سندھ میں 858 کلومیٹر ریلوے ٹریک کی بحالی کا جامع منصوبہ تیار،پاکستان ریلوے اور سندھ حکومت کے درمیان 25 سالہ شراکت داری پر اتفاق

وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی کے درمیان ایک فیصلہ کن اجلاس میں صوبے کے ریلوے نظام کو جدید بنانے کے لیے اربوں روپے کے منصوبے پر اتفاق کیا گیا۔ اس منصوبے کا آغاز کراچی تا کشمور اور کراچی تا تھرپارکر روٹس سے ہوگا جس کا مقصد لاکھوں شہریوں کو جدید سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ وزیرِاعلیٰ سندھ نے اجلاس میں عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہم صوبے بھر میں موجود 308 میں سے 100 مینڈ ریلوے کراسنگز کی تبدیلی، ریلوے نظام کی بحالی، اور پہلے مرحلے میں اپنے وسائل سے چھ ٹرینیں جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید چھ ٹرینیں چلانے کے لیے 6.6 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر فنڈز کے اجرا کی بھی ہدایت دی۔ وزیرِاعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیرِ ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن، وزیرِاعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن شریک ہوئے۔ وفاقی وزیر کے وفد میں سیکریٹری ریلوے مظہر علی شاہ، جنرل منیجر ریلوے عامر بلوچ اور دیگر اعلیٰ افسران شامل تھے۔ اجلاس کا مرکزی نکتہ ریل پر مبنی مضافاتی ٹرانسپورٹیشن پلان تھا جس کا مقصد ’سٹی سینٹر سے سٹی سینٹر’ براہِ راست رابطہ فراہم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ تقریباً 3 کروڑ 70 لاکھ افراد کو سہولت فراہم کرے گا جو سندھ کی مجموعی آبادی کا 67 فیصد بنتے ہیں۔ منصوبے کے تحت چھ اہم روٹس پر 858 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی بحالی کی تجویز دی گئی ہے، جن میں کوٹری–دادو (181 کلومیٹر)، دادو–لاڑکانہ–حبیب کوٹ (166 کلومیٹر)، حیدرآباد–میرپورخاص–ماروی (200 کلومیٹر)، روہڑی–جیکب آباد (87 کلومیٹر)، جیکب آباد–کشمور کالونی (124 کلومیٹر) اور حیدرآباد–بدین (100 کلومیٹر)شامل ہیں۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ اس سرمایہ کاری کے بعد کوٹری سے دادو کے درمیان سفر کا وقت تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کم ہو جائے گا۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 63.26 ارب روپے رکھی گئی ہے، جس میں 33 ارب روپے بنیادی انفراسٹرکچر (سول ورکس، ٹریک اور سگنلنگ)، 27.6 ارب روپے چھ جدید ڈی ایم یو (DMU) ٹرین سیٹس کی خریداری اور 2.66 ارب روپے دیکھ بھال کی سہولیات شامل ہیں۔ تجویز کردہ بزنس ماڈل کے تحت سندھ حکومت انفراسٹرکچر کے اخراجات کی 100 فیصد ذمہ داری اٹھائے گی، جبکہ پاکستان ریلوے رائٹ آف وے (RoW) اور ضروری منظوری فراہم کرے گا۔ اجلاس میں 308 غیر محفوظ (ان مینڈ) ریلوے کراسنگز کو محفوظ بنانے کے لیے انہیں مینڈ کراسنگز میں تبدیل کرنے کے 6 ارب روپے کے منصوبے پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کا مقصد حادثات کی روک تھام اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ وزیرِاعلیٰ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ حکومت کا مقصد سندھ کے دور دراز علاقوں کو جدید، سستی اور محفوظ سفری سہولیات سے جوڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور شہریوں کو محفوظ ‘سٹی سینٹر سے سٹی سینٹر’ سفری سہولت میسر آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 858 کلومیٹر طویل ریلوے نیٹ ورک کی بحالی کے لیے فنڈنگ پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس میں انسانی تحفظ اور مسافروں کے آرام کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تعاون پاکستان ریلوے کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ ریلوے سندھ کو ایسا ریلوے نظام فراہم کرنا چاہتی ہے جو ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی میں بھی کردار ادا کرے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان ریلوے اس منصوبے کے لیے مکمل تکنیکی معاونت اور رائٹ آف وے فراہم کرے گی۔ روہڑی ریلوے اسٹیشن: اجلاس میں روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن پر خصوصی توجہ دی گئی جس پر 999.97 ملین روپے کی لاگت آئے گی۔ منصوبے میں پلیٹ فارمز کی خوبصورتی، چھ ایسکلیٹرز کی تنصیب، اسٹیشن عمارتوں کی تزئین و آرائش، اور شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تعمیر شامل ہے۔ فیصلہ کیا گیا کہ روہڑی ریلوے اسٹیشن کو چھ ماہ کے اندر اپ گریڈ کیا جائے گا۔ عوامی تحفظ: اجلاس میں ریلوے لیول کراسنگز پر حادثات کے سنگین مسئلے پر بھی غور کیا گیا۔ پاکستان ریلوے کے مطابق ریلوے حادثات میں 37 فیصد واقعات غیر محفوظ کراسنگز پر پیش آتے ہیں۔ اس لیے سندھ حکومت سے 100 ہائی رسک کراسنگز کو مینڈ بنانے کے لیے 6 ارب روپے کی معاونت کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ مضافاتی ریلوے نظام نہ صرف سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ اور سڑکوں کی مرمت کے اخراجات میں کمی لائے گا بلکہ طلبہ، ملازمین اور تاجر برادری کے لیے ایک ماحول دوست اور باوقار سفری ذریعہ فراہم کرے گا۔ اجلاس کا اختتام پاکستان ریلوے اور سندھ حکومت کے درمیان 25 سالہ فریم ورک پارٹنرشپ معاہدہ جلد دستخط کرنے کے عزم کے ساتھ ہوا تاکہ ریلوے ترقی کے منصوبوں میں طویل المدتی تعاون کو باقاعدہ شکل دی جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button