پنجاب سپیشل پلاننگ اتھارٹی کا قیام منظم ٹاؤن پلاننگ کی جانب اہم قدم ہے،40 اضلاع کی ڈیجیٹل ماسٹر پلاننگ کا کام مکمل کر لیا،وزیر بلدیات ذیشان رفیق

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا ہے کہ پنجاب سپیشل spatial پلاننگ اتھارٹی (پی ایس پی اے) کا قیام منظم ٹاؤن پلاننگ کی جانب اہم قدم ہے۔ صوبے کے 40 اضلاع کی ڈیجیٹل ماسٹر پلاننگ کا کام مکمل کر لیا گیا۔سول سیکرٹریٹ میں پی ایس پی اے کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے فیلڈ فارمیشنز کی استعدادِکار بڑھانے کیلئے تربیتی پروگرام کی ہدایت کی اور کہا کہ اس کے لئے بڑی یونیورسٹیوں کے ساتھ ایم او یوز کئے جائیں۔تربیتی سیشن کے لئے لوکل گورنمنٹ اکیڈمی کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور سپیشل سیکرٹری ارشد بیگ نے بھی شرکت کی جبکہ ڈائریکٹر جنرل پنجاب سپیشل پلاننگ اتھارٹی،پراجیکٹ ڈائریکٹر پی ایم یو لوکل گورنمنٹ ام لیلیٰ نقوی نے بریفنگ دی۔

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پی ایس پی اے کے تحت ڈیجیٹل مانیٹرنگ سے مقامی حکومتوں کو سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔میڈم ام لیلیٰ کی قیادت میں پی ایم یو کی طرف سے کئے گئے کام اور حاصل ہونے والی پیش رفت کے بعد، مقامی منصوبہ بندی اتھارٹی کو کامیابی سے چلانا محکمہ لوکل گورنمنٹ کے لیے ایک چیلنج ہے۔ تمام اضلاع کا ماسٹر پلان مکمل کرنے پر پی ایم یو کے کام کو سراہا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ

پراجیکٹ منیجمنٹ یونٹ کی جانب سے تیار کیا گیا ہر تحصیل اور ضلع کا ماسٹر پلان متعلقہ علاقوں میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر آفس اور میونسپل کمیٹی کے باہر آویزاں کیا جائے۔ اگلے مرحلے میں شاہراہوں پر بھی کیو آر کوڈ کے ساتھ ماسٹر پلاننگ کے بورڈ لگائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپیشل پلاننگ اتھارٹی سے متعلق امور کو پنجاب حکومت کے ای-بِز پورٹل کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نقشے کی منظوری یا کمرشلائزیشن کنورژن کا عمل آن لائن کر دیا گیا ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ ہر ماسٹر پلان میں گرین اور ایگریکلچر ایریا کا تعین کیا گیا ہے۔ کوئی بھی شہری ای-بِز کے پورٹل پر جا کر رئیل اسٹیٹ سے متعلق خدمات حاصل کر سکتا ہے۔ وزیر بلدیات نے پی ایس پی اے کی خدمات کے حوالے سے موثر آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پلاننگ سپورٹ سسٹم سے کسی بھی خلاف ورزی کی فوری رپورٹ ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پی ایس پی اے کو سیلف سسٹین ایبل بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ بغیر کسی ماسٹر پلان کے گرین ایریاز میں ہر قسم کی تعمیرات این او سی سے مشروط ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں ماسٹر پلاننگ کا کام مکمل کرانا مریم نواز حکومت کی اہم کامیابی ہے۔ سپیشل پلاننگ اتھارٹی کے قیام کے ساتھ صوبائی سطح پر ایک نگران ادارہ وجود میں آچکا ہے جسے بتدریج متحرک اور موثر بنایا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button