ایم بی اے فرام گھوڑا ہسپتال یونیورسٹی

جیسے پان سگریٹ والے پہلے لفافے رکھ لیتے تھے، چاکلیٹ، ٹافی، پیناڈول، ڈسپرین تو اب بھی رکھتے ہیں. یہی حال یونیورسٹیوں کا ہے. کامسیٹ، آئی ٹی، سائنس، انجنئیرنگ کی یونیورسٹی ہے، ان شعبوں میں اس کی رینکنگ بھی اعلیٰ ہے، اس نے فائن آرٹس کا شعبہ بھی کھول رکھا ہے.

نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی NUST نے ماس کمیونیکیشن کا شعبہ کھولا ہوا ہے.

بزنس اور اکنامکس کی ایک یونیورسٹی اردو میں ایم فل وغیرہ کرارہی ہے.

یونیورسٹی آف ایجوکیشن نے ایجوکیشن سے بہت دور کے درجن بھر دوسرے مضمون شروع کردئیے ہیں.

یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل کا دائرہ نام سے ظاہر ہے. یہ اس شعبے کا قدیم ادارہ ہے. اب اس نے بزنس سکول کھول لیا ہے. بی بی اے، ایم بی اے، ایم فل، پی ایچ ڈی ہورہے ہیں.

این ایف سی انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں فائن آرٹس اور فیشن ڈیزائن کے شعبوں میں داخلوں کا اشتہار چھپا ہے.

زرعی یونیورسٹی میں کئی غیر متعلقہ مضامین پڑھائے جارہے ہیں.

یہ سب محض آمدنی بڑھانے کیلئے ہیں. اضافی شعبوں کا بالعموم کوئی معیار نہیں ہوتا.

یونیورسٹیوں کے تجاوزات کچھ دوسری طرح کے بھی ہیں. پہلے ہر یونیورسٹی کا علاقہ مقرر ہوتا تھا. ایک کے گریجویٹ کو دوسری سے امتحان دینے کیلئے اجازت /عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ لینا پڑتا تھا. اب اپنے علاقے سے باہر سب کیمپس کھولنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی. بہاءالدین زکریا یونیورسٹی سے الحاق کا دعویدار لاہور کا ادارہ ایک بڑا سکینڈل بنا.

ہونا یہ چاہیے کہ سرکاری یونیورسٹیاں اپنی علاقائی حدود میں سب کیمپس کھول سکیں اور کالجوں کا الحاق کرسکیں. نجی یونیورسٹیاں بھی مخصوص علاقے تک محدود ہوں. ہو یہ رہا ہے کہ یہ ہر جگہ سب کیمپس ٹھیکے پر دے رہی ہیں. ٹھیکیداروں کو صرف بھاری فیسوں سے غرض ہے.

نالائق سے نالائق کیلئے داخلہ کھلا اور مقررہ مدت کی فیسیں دے کر 100 فیصد پاس.

جواب دیں

Back to top button