*پنجاب کی مقامی حکومتیں۔ مستقبل* تحریر:زاہد اسلام

کہنے کی حد تک جمہوری ممالک میں بااختیار اور منتخب مقامی حکومتیں عوامی سطح پر بنیادی ضروریات زندگی اور خدمات کی فراہمی کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں اور پھر ہماری مملکت کے بنیادی اصولوں میں بھی منتخب مقامی حکومتوں کو تسلیم کیا گیا ہے اور پرائمری سطح پر حکومتی درجہ بھی دیا گیا اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ انگریزی راج کے دور سے ہی مقامی حکومتی ادارے کام کر رہے ہیں البتہ اکثر اوقات ان اداروں کی گورننگ باڈی جو منتخب افراد کی کونسلیں ہوتی ہیں وہ یا تو اپنا دورانیہ مکمل کر کے فارغ ہو جاتی ہیں یا پھر انہیں بوجہ برخاست کر دیا جاتا ہے ہر دوشکلوں میں آئینی اور قانونی طور پر مقامی حکومتوں کے نئی انتخابات لازمی ہو جاتے ہیں ایک دوسرا پہلو زیادہ اہم ہے کہ جدید جمہوری اور وفاقی ریاستوں میں حکومتی اختیارات کو مرکوزیت کی بجائے نیچے منقلی کو ہی بہتر حکمرانی قرار دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مقامی حکومت فعال اور متحرک نظر آتی ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ دو درجہ حکمرانی ہے ہر جگہ اور ہر سطح پر نظر آتا ہے مگر ہمارے حکمران اور پاپولر سیاسی جماعتیں جو خود بھی مقامی حکومتوں میں ایک اہم کردار ہوتی ہیں انہیں منتخب مقامی حکومتوں سے کوئی زیادہ دلچسپی نظر نہیں آتی بلکہ ان کا شوق سیاسی شخصی نمود و نمائش اور ووٹ بینک برقرار رکھنے تک محدود رہتا ہے۔ مقامی حکومتیں تو متحرک رہتی ہیں مگر ان کی گورننگ کونسلیں غائب ہو جاتی ہیں اور سیاسی قیادت جن کے کارکنوں نے ہی ان کی کونسلوں میں منتخب ہونا ہوتا ہے۔ وہ خود بھی وہ خود بھی مقامی حکومتوں کے انتخابات پر اپنی ہی جماعتوں میں آواز بلند نہیں کرتے،بلکہ برعکس رویہ اختیار کرتے ہیں مجھے تو یہ رویہ سیاسی شعور کے فقدان کا اظہار نظر آتا ہے تاہم استثنائی پہلو بھی ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔اکا دکا سیاسی کارکن اور سیاسی شخصیات مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی تحریک میں نمایاں نظر بھی آتے ہیں۔

پاکستان کے تین صوبوں بلوچستان سندھ اور خیبر پختون خواہ میں سال 2013 کے بعد سے لے کر آج تک دو دفعہ منتخب مقامی حکومتیں فعال اور متحرک ہیں۔ان کے انتخابات میں تاخیر ضرور ہوئی ہے مگر ماسوائے کوئٹہ کے ہر جگہ منتخب مقامی حکومتوں کے دو عدد دورانیہ جات مکمل ہو رہے ہیں۔ مگر پنجاب جو کہ ملک کا بڑا صوبہ ہے یا ایک دورانیہ ہی مکمل ہوئے اب 10 سال مکمل ہونے کو ہیں اس دوران پانچ قوانین بدلے گئے ہیں۔چار دفعہ حلقہ بندیاں کی گئیں۔ انتخابی شیڈول بھی اعلان ہوئے۔ مگر سال 2021 کے بعد سے لے کر آج تک منتخب کونسلیں تشکیل نہیں پا سکیں۔ آخر بنیادی وجہ کیا ہے گڈ گورننس سے جمہوریت کا تقاضہ کیا ہے کہ موجودہ مقامی حکومتوں کی رہنمائی کے لیے منتخب کونسلز ہوں۔ جن میں لامحالہ حکمران جماعت کے ہی کارکن نمایا ہوں گے۔ کیونکہ ہمارا انتخابی عمل حکمران جماعت کے حق میں ہی نتائج پیدا کرتا ہے مگر پھر بھی انتخابات میں رکاوٹ ہے اور نئی انتخابات کے لیے مطالبہ بھی بہت کمزور ہے۔ اس کے باوجود کہ متفق سبھی نظر آتے ہیں۔ کہ بااختیار اور مناسب وسائل کے ساتھ منتخب مقامی حکومتوں فوری متحرک کی جانی چاہیں۔ ذرا المیہ دیکھیں۔ مارچ 2025 میں نئی قانون سازی کے لیے ایک بل آتا ہے جو بیوروکریٹس کا ڈرافٹ کیا گیا ہوتا ہے۔اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ جس میں اس اقتدار اور حزب اختلاف ارکان موجود ہوتے ہیں۔ یہ کمیٹی اٹھ ماہ غور و خوض کرتی ہے۔ 15 اجلاس ہوتے ہیں۔ کوئی 50 سے زائد تجاویز مرتب ہوتی ہیں۔ اکتوبر میں اسمبلی میں دوبارہ پیش کر دیا جاتا ہے۔ اسمبلی قواعد معطل کر کے اسے منظور کر لیتی ہے اور اگلے روز گزٹ نوٹیفائی ہو جاتا ہے۔ ایکٹ آف اسمبلی کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا جاتا ہے۔ تاہم انتخابی عمل کو سٹے کرنے کی درخواست نہیں کی جاتی۔ لہذا اس قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے انتخابی مراحل کا آغاز ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلاکام قانون کے مطابقت میں مقامی حکومتوں کی نشاندہی کا عمل ہے۔جو آج تک مکمل نہیں ہوا۔ اس کے باوجود کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی بار بار تنبیہ اور نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ اب آخری بار الیکشن کمیشن نے اپنی چار رکنی ایک کمیٹی بنائی تھی کہ حکومت کے ساتھ مل کر 10 فروری 2026 تک یہ عمل مکمل کرائے۔ تاکہ حلقہ بندیوں کی تشکیل ہو سکے،مگر حال یہاں بھی کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی نہ الیکشن رولز فریم ہو سکے۔ نہ متحرک فعال مقامی حکومتوں کی ٹرانسفارمیشن ہی نئے قانون کی مطابقت میں ہو سکی۔ یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ آج کی تاریخ میں جو مقامی حکومتی ادارے متحرک اور فعال ہیں گو کہ ان کی نگرانی پبلک سروس کے افسران کر رہے ہیں مگر وہ سال 2013 کے قانون کے تحت تشکیل شدہ ہیں۔جبکہ پانچ نئے قوانین گزشتہ نوٹیفکیشن کا عرصہ گزر گیا اور سال 2013 کا قانون ایکٹ آف اسمبلی سے منسوخ بھی ہو چکا ہے۔ مگر ادارے ویسے ہی کام کر رہے ہیں۔ اس کا قانونی جواز بھی رکھتے ہیں کہ جس نوٹیفکیشن کے تحت انہیں ٹرانسفارم کرنا تھا۔ وہ 2022 میں جاری ہوا۔ اور اس پر عمل درآمد تا حکم ثانی روک دیا گیا جو چلا آ رہا ہے یہ ہے ہماری جمہوریت۔

المیہ یہ ہے کہ پنجاب کی حکومت 197 بہتر کام کر رہی ہے۔ امن و ایمان اور نظم و ضبط بہتر ہوا ہے۔ خدمات میں بہت وسعت آتی ہے۔ ریکارڈ ترقی یافتہ منصوبے عمل درآمد کی سٹیج پر ہیں مگر مقامی حکومتوں کے انتخابات کا روڈ میپ موجود نہیں ہے۔ بلکہ حکومتی اراکین اسمبلی میں بیٹھ کر متفقہ قرارداد منظور کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں اعلی سطح اجلاس کرتے ہیں۔ جو مقام حکومتوں کو با اختیار بنانے کے لیے ہوا، مگر عمل کیا ہے انتخابی عمل کو شروع نہیں کیا جا سکا۔ بلکہ اب کچھ ذمہ داران نے یہ نوید سنائی ہے کہ سسٹم کو ہی تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار نظر آرہا ہے افسوس صد افسوس

جواب دیں

Back to top button