شعبہ ریگولیشن کا بیدیاں روڈ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن،تین ٹرک سامان قبضہ میں لے لیا
6 دن ago
بلدیہ عظمٰی لاہور شعبہ پلاننگ کا عزیز بھٹی زون میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن تین مسمار، 3 سربمہر
6 دن ago
بلدیہ عظمٰی لاہور شعبہ ریگولیشن کا اوور چارجنگ پر پارکنگ اسٹینڈز مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن،درجنوں سیل،بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور مقدمات درج
6 دن ago

