*میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے پاکستان کے پہلے تیرتے ہوئے مینگروو بائیو ڈائیورسٹی پارک کا افتتاح کردیا*

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کورنگی کریک میں پاکستان کے پہلے مینگروو بائیو ڈائیورسٹی پارک کا افتتاح کردیا، یہ پارک نہ صرف پاکستان کا پہلا مینگرووز سے متعلق بائیو ڈائیورسٹی پارک ہے بلکہ یہ پانی کے اوپر تیرنے والا ملک کا پہلا پارک بھی ہے، پارک کا قیام محکمہ جنگلات سندھ کے اشتراک سے ہواہے، افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پارک کا قیام مینگرووز کے تحفظ اور عوامی آگاہی کے لیے ایک اہم قدم ہے،ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے زمینوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کی دلچسپی خوش آئند ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے،میئر کراچی نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو بھی اس تقریب میں ساتھ لائے ہیں تاکہ وہ بچپن سے ہی مینگرووز اور ماحولیات کی اہمیت سے واقف ہو، انہوں نے سول سوسائٹی اور کاروباری افراد سے اپیل کی کہ وہ مل کر اس منصوبے کو کامیاب بنائیں،انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی، کراچی پورٹ ٹرسٹ بلڈنگ کے قریب بھی ایک نیا مینگرووز پارک قائم کرے گی، انہوں نے گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں سب سے زیادہ مینگرووز کے درخت لگانے کا اعزاز حاصل کرنے پر محکمہ جنگلات کو بھی مبارکباد دی،انہوں نے کہا کہ پورٹ قاسم، ملیر اور کے پی ٹی کو چاہیے کہ وہ بھی اپنی حدود میں اسی طرز کے مینگرووز پارک قائم کریں تاکہ ماحولیاتی تحفظ کے سلسلے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے،جب بھی شہر میں بہتری کے لیے کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو مختلف طریقوں سے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں لیکن ہم اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، سول سوسائٹی، میڈیا اور کاروباری برادری کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ شہر کی بہتری کے لیے تجاویز دیں اور ساتھ مل کر کام کریں تاکہ کراچی کو ایک جدید اور ماحول دوست شہر بنایا جا سکے،میئر کراچی نے باغ ابن قاسم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارک 130 ایکڑ پر محیط ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں روزانہ 130 افراد بھی نہیں آتے،یہ سوال ہم سب کے لیے ہے کہ لوگ پرائیویٹ کلبز کا رخ کرتے ہیں لیکن عوامی پارکس کیوں خالی رہتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ شہریوں کے لیے صحت مند تفریحی مواقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس کے لیے پارکوں میں مزید تفریحی سہولیات اور دلچسپی کے عناصر شامل کرنا ہوں گے تاکہ عوام کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے،

انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف تنقید نہ کریں بلکہ مل کر اس شہر کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، کے ایم سی شہر کی بہتری اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے ہمیشہ مثبت اقدامات اٹھانے کو تیار ہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر میں سیوریج کے پانی کی صفائی کے لیے دو بڑے ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر جاری ہے جن کی تکمیل سے سمندری آلودگی میں واضح کمی آئے گی،ہارون آباد میں قائم کیے جانے والا ٹریٹمنٹ پلانٹ یومیہ 100 ملین گیلن پانی صاف کرنے کی استعداد رکھتا ہے جس میں ابتدائی طور پر 35 ملین گیلن پانی ٹریٹ کیا جائے گا، اسی طرح ماڑی پور میں واقع ٹریٹمنٹ پلانٹ تھری روزانہ 54 ملین گیلن سیوریج کا پانی صاف کرے گا،دونوں منصوبے سال کے اختتام تک مکمل کر لیے جائیں گے جس کے بعد سیوریج کا پانی ٹریٹ ہو کر سمندر میں جائے گا جس سے سمندری حیات کی زندگی محفوظ ہوگی اور آلودگی میں کمی واقع ہوگی،انہوں نے کہا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ فور ابراہیم حیدری میں قائم کیا جا رہا ہے جس سے کورنگی اور ابراہیم حیدری کے رہائشیوں اور صنعتی شعبے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا،سمندر میں آلودہ پانی کے اخراج کو روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ان منصوبوں سے کراچی کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کیماڑی کے علاقے نیٹی جیٹی کی طرف ایک نیا مینگرووز بائیو ڈائیورسٹی پارک قائم کیا جائے گا جو شہر میں ماحول دوست اقدامات کی جانب ایک اور اہم قدم ہوگا،انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے حالیہ خط میں پی آئی ڈی سی ایل سے کہا ہے کہ وہ پی ڈبلیو ڈی کے منصوبوں پر توجہ دے،انہوں نے کہا کہ کیا لاہور میں پی آئی ڈی سی ایل کہیں کام کرتے ہوئے نظر آتی ہے؟ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی کے وسائل کراچی کی عوام پر خرچ ہونے چاہئیں،میئر کراچی نے درختوں کی کٹائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے مالی مفادات کے لیے درختوں کا بے دریغ خاتمہ کیا جاتا ہے جو ایک افسوسناک رجحان ہے، انہوں نے کہا کہ بلدیاتی حکومت ماحول کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے اور شہریوں کو سبز اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے،کراچی میں بائیو ڈائیورسٹی پارکس جیسے منصوبے نہ صرف ماحولیاتی بہتری لائیں گے بلکہ شہریوں کو تفریح اور آگاہی کے مواقع بھی فراہم کریں گے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جو افراد اچھل اچھل کر پریس کانفرنسوں میں جھوٹ بول رہے ہیں کہ میئر کام رکوا دیتا ہے وہ دراصل اپنی نااہلی اور نکمے پن کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں،انہیں بڑا ڈائس نہ دیا کریں جو دوسروں پر الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں کرتے،میئر کراچی نے کہا کہ میری ترجیح شہریوں کی مشکلات اور مسائل کا حل ہے، نہ کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ۔ ہمیں کراچی کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی،انہوں نے پی اینڈ ڈی کے وزیر کو مشورہ دیا کہ وہ وزیر اعلیٰ سندھ سے مشاورت کریں تاکہ ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں دور کی جا سکیں،جب تک کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر نہیں آئیں گے، کھینچا تانی جاری رہے گی اور شہر ترقی نہیں کر سکے گا،انہوں نے کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان نے آخری میچ میں اچھا پرفارم کیا اور میری دعائیں ہمیشہ قومی ٹیم کے ساتھ ہیں۔تقریب سے وزیر جنگلات بابل بھایو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری خود منگروو پروجیکٹس کی مانیٹرنگ کرتے ہیں، ساحلوں پر منگرووز لگانا ضروری ہے، سجاول، ٹھٹھہ اور بدین میں بھی یہ کام جاری ہے اور محکمہ جنگلات کراچی کی بلدیاتی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔

جواب دیں

Back to top button