گلگت بلتستان نے ملک کے دیگر صوبوں پر سبقت حاصل کرتے ہوئے ای آفس سسٹم کے باضابطہ آغاز کے ساتھ جدید انتظامی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس اقدام کے تحت گلگت بلتستان پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں سرکاری امور کو مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں انجام دیا جا رہا ہے۔ای آفس سسٹم کے پہلے مرحلے میں اسے سیکریٹریٹ سطح پر متعارف کرایا گیا ہے،

جبکہ دوسرے مرحلے میں اسے ڈائریکٹریٹ سطح تک وسعت دی جائے گی۔ اس جدید نظام سے دفتری کارکردگی، شفافیت، جوابدہی اور رفتار میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ثریا زمان، معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ، سیکریٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن عثمان احمد، سیکریٹری اطلاعات دلدار احمد ملک، ڈائریکٹر پی ایم آر یو طلحہ طلعت، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ادریس احمد و دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔معاون خصوصی اطلاعات ایمان شاہ اور وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ثریا زمان نے اپنے گفتگو میں کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی صرف سہولت نہیں، ترقی کا واحد راستہ ہے،اور ای آفس گلگت بلتستان کو پاکستان کا پہلا مکمل ڈیجیٹل صوبہ بنائے گا۔اس موقع پر سیکریٹری سروسز عثمان احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ای آفس سسٹم وقت، وسائل اور انسانی محنت کی بچت کے ساتھ ساتھ شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی کے نئے معیار متعارف کرائے گا۔ یہ اقدام گلگت بلتستان میں جدید طرز حکمرانی کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تمام افسران و عملے کو اس نظام سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع تربیتی سیشنز کا انعقاد بھی جاری ہے تاکہ اس نظام کو مؤثر اور مکمل طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔انہوں نے ای آفس سسٹم کی نمایاں خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے کاغذی فائلوں سے مکمل نجات ہوگا،اور تمام ڈیٹا ایک کلک پر دستیاب ہوگا، شفافیت، نگرانی و جوابدہی میں بہتری آئے گی،ریکارڈز کی 24/7 دستیابی،فائل کی نوعیت کے مطابق کارروائی کا وقت،ورک فلو کی تخصیص، ورک فرام ہوم،موبائل ایکسیس کی سہولت،محفوظ مواصلات، ڈیزاسٹر ریکوری سسٹم،ایگزیکٹو ڈیش بورڈز، ٹاسک مینجمنٹ، بائیومیٹرک حاضری، اور گاڑیوں کا لاگ سسٹم،ودیگر امور سسٹم میں شامل ہوں گے۔ڈائریکٹر پی ایم آر یو طلحہ طلعت اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے پرفارمنس انڈیکیٹرز، سسٹمز اور ڈیجیٹل حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی، اور مستقبل میں نادرا سمیت دیگر قومی اداروں سے سسٹم کی انضمام کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔ان کا مذید کہنا تھا یہ نظام ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن مستقبل قریب میں پچاس ہزار سے زائد سرکاری ملازمین اس ڈیجیٹل سسٹم سے منسلک ہوں گے، جس سے گلگت بلتستان کے دفتری نظام میں انقلاب آئے گا۔






