صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کا سیکرٹری کوآپریٹوز آفس کا دورہ،سیکرٹری مسرت جبین کی بریفنگ

صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کا سیکرٹری کوآپریٹوز آفس کا دورہ، ایم این اے ارمغان سبحانی بھی ساتھ تھےسیکرٹری کوآپریٹوز مسرت جبین نے محکمے کے معاملات کے بارے میں بریفنگ دی ۔

اجلاس میں بالخصوص کالعدم کوآپریٹو فنانس کارپوریشنز CFCs کے مستقبل کے حوالے سے غور کیا گیامحکمہ کوآپریٹوز سی ایف سیز کی جائیدادوں کی محض دیکھ بھال کر رہا ہے۔ موجودہ قانون کے تحتان جائیدادوں کا استعمال ممکن نہیںان جائیدادوں کے استعمال کے لئے انہیں بورڈ آف ریونیو کے سپرد کرنے پر غور کیا جا رہا ہےپنجاب کا کینسر ہسپتال ایسی ہی جائیداد ایکوائر کر کے بنایا جا رہا ہے۔ محکمہ سپورٹس نے بھی اراضی مانگی ہےاس حوالے سے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ سی ایف سیز کی پراپرٹی کو کمرشل مقاصد کے لئے بروئے کار لانا چاہیئےصوبائی وزیر نے تجویز دی کہ محکمہ کوآپریٹوز وزیراعلی کے افورڈیبل ہاؤسنگ کے پروگرام میں حصہ ڈالے۔ اس کے لئے پلاٹ دیے جائیں اور مکانات بنانے کے لئے قرضے بھی۔ ان قرضوں کا مارک اپ پنجاب حکومت ادا کرےاگر ایسا ہو تو نئی کوآپریٹو سوسائٹی بنانے پر 1997 سے لگی پابندی ہٹائی جا سکتی ہے۔یہ بات حیران کن ہے کہ پنجاب کوآپریٹو بنک زرعی قرضے جاری کرتا ہے لیکن محکمہ زراعت کے ساتھ کوئی لائزان نہیں۔ وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ پنجاب کوآپریٹو بنک لمیٹڈ پی سی بی ایل لائزان یقینی بنائے۔زرعی قرضوں کا انٹرسٹ کافی زیادہ یعنی 25 سے 32 فیصد تک ہے۔ اس پر بھی ورک کرنے کی ضرورت ہے۔ پی سی بی ایل نے ساڑھے 11 ارب کے قرضے جاری کئے ہیں۔ سولر، کھادوں، زرعی آلات کی خریداری کے لئے قرضے دیے جاتے ہیں نگران حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے قانون میں ترمیم کی جسے اسمبلی کے ذریعے ایکٹ میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔پنجاب میں 24 ہزار رجسٹرڈ کوآپریٹو سوسائیٹز اور محکمے کی 350 اپنی جائیدادیں ہیں۔ محکمے میں عوامی خدمت کا کافی پوٹینشل ہے لیکن اسے پوری طرح استعمال نہیں کیا جا رہا۔ان جائیدادوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ڈویلپ کر کے بھاری ریونیو جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت صرف 75 سوسائٹیز PULSE کے ساتھ منسلک ہیں جبکہ ہزاروں ابھی منسلک نہیں۔محکمہ کوآپریٹوز نے تحلیل شدہ Defunct سوسائٹیز کی 9826 ملین روپے مالیت کی جائیدادیں بازیاب کرائیں۔مختلف سوسائٹیز کے مکینوں کی پانی بجلی گیس اور سیور جیسی شکایات کے ازالے کے لئے ایپس بھی بنائی گئی ہیں۔لیکویڈیشن بورڈ کی 19 سال بعد تشکیل نو کی گئی، اب بھی چند ارکان کا تقرر ہونا باقی ہے۔

جواب دیں

Back to top button