سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (اسٹیوٹا) نے جمعرات کو مالی سال 2025-26 کے لیے 4.685 ارب روپے کا بجٹ منظور کر لیا۔ یہ منظوری اسٹیوٹا کے ہیڈکوارٹر کراچی میں ہونے والی 35ویں بورڈ آف گورنرز اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی اور اسٹیوٹا کے چیئرپرسن جنید بلند نے کی۔اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر طارق منظور چانڈیو، ایڈیشنل سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز انور علی شر، محمد کامران اربی، صدر سائٹ ایسوسی ایشن کراچی انڈسٹریل کمیونٹی، شاہین الیاس سرورانہ، صدر سائٹ سپر ہائی وے انڈسٹریل کمیونٹی، عبدالستار لاڑک نمائندہ مہران انجنئرنگ یونیورسٹی، عبدالرزاق میمن ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن اور دیگر سینئر حکام اور بورڈ ممبران نے شرکت کی۔

جبکہ سیکریٹری انفارمیشن، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ نور احمد سمون نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔بورڈ نے سندھ میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اسے صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اہم اصلاحات کی منظوری دی۔ اجلاس کی خاص بات طلباء اور روزگار سے متعلق ڈیٹا بیس کو ڈیجیٹلائز کرنے کی منظوری تھی تاکہ گریجویٹس کے لیے رسائی، ٹریکنگ اور ملازمت کے مواقع بہتر بنائے جا سکیں۔ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے تحت اسٹیوٹا نے اعلان کیا کہ صوبے بھر کے 83 ایسے ٹیکنیکل ادارے جن کی عمارتوں کی خستہ حالی کے ساتھ دیگر مسائل کا سامنا ہے انہیں اب پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت چلائے جائیں گے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی اور جدید تربیتی طریقہ کار متعارف کروائے جائیں گے۔بورڈ نے پرانے ڈپلومہ آف کامرس (D.Com) پروگرام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اسے ڈپلومہ ان ای-کامرس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ، نجی طور پر چلنے والے اسٹیوٹا اداروں کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) متعارف کرائے گئے تاکہ گورننس اور احتساب کو بہتر بنایا جا سکے۔تمام ٹیکنیکل اور ووکیشنل پروگرامز کے لیے جامع داخلہ پالیسی کی بھی منظوری دی گئی۔ اس دوران اسٹیوٹا نے گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ (GPI) کی زیبسٹ زیبٹیک اور پاک سوزوکی کے ساتھ شراکت داری کی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کی تجدید کی، جو پبلک اور انڈسٹری کے درمیان جاری تعاون کی علامت ہے۔میٹنگ میں چیئرمین جنید بلند نے کہا کہ اسٹیوٹا نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے اور صنعت کے ساتھ روابط مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے بھر میں 100 نئے کورسز متعارف کروائے جا رہے ہیں، جو صنعت کے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون سے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ کورسز ان پرانے ہنر کے متبادل ہوں گے جو اب مارکیٹ کی ضروریات کو پورا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا، "ڈیجیٹل اور ای-کامرس تعلیم کی طرف تبدیلی یہ عزم ظاہر کرتی ہے کہ ہم جاب ریڈی گریجویٹس تیار کرنا چاہتے ہیں۔”اس موقع پر اسٹیوٹا کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق منظور چانڈیو نے کہا کہ تربیتی پروگراموں کو موجودہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا، "ہماری ترجیح ابھرتی ہوئی مہارتوں پر ہے، جیسے کہ مصنوعی ذہانت، گرین ٹیکنالوجیز اور آٹومیشن، جن کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہم اپنے نصاب کو مسلسل اپ ڈیٹ کر رہے ہیں تاکہ ہمارے گریجویٹس نہ صرف مقامی مارکیٹ میں قابلِ روزگار ہوں بلکہ عالمی سطح پر بھی مسابقتی صلاحیت رکھتے ہوں۔






