*پنجاب سے دوسرے صوبوں کو 8 لاکھ50 ہزار ٹن میٹرک گندم سپلائی کی گئی*،امجد حفیظ

پنجاب سے دوسرے صوبوں کو گندم منتقل کی گئی ہے۔​گندم کی نقل و حمل کے لیے شفاف پرمٹ سسٹم فعال ہے جس کے ذریعے خیبر پختونخوا کو بڑا حصہ فراہم کیا گیا ہے۔​پنجاب سےمجموعی طور پر بین الصوبائی نقل و حمل کا تخمینہ 14 سے 15 لاکھ میٹرک ٹن ہے​صرف اسلام آباد کو پنجاب سے 7 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم فراہم کی گئی ہے -امجد حفیظ نے کہا کہ ​ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے میں پنجاب کا کلیدی کردار برقرار ہے اور​پنجاب کے اندر ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں نقل و حمل کی مکمل اجازت ہے اور اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی، کوٹہ یا انتظامی رکاوٹ کبھی عائد نہیں کی گئی۔ جہاں کہیں بھی ‘پرمٹ سسٹم’ نافذ ہے، وہ محض ایک سہولتی اور مانیٹرنگ کا ذریعہ ہے جس کا مقصد نقل و حمل کا درست ڈیٹا مرتب کرنا ​ذخیرہ اندوزی اور سٹے بازی کی حوصلہ شکنی کرنے کے ساتھ ساتھ ​حقائق پر مبنی پالیسی سازی میں معاونت کرنا (نہ کہ تجارت یا منڈیوں میں خلل ڈالنا)۔​گندم کی نقل و حمل پر پابندیوں سے متعلق تمام دعوے حقیقت کے برعکس اور بے بنیاد ہیں، جن کا زمینی حقائق اور صوبائی سپلائی چین سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومتِ پنجاب ​قومی غذائی تحفظ اور قیمتوں میں استحکام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے ۔​شفاف اور مارکیٹ ​گندم کی نقل و حمل پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔​صوبے بھر میں انٹر ڈسٹرکٹ موومنٹ کی مکمل اجازت ہے، حکومت پنجاب کی جانب سے​گندم پر پابندی کی خبریں بے بنیاد اور حقیقت کے برعکس قرار دیتے ہوئے ا امجد حفیظ نے بتایا کہ ​پرمٹ سسٹم صرف مانیٹرنگ اور ڈیٹا کے لیے قائم کیا گیا ہے، رکاوٹ کے لیے نہیں۔​ذخیرہ اندوزی اور سٹے بازی کی روک تھام کے لیے مسلسل اقدامات جاری ہیں خاص طور پر​کسانوں اور صارفین کے مفادات کا تحفظ اولین حکومت کی اولین ترجیح ہے-​میڈیا من گھڑت اور بے بنیاد افواہوں سے گریز کرے اور مستند ڈیٹا پر بھروسہ کرے، حکومت کی کی جانب سے​بین الصوبائی تجارت میں کوئی انتظامی رکاوٹ نہیں،

جواب دیں

Back to top button