میئر کاشف علی شورو کی صدارت میں ممتاز مرزا آڈیٹوریم ہال میں اجلاس منعقد ہوا، میونسپل کمشنر ظہور لکن سمیت تمام اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ ایوان پاک فوج کی حمایت میں نعروں سے گونج اٹھا۔رہنماؤں نے کہا کہ ضرورت پڑی تو ہم حیدرآباد کے منتخب نمائندے ملک کے لیے لڑیں گے اور جان قربان کریں گے۔اجلاس میں سندھو سے کینال نکالنے کے منصوبے کو رکوانے پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر جام خان شورو کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔اجلاس میں میئر کاشف علی شورو نے بتایا کہ اب واسا کے بجائے واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن قائم کی گئی ہے، جس کا چیف ایگزیکٹو آفیسر بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔ بہت جلد حیدرآباد کے شہریوں کے پانی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔اراکین کی جانب سے پانی کی قلت اور گندے پانی کی فراہمی کی شکایت پر میئر نے کہا کہ پانی کا مسئلہ 40 سال پرانا ہے، جو اب چند مہینوں میں حل کر دیا جائے گا۔اجلاس میں اراکین نے شکایت کی کہ شادی ہالز کو رات 12 بجے تک بند کروانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔میئر نے متعلقہ اتھارٹیز کو خط لکھنے کی ہدایت جاری کی۔اجلاس میں شہر کی گنجان آبادیوں میں جانوروں کی آمد و رفت کو روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اجلاس میں ملک کو ایٹمی طاقت بنانے پر سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔






