سندھ حکومت کا یونیسیف کے تعاون سے آئوٹ آف اسکول چلڈرین اور نوعمر بچوں کی تعلیم کے حوالے سے پانج سالہ ملٹی سیکٹورل روڈ میپ بنانے کا فیصلہ، جس کے تحت تعلیم حاصل میں حائل تمام رکاوٹوں کی نشاندہی اور انہیں ختم کرنے کے سلسلے میں لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا، اس ضمن میں وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی زیر صدارت ملٹی سیکٹورل روڈ میپ کی تشکیل کے لیے یونیسیف کے نمائندوں کے ساتھ اہم اجلاس کراچی میں منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی، چیف پروگرام مینجر ڈاکٹر جنید سموں اور دیگر کی شرکت کے علاوہ یونیسیف کی طرف سے چیف فیلڈ آفس پریم بہادر چند، ایجوکیشن مینیجر عبیر مقبول، ایجوکیشن اسپیشلس آصف ابرار نے بھی شرکت کی، تعلیم کے حوالے سے ملٹی سیکٹورل روڈ میپ تشکیل دینے سے آئیندہ سالوں میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولز کی طرف لانے میں مدد ملے گی۔ صوبائی وزیر تعلیم نے اس موقع پر کہا کہ بچوں کو اسکول کی طرف آنے اور تعلیم جاری رکھنے کے حوالے سے کئی چیلینجز کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ ہم بچوں کی تعلیم میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کر کے ایک راہ متعین کریں گے تا کہ بچہ اپنی سہولت کے مطابق اسکول جا سکے۔ سید سردار علی شاہ نے نشاندہی کرتے ہوۓ کہا کہ بچے کی پیدائش کے ساتھ نام کے اندراج کے ساتھ اس کے دیگر ضروریات کے متعلق آگاہی رکھنا بھی ضروری ہے۔ اجلاس میں آگاہی دی کہ ملٹی سیکٹورل روڈ میپ کے تحت پیدائش کا اندراج، صحت، پبلک ہیلتھ، سوشل پروٹکشن، ماحولیاتی تبدیلیوں اور دیگر سیکٹرز پر کام کیا جاۓ گا۔ اجلاس میں آگاہی دی گئی کہ اس وقت بچوں کو تعلیم کے سلسلے میں سوشل اور بیہیوریل چینج جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جس کے تحت معاشی اور اس سے وابستہ مسائل، تنازعات اور اس کے مسائل کے علاوہ محولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اسکولوں کی صورتحال، انتظامی اور سیاسی مسائل، جنریشن گیپ جیسے بچوں بزرگ افراد کے درمیان تعلقات اور باہمی اثرات جیسے چیلینجز کا سامنا ہے جس کی وجہ سے بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات درپیش ہیں، جبکہ آئیندہ سالوں میں ایسے مسائل میں اضافہ بھی ہو رہا ہے، ان عوامل کو مد نظر رکھتے ہوۓ ملٹی سیکٹورل روڈ میپ تشکیل دینے کی ضرورت ہے، اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت صوبہ میں 46 فیصد بچوں کو اسکول جاری رکھنے میں مسائل کا سامنا ہے، 25 فیصد لڑکیوں کی 18 سال سے پہلے شادی کردی جاتی ہے، 38 فیصد 10 سے 19 سال کے بچوں کو معاشی مسائل کی وجہ سے محنت مزدوری کرنے پڑ رہی ہے، 50 فیصد بچے کو غذائی کمی کا شکار ہیں، نئے پیدا ہونے والے 66 فیصد بچوں کی برتھ رجسٹریشن نہیں ہو سکی ہے، 47.5 فیصد بچوں کو غربت جیسے مسائل درپیش ہیں جس میں سے 71 فیصد دیہات میں رہتے ہیں، 45 فیصد بچوں کے لیے بہتر انفرا اسٹرکچر جیسے واشروم، پینے کا صاف پانی اور تحفظ کا مسئلہ ہے اور اس کے علاوہ 79 فیصد بچے ایسے ہیں جن کے لیے ہنر سیکھنے کی سہولت موجود نہیں۔ صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ہمیں تمام پہلوؤں کو نظر میں رکھتے ہوۓ حکمت عملی تشکیل دینے ہوگی تا کہ آئیندہ نسلوں کو مسقبل میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک سازگار ماحول دیا جا سکے، اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ارلی چائیلڈ ایجوکیشن، پرائمری اور ایلمنٹری ایجوکیشن تک تعلیم میں مدد کے لیے ڈیٹا بیس تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
Read Next
11 منٹس ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میئر کاشف شورو کے ہمراہ کے ڈی ایس پی کے حیدرآباد چیپٹر کا افتتاح کردیا*
1 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت تھر کول اینڈ انرجی بورڈ کا اجلاس*
2 دن ago
*سندھ اور ازبک صوبے ناوائی کے درمیان وسیع تعاون پر اتفاق*
4 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی یونیورسٹی روڈ کے تعمیری کام میں تاخیر کی وجہ سے شہریوں سے معذرت،3 ماہ کے ہدف
5 دن ago
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ سے ورلڈ بینک سندھ پراپرٹی ٹیکس ماڈرنائزیشن اینڈ انہانسمنٹ کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات
Related Articles
انجینئرڈ سینیٹری لینڈ فل سائٹ جام چاکرو کو جلد از جلد مکمل کیا جائے،وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ
6 دن ago
کریم آباد انڈر پاس کی سافٹ لانچنگ 30 اپریل کو کی جائے گی،وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ
7 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ملاقات، کراچی جیکب آباد براستہ کوٹری لاڑکانہ روٹ کی بحالی پر اتفاق
1 ہفتہ ago


