وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی زیر صدارت اہم اجلاس، کراچی سمیت سندھ بھر میں 588 مخدوش عمارتوں، 59 انتہائی مخدوش عمارتوں سمیت دیگر پر تفصیلی تبادلہ خیال

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی زیر صدارت صوبے بھر میں مخدوش اور خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کے حوالے بنائی گئی کمیٹی اہم اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ وسیم شمشاد، مئیر کراچی مرتضٰی وہاب، کمشنر کراچی سید حسن نقوی، ڈی جی ایس بی سی اے شاہ میر بھٹو، ڈائریکٹر ایڈمن ایس بی سی اے مشتاق سومرو، آباد کے چیئرمین حسن بخشی، وائس چیئرمین طارق عزیر، پاکستان انجنئیرنگ کونسل کے لیفٹیننٹ(ر) محمد اقبال، پاکستان کونسل آف آرکیٹیکٹ کے رکن سہیل بشیر،انجنئیر عارف بلگرامی، ڈپٹی کمیشنر سائوتھ جاوید لطیف کھوسو، ایم سی لیاری حماد این ڈی خان اور دیگر موجود تھے۔

اجلاس میں کراچی سمیت سندھ بھر میں 588 مخدوش عمارتوں، 59 انتہائی مخدوش عمارتوں سمیت دیگر پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں کمشنر کراچی نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت تک 59 انتہائی مخدوش قرار دی گئی عمارتوں میں سے 29 عمارتوں کو خالی کرالیا گیا ہے اور ان کے رہائشیوں کا ڈیٹا بھی مرتب کرلیا گیا ہے۔باقی مانندہ عمارتوں کو بھی جلد خالی کروایا جارہا ہے تاکہ خدانخواستہ کوئی بڑا سانحہ رونما نہ ہو۔وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ

تمام خطرناک عمارتوں کا سروے کروایا جائے کیونکہ یہ شکایات مل رہی ہیں کہ کچھ عمارتوں کو غلط خطرناک قرار دیا گیا ہے۔تمام ڈپٹی کمیشنرز کی نگرانی میں اضلاع کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل ہیں ان کمیٹیوں میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز، پاکستان انجنئیرنگ کونسل اور پاکستان کونسل آف آرکیٹیکٹ اینڈ ٹائون پلاننرز کا ایک ایک رکن شامل کیا جائے۔یہ سروے تیزی سے مکمل کیا جائے اور اس کی رپورٹ آئندہ ہفتہ اس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جائے۔ پہلے مرحلہ میں متاثرہ بغدادی لیاری کی عمارت کے متاثرین اور جو 29 عمارتیں اب تک خالی کروائی گئی ہیں ان کے مکینوں کو 3 ماہ کا کرایہ سندھ حکومت ادا کرے گی۔

اس کے بعد پگڑی اور مالکانہ حقوق کے مکینوں کے لئے مذکورہ کمیٹی اپنی سفارشات پیش کرے گی، جس کے تحت ان کو معاوضہ یا دیگر مراعات فراہم کی جائیں گی۔

اس دیرینہ مسئلہ کے صاف و شفاف حل اور خطرناک عمارتوں کے حوالے سے سندھ حکومت انتہائی سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔اس مسئلہ کے حل کے لئے جو کمیٹی بنائی گئی ہے اس میں پبلک سیکٹر کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹرز کے اسٹیک ہولڈرز سے بھی تجاویز طلب کی گئی ہیں۔مذکورہ کمیٹی میں پلانرز، آرکیٹیکٹ اور انجنئیرز اور آباد کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ وہ حالات کے تناظر کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کن تجاویز دے سکیں۔مذکورہ کمیٹی میں شامل تمام تکنیکی ماہرین، انجنئیرز، پبلک و پرائیویٹ سیکٹرز کی جانب سے ملنے والی تجاویز کی روشنی میں حکومت ان عمارتوں کے مکینوں اور متاثرین کے لئے شارٹ اور لانگ ٹرم پالیسی مرتب کرے گی۔یہ کمیٹی اس بات کا بھی فیصلہ کرے گی کہ سروے کے بعد ان عمارتوں کے کرایہ داروں، پگڑی اور مالکانہ حقوق کے رہائشیوں کی کس طرح آبادکاری کو یقینی بنایا جائےمکمیٹی جن عمارتوں کو معمولی یا اس سے زائد مینٹیننس کے بعد رہائش کے قابل بنائے جانے کے حوالے سے بھی اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ ڈپٹی کمیشنرز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹیاں روزانہ کی بنیاد پر سروے کی رپورٹ کمیشنر کراچی کے پاس جمع کروائیں گی جو اس حوالے سے مذکورہ کمیٹی کے اجلاس میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button