پنجاب میں مقامی حکومتوں کے لئے انتخابات گزشتہ چار سالوں سے زیر التوا چلے آ رہے ہیں گزشتہ دورانیہ عدالتی حکم کے بعد31دسمبر2021 ء میں ختم ہو گیا تھا۔مگر اس وقت رائج الوقت قانون2022ء کا تھا۔جس میں نئے انتخابات براہ راست بنیادوں پر متناسب نمائندگی کے ذریعے تجویز کئے تھے۔جو موجودہ حاضر حکومت کو قبول نہ تھے۔اس لئے کئی انتخابی شیڈول آنے کے بعد واپس ہوا۔بہر حال اب حکومت وقت نے اپنی مرضی اور منشا سے نیا لوکل گورنمنٹ قانون مجریہ2025ء لاگو کر لیا ہے۔اور اس کے تحت مقامی حکومتوں کی نشاندہی(Demarcation) کا عمل بھی شروع کر رکھا ہے۔امکان ہے کہ اس رفتار سے اگر سارے مراحل اعلان کردہ شیڈول میں چلتے رہے،تو اس سال پہلی ششماہی میں عیدالفطر کے بعد انتخابی شیڈول آ سکتا ہے۔کیونکہ اب موخر یا التوا کے لئے کوئی سیاسی جواز بھی باقی نہیں بچا ہے۔
اس قانون میں انتخابات کے لئے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔وہ قابل غور ہے اور اس میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔قانون کی رو سے براہ راست اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات صرف یونین کونسلوں کی9جنرل نشستوں کے لئے ہونگے۔اور ان انتخابات کے لئے پوری یونین کونسل ایک حلقہ ہو گا۔جسے سیاسی زبان میں ملٹی ممبر حلقہ کہا جاتا ہے۔یعنی یونین کونسل میں وارڈز نہیں ہو نگی۔بلکہ یونین کونسل کے ووٹرز اپنی اپنی پسند کے مطابق ایک امیدوار کو ووٹ دیں گے اور پہلے9 نمبروں پر جو امیدوار آئیں گے وہ کامیاب قرار پائیں گے۔اس طریقہ کار سے ووٹرز کو اپنے سے متعلقہ کسی خاص امیدوار کا علم نہیں ہو گاکیونکہ سارے امیدوار ساری یونین کونسل سے ہی ووٹ لیں گے۔اجتماعی ذمہ داری ہو گی۔یہ طریق انتخاب2001ء اور2005ء میں بروئے کار لایا گیا تھا اور کامیاب رہا تھا،جبکہ اس کے قائدین کے مطابق ووٹرز کو اپنے ایک خاص کونسلر کو جوابدہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ان کے مطابق سنگل ممبر وارڈ ہی مناسب طریقہ انتخاب ہوتا ہے۔بہر حال دونوں اطراف سے دلائل میں وزن ہے۔دوسرا بڑا ایشو انتخابات کے پارٹی بنیادوں پر ہونا یا نہ ہونا ہے۔قانون2025ء میں سوچا سمجھا ابہام ہے۔حالانکہ 2013ء عدالتیں یہ مسئلہ حل کر چکی ہیں۔جب پنجاب میں ابتدائی ڈرافٹ قانون میں غیر سیاسی بنیادوں پر تجویز کیا گیا تھا۔تو اسے چیلنج کیا گیا تھا۔اور یہ بنیادی حق تسلیم کیا گیا تھا کہ سیاسی جماعت اپنے امیدواروں کا اعلان کرنے اور ٹکٹ جاری کرنے کا حق رکھتی ہے لہذٰہ پھر ایک ترمیم کے ذریعہ قانون2013ء میں اس کی گنجائش بن گئی تھی۔یوں صرف1979ء میں نا اہلیت میں ایک شق سیاسی جماعت سے وابستگی رکھی گئی تھی۔وگرنہ ملک بھر میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں ا میدواران سیاسی جماعتوں سے وابستگی اختیار کر سکتے ہیں۔سیاسی جماعتیں ٹکٹ بھی جاری کر سکتی ہیں۔کوئی قانونی ممانعت نہیں ہے۔اسی طرح ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ وہ انتخابی عمل کا حصہ بن سکے۔اگر وہ امیدواری کی جملہ شرائط پوری کر تے ہوں۔تو پارٹی امیدوار بن کریا آزاد حیثیت میں بھی انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں۔یہ بنیادی حق ہے ہر شہری کا اور قانون، آئین اسے مجبور بھی نہیں کرتا۔کہ وہ لازمی کسی سیاسی جماعت کا حصہ بنے۔جس طرح2019ء اور2022ء آزاد اراکین کو اپنا آزاد گروپ بنا کر رجسٹرکرانا پڑتا تھا۔اس طرح کی کوئی پابندی 2025ء کے قانون میں نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت پر پابندی ہے کہ وہ اپنے امیدوار کھڑے نہ کرے۔ہر سیاسی جماعت اپنا پینل بنا سکتی ہے یا ٹکٹ جاری کر سکتی ہے البتہ یہ بات حتمی طور پر الیکشن رولز(قواعد) میں طے ہو گئی ہے کہ انتخابی نشانات پارٹی بنیادوں پر جاری ہونگے یا نہیں۔وہی فیصلہ کن مرحلہ ہو گا۔تا ہم 2024 ء کے جنرل انتخابات میں یہ بات بھی طے ہو گئی کہ اگر انتخابی مہم بہتر انداز میں ہو تو کوئی سیاسی جماعت اپنے حامی ا میدواروں کو کئی طرح کے نشانات کے ساتھ بھی سامنے لا سکتی ہے اور ووٹرز تک بخوبی رسائی حاصل کر سکتی ہے۔
تیسرا ایشو جو سب سے اہم ہے وہ مخصوص نشستوں کے چناؤ کا طریق کار ہے،جو اس قانون2025ء میں ان ڈائریکٹ رکھا گیا ہے۔یعنی جنرل نشستوں والے ان کا انتخاب کرتے ہیں اور وہ بھی شو آف ہینڈ کے ذریعہ(خفیہ بیلٹ کے ذریعے)گو کہ اس طرح کا طریقہ کار ملک کے دوسرے صوبوں (بلوچستان اور سندھ) میں بھی رائج چلا آ رہا ہے۔تا ہم یہ بحث طلب بات ہے۔اور حکومت وقت اپنے اثر رسوخ اور پریشر برقرار رکھنے کے لئے تجویز کرتی ہے۔اگر سال 2001ء اور2005 میں دو انتخابات میں مخصوص نشستوں کے امیدواران کا چناؤ بھی حلقہ کے ووٹرز براہ راست،خفیہ ووٹ سے کر سکتے ہیں تو اب کیا مسئلہ ہے،حاضر حکومت کو اندیشہ ہوتا ہے کہ ان کا کنٹرول کمزور ہو جائے گا۔2001ء اور2005ء میں فوجی حکمرانی تھی مگر پھر بھی اپوزیشن سے وابستہ امیدواران کامیاب ہو گئے تھے۔اب تو جمہوری منتخب حکومتیں ہیں۔اب انہیں زیادہ پر اعتماد ہونا چاہیے۔یونین کونسل کی تمام نشستیں جنرل اور مخصوص براہ راست،بالغ رائے دہی اور خفیہ بیلٹ کے ذریعے منتخب ہونا چاہیے۔اس طرح نمائندگی بہتر اور موثر ہو گی۔اور پھر آئین کا آرٹیکل296واضح طور پر کہتا ہے کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلی کے انتخابات کے علاوہ دیگر تمام انتخابات خفیہ رائے دہی سے منعقد ہوں گے۔ہمیں جمہوری اقدار اور انداز کو مضبوط کرنا ہو گا۔تبھی ہم شفاف اور آزادانہ انتخابات کی بنیادیں مستحکم کر سکیں گے۔میری تجویز ہے کہ قانون2025ء میں درج انتخابی طریق کار پر نظر ثانی کی جائے اور ابہام کو واضح طور پر انتخابی قواعد(الیکشن رولز) کے ذریعہ طے کیا جائے۔انتخابات براہ راست ملٹی ممبر حلقہ کی بناء پر رکھیں۔پارٹی بنیادوں پر ہوں۔وضاحت کر دیں مگر اس کے لئے حاصل کردہ ووٹوں کی بنا پر(متناسب نمائندگی) نشستوں کو الاٹ کریں تو پارٹی سیاست مستحکم ہو گی۔عوام کا اجتماعی سیاسی شعور پارٹی پروگرام کے حوالہ سے استوار ہو گا۔غیر سیاسی حوالے ذات برادری۔قومیت کے حوالوں سے ووٹ کمزور پڑے گا۔جو جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے کے حوالہ سے ایک مثبت پیش رفت ہو گی۔






