اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی طارق منظور چانڈیو، بین الاقوامی کنسلٹنٹس اور دیگر حکام کی شرکت کی۔ اجلاس میں بس ڈیپوز اور ٹرمینلز کے تعمیراتی کام میں پیش رفت، اور یوٹیلیٹیز کی منتقلی جیسے چیلنجز سمیت دیگر پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں سی ای او ٹرانس کراچی طارق منظور چانڈیو نے پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس کے موقع پر بین الاقوامی کنسلٹنٹس نے تعمیراتی عمل میں بین الاقوامی معیارات کی پاسداری یقینی بنانے اور چیلنجز پر قابو پانے کے لیے اپنی تکنیکی سفارشات پیش کیں۔ اجلاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی کراچی شہر کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، چیلنجز سے نمٹنے اور پراجیکٹ کی ٹائم لائنز کو پورا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ کراچی کے مسافروں کے لیے گیم چینجر ہے، ہم اس میں مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اجلاس کے دوران سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے محکمہ ٹرانسپورٹ کو یوٹیلیٹی سروس فراہم کرنے والوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی بھی ہدایات دیں اور کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو یوٹیلیٹی کی منتقلی اور تعمیرات کو تیز کرنے جیسے مسائل کو حل کرنے کی مربوط کوششیں کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی کے شہریوں کے لیے جدید، موثر اور ماحول دوست ٹرانسپورٹیشن سسٹم فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ 26 کلومیٹر پر محیط ہے اور یہ کراچی کے وسیع تر ماس ٹرانزٹ منصوبے کا سنگ بنیاد ہے، ریڈ لائن بی آر ٹی روزانہ ہزاروں مسافروں کو سہولت فراہم کرنے اور ٹریفک کے دبائو کو کم کرنے کی صلاحیت ہے۔






