پی ٹی آئی کی حکومت نے پشاور سمیت تمام بلدیاتی ادروں کے ترقیاتی فنڈز بند کر رکھے ہیں،میئر پشاور زبیرعلی

میئر پشاور حاجی زبیر علی نے صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کے بیان کو حقائق کے منافی اور پشاورکے عوام زیادتی اورغلط بیانی قرار دیتے ہوئے چیلنج دیا ہے کہ سٹی میٹروپولیٹن گورنمنٹ ، بلدیاتی اداروں اور صرف پشاور ہی نہیں پورے صوبے کے بلدیاتی نظام بارے وزیر موصوف کسی بھی نیشنل پلیٹ فارم پر مکالمے کے لیے آجائیں، حالانکہ صوبائی وزیر ہونا انتہائی ذمہ داری کا عہدہ ہے تاہم ایسے میں اخلاقی جرات کرنے کے بجائے الٹا حقائق سے نظریں چراتے ہوئے غلط بیانی کی۔صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے میئر پشاور حاجی زبیر علی کا کہنا تھا کہ وزیر موصوف کے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ پشاور پر حالیہ الزامات پر شدید تشویش اور افسوس ہوا۔ مینا خان آفریدی کو سب سے پہلے اپنے دورِ حکومت کی کارکردگی اور پشاور سمیت صوبہ بھر کے بلدیاتی ادروں کے فنڈز کی بندش پر عوام کو جواب دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ مینا خان آفریدی اسی پشاور سے منتخب ہوئے مگر ان کی جماعت کی حکومت نے ساڑھے تین سال تک پشاور سمیت صوبے کے بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی کاموں کے لیے ایک روپے کی ادائیگی تک نہ کی، جس کے نتیجے میں نہ صرف شہریوں کے مسائل میں اضافہ ہوا بلکہ منتخب بلدیاتی نمائندے بھی بے اختیار اور بے بس ہو کر رہ گئے۔ اگر اس دور میں بلدیاتی نظام کو مفلوج نہ کیا جاتا، تو آج حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔ میرِ پشاور نے مزید کہا کہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ جنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں تعمیراتی کاموں کے لیے ایک پیسہ جاری نہ کیا وہ ایک طرف تو وفاق پر حق نہ دینے کے نعرے مارتے ہیں دوسری طرف اپنی ناانصافیوں پر غلط بیانی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میرے والد پشاور کے ضلع ناظم تھے ان کے دور میں جو کام اس پشاورشہر کی تعمیر و ترقی اور روڈوں کی کشادگی سینکڑوں ٹیوب ویلوں کی تنصیب سمیت 100 سے زیادہ سیف ڈرنکنک واٹر سپلائی کے پانٹ اورچار پارک شہریوں کی خوشحالی کے لیے ہوئے یہ صوبائی حکومت میں رہ کر اسکا دس فیصد بھی نہ کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ نگران دورِ حکومت میں پشاور میں کئی اہم ترقیاتی منصوبے شروع اور مکمل ہوئے، جن پر بعد ازاں مینا خان آفریدی نے اپنا بورڈ لگا کر کریڈٹ لینے کی ناکام کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف سیاسی اخلاقیات کے منافی ہے بلکہ عوام کے ساتھ زیادتی بھی ہے۔ حاجی زبیر علی نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دور میں پورے صوبے کے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا، بلدیاتی اداروں کو غیر فعال رکھا اور ترقیاتی بجٹ روک کر پشاور شہر سمیت پورے صوبے کو بدحالی کے کنارے تک پہنچا دیا۔ آج اگر وہ خود ہی پیدا کردہ مسائل پر دوسروں پر انگلی اٹھا رہے ہیں تو یہ حقائق سے فرار کے سوا کچھ نہیں۔انہوں نے وزیرِ بلدیات سے مطالبہ کیا کہ اپنے دورِ حکومت میں بلدیاتی اداروں کو فنڈز نہ دینے کی سنگین غفلت کی وضاحت پیش کریں اور عوام کو جوابدیں ۔اور بتا دیں کے بے روزگاری کے خاتمے اور عوام کو بنیادی سہولتوں کے لئے کیا کیا؟۔ انہوں نے کہا کہ وزیر موصوف کو بلدیاتی میئرز کے ساتھ بحثیت وزیر بلدیات ایک میٹنگ کرنی چائیے تھی تاکہ مشکلات سے اگاہ ہوجاتے ۔ انہوں نے وزیر بلدیات کو مشورا دیا کے الزامات کے بجائے مل کر پشاور شہر سمیت پورے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کرنا چاہیے۔صوبے اور خاص کر پشاور میں کے عوام کو بنیادی سہولتوں کے ساتھ صفائی صاف پانی مہیا کرنے کے ساتھ بے روزگاری جس چیلنج کا خاتمے کےلئے اقدامات اٹھانے چاہئے میئرپشاور نے وزیرموصوف کومشورہ دیا کہ وہ بلدیاتی ادروں کوفعل کرنے کے لئے کردار ادا کریں نکہ الزمات عوام اور نوجوانوں کوہر روز احتجاج اور جلوسوں کے کے بجائے ان کے مسائل کے حل اورحقوق دیں

جواب دیں

Back to top button