وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا جن میں اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ (ایس ای ایل ڈی) اور کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (سی ای ڈی) کے منصوبے شامل ہیں جو سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) 2026-2025 کے تحت جاری ہیں۔اجلاس میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، وزیر آبپاشی جام خان شورو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی بورڈ نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری رحیم شیخ، سیکریٹری کالجز ندیم میمن، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن شاہ زمان کھیڑو اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ (ایس ای ایل ڈی)

بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اے ڈی پی 2026-2025 کے تحت کل 130 اسکیموں پر کام جاری ہے جن میں 1,280 یونٹس شامل ہیں اور ان پر 15.57 ارب روپے لاگت آئے گی۔ تمام درکار فنڈز مختص کیے جا چکے ہیں جبکہ 1.88 ارب روپے جاری بھی کیے جا چکے ہیں۔پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی تعمیر نو کا کام سندھ کے 30 اضلاع میں 12.33 ارب روپے کی لاگت سے جاری ہے جس کی مالی معاونت وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر کر رہی ہیں۔ 481 اسکولوں میں سے 463 پر کام دیا جا چکا ہے جبکہ 317 اسکول چھت کی سطح یا اس سے اوپر تک پہنچ چکے ہیں جس سے 44 فیصد فزیکل اور 28 فیصد مالی پیش رفت ظاہر ہوتی ہے۔جائیکا (جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی معاونت سے جاری منصوبوں پر بھی پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی۔ جائیکا کے اسکول اپ گریڈیشن منصوبے کے تحت پانچ اضلاع میں 20 لڑکیوں کے اسکولوں کو پرائمری سے ایلیمنٹری سطح تک بلند کیا جا رہا ہے جن میں سے چار مکمل ہو چکے ہیں۔ جائیکا کے تعاون سے چھ اضلاع میں جاری سیلابی بحالی منصوبے میں 45 فیصد فزیکل پیش رفت حاصل ہو چکی ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے اشتراک سے جاری سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپرومنٹ پروجیکٹ (ایس ایس ای آئی پی) کے تحت 117 نئے سیکنڈری اسکول تعمیر کیے جا رہے ہیں اور 2,630 اساتذہ کو اہم مضامین میں تربیت دی جا رہی ہے۔ ایس ایس ای آئی پی کے اضافی فنڈنگ والے سیلابی جزو کی مالیت 302.5 ملین امریکی ڈالر ہے جس کے تحت خیرپور، نوشہرو فیروز، قمبر شہدادکوٹ، لاڑکانہ اور دادو کے شدید متاثرہ اضلاع میں 722 اسکولوں کی دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہے جن میں سے 528 اسکولوں کو ماحولیاتی طور پر محفوظ ٹیکنالوجی کے ذریعے اعلیٰ سطح پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے سندھ ارلی لرننگ انہانسمنٹ تھرو کلاس روم ٹرانسفارمیشن (سیلیکٹ) منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔ اس پروگرام کے تحت 12 اضلاع کے 13,000 اسکولوں میں 21,500 اساتذہ کو تربیت دی گئی، پہلی سے پانچویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے 4,50,000 سے زائد اضافی مطالعے کا مواد تقسیم کیا گیا اور 600 اسکولوں میں اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم (ایس اے ایم آر ایس) نافذ کیا گیا تاکہ طلبہ کی حاضری کو ڈیجیٹل طور پر یقینی بنایا جا سکے۔سیلیکٹ کے انفراسٹرکچر جزو کے تحت 295 پرائمری اسکولوں کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ 293 اسکولوں میں تعمیراتی کام جاری ہے جبکہ 15 اسکول دسمبر 2025 تک، 200 اسکول اپریل 2026 تک اور باقی تمام اسکول نومبر 2026 تک مکمل کر کے حوالے کر دیے جائیں گے۔کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (سی ای ڈی)وزیراعلیٰ نے کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا جو اے ڈی پی 2026-2025 کے تحت نئے کالجز کے قیام اور موجودہ اداروں کی بحالی و سہولیات کی فراہمی پر مرکوز ہیں۔ یہ منصوبے سندھ کے تمام چھ ڈویژنوں کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، میرپورخاص، شہید بے نظیر آباد اور سکھر میں جاری ہیں۔ڈائریکٹوریٹ آف پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (سی ای ڈی) کی رپورٹ کے مطابق، محکمے کی جاری اسکیموں کا مقصد خاص طور پر کم ترقی یافتہ اور تیزی سے شہری بنتے علاقوں میں ہائر سیکنڈری تعلیم تک رسائی میں اضافہ اور بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے انفراسٹرکچر، لیبارٹریز اور لائبریریوں کی اپ گریڈیشن ہے۔اکتوبر 2025 تک کی پیش رفت رپورٹ میں بتایا گیا کہ کئی نئے کالج منصوبے ٹینڈرنگ اور ابتدائی تعمیراتی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سول ورک تیز کیا جائے، خریداری کے عمل میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور تمام منصوبوں میں معیار کو اولین ترجیح دی جائے۔انہوں نے زور دیا کہ اسکول اور کالج دونوں سطحوں پر تعلیمی شعبے کو ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ سندھ کے نوجوانوں کے لیے ابتدائی تعلیم سے اعلیٰ تعلیم تک تسلسل برقرار رہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم سندھ کے مستقبل کی بنیاد ہے۔ ہماری حکومت اسکولوں اور کالجوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ ہر بچہ، خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، محفوظ، جدید اور جامع تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کر سکے۔‘‘انہوں نے ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور محکمہ خزانہ و منصوبہ بندی و ترقی کو حکم دیا کہ ملکی و غیر ملکی فنڈنگ والے تعلیمی منصوبوں کے لیے سخت مانیٹرنگ نظام برقرار رکھا جائے تاکہ عوامی فنڈز سے زیادہ سے زیادہ تعلیمی نتائج حاصل کیے جا سکیں۔






