*عورتوں کا قومی دن اور مقامی حکومتیں* تحریر:زاہد اسلام

آج کی دنیا ماضی سے مختلف ہے یہ کئی زاویوں سے مختلف ہے بلکہ ارتقائی سلسلہ ایک غالب معاشرتی رجحان ہے کمزور لوگوں کی آوازیں ہر جگہ ہر سطح پر بلند ہو رہی ہیں ابھی جو دن گزرا 12 فروری 1983 کو لاہور کی خواتین نے ضیاء الحق کی حکومت کے مجوزہ حدود آرڈیننس میں قانون شہادت میں گواہی کے ضمن میں تجاویز پر شدید احتجاج کیا تھا۔ جس میں تجویز کیا گیا تھا کہ سول مقدمات میں ایک مرد کے مقابل دو عورتوں کی گواہی کو قانونی شکل دی جائے گی عورتوں کا یہ احتجاج ا جس کا نعرہ تھا آدھی گواہی نا منظور ایک نقطہ کا آغاز تھا جو پھر اسی سال ملک گیراحتجاج کی شکل اختیار کر گیا لاہور کے احتجاجی جلوس پر تشدد کا مظاہرہ بھی ہوا اور 50 کے قریب عورتیں اور ان کے ہمراہی مرد بھی گرفتار ہوئے تھے پھر 2012 میں حکومت نے اسی دن کو عورتوں کا قومی دن قرار دے دیا۔ عورتوں کی تحریک مساوی انسانی حقوق کے لیے ہے جو کئی ریاست ریاستوں سے کئی دہائیوں سے جاری ہے یہ حقوق بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ مساوی معاشی سیاسی حقوق کے لیے بھی ہے تحریک کمزور نہیں ہے بہت طاقتور آواز ہے۔جب ہم سیاسی حقوق کی بات کرتے ہیں تو حکمرانی کے ادوار میں عورتوں کی نمائندگی کا حق اہم ایشو بن جاتا ہے جیسے ہماری معاشرت میں اب قانونی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے ہر سطح کی قانون ساز اسمبلیوں میں عورتوں کے لیے براہ راست اور ان ڈائریکٹ طریقہ سے نشستیں مخصوص کی جاتی ہیں جو ان کی آبادی اور حق نمائندگی کے حوالے سے بہت کم ہے تاہم اگر ابتدائی ابتدا سمجھی جائے تو تاریخی پیش رفت ہے اور گزشتہ 75 سالوں سے یہ نمائندگی چلی آرہی ہے اور ملک بھر میں عورتوں نے ہر میدان اور ہر شعبہ میں اپنی مساوی حیثیت کو تسلیم کرایا ہے اب زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ متحرک نظر نہ آئیں مقامی حکومتیں عورتوں کی اس تحریک کا اہم اظہار ہے جہاں ہر سطح پر ہر جگہ عورتوں کی نمائندگی کو قانونی حیثیت دی گئی ہے بلوچستان سندھ میں یہ نمائندگی 25 فیصد تک موجود ہے جبکہ خیبر پختون خواہ اور پنجاب میں یہ نمائندگی تعداد کے حوالہ سے مخصوص ہے خیبر پختون خواہ میں ابتدائی کونسلوں میں سات ممبران میں ایک خاتون ہوئی ہے پنجاب میں ابھی انتخابات تو نہیں ہوئے مگر قانون میں ہر یونین کونسل کی 13 نشستوں میں ایک نشست عورت کے لیے مخصوص ہے مگر کوئی ممانعت نہیں کہ عورتیں دیگر نشستوں پر بھی منتخب ہو سکتی ہیں سربراہ بھی بن سکتی ہیں جبکہ صوبہ کی چیف ایگزیکٹو بھی آج کل خاتون ہیں اور یہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں پہلی بار خاتون وزیراعلی موجود ہیں بلکہ حکمرانی کا انداز بھی بہتری کی طرف گامزن ہے خواتین کی بہتری اور اختیارات میں اضافہ کے حوالہ سے کئی ایک اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں جو یقینا اچھے اور مناسب اشاریے ہیں مگر مقامی حکومتوں میں نمائندگی کے حوالہ سے نظر ثانی ضروری ہے پنجاب میں ماضی کی مقامی حکومتوں میں عورتوں کے لیے نمائندگی بھی مناسب تو نہیں تھی تاہم اج سے زیادہ تھی 2001 میں کے ماڈل میں تو 33 فیصد نمائندگی کو یقینی بنایا گیا تھا جو مشرف حکومت کا خاص تحفہ تھا۔ اس وقت یونین کونسل میں دو نشستیں جنرل کیٹگری میں تھی جبکہ محنت کشوں کی چار مخصوص نشستوں میں بھی دو عورتوں کے لیے نشستیں مخصوص تھی اور یہ نمائندگی براہ راست طریقے سے تھی۔یعنی ووٹرز ہی اپنے حلقہ یونین کونسلوں میں عورت امیدواروں کو منتخب کرتے تھے۔تو نتیجتا کئی یونین کونسلوں میں عورتیں سربراہ بھی منتخب ہوئیں جو بعد ازاں تحصیلوں،ٹاؤنوں اور اضلاع کی حکومتوں میں سربراہ یا نائب سربراہ نظر آئیں۔مگر2013کے ماڈل میں نمائندگی کا طریقہ بدل دیا گیا۔عورتوں پر پابندی نہیں تھی کہ وہ جنرل نشستوں پر یا سربراہی کے مقابلہ میں بھی امیدوار بن جائیں۔مگر مخصوص نشستوں کو33 فی صد برقرار رکھتے ہوئے طریقہ انتخاب کو ان ڈائریکٹ کر دیا گیا۔جسے عورتوں کے احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے قبول کیا اور پنجاب کی یونین کونسلوں میں 9ہزار کے قریب خواتین کونسلرز منتخب ہوئیں۔ جبکہ کل کونسلرز 50 ہزار کے لگ بھگ تھے اس کے بعد 2019 میں قانون پھر بدل دیا گیا اور عورتوں کی نشستیں برقرار رکھتے ہوئے طریقہ انتخاب میں تھوڑی تبدیلی ہوئی، تاہم یہ قانون 2021 میں تبدیل ہو گیا اس کے تحت کوئی انتخاب نہیں ہو سکا۔ پھر نیا قانون 2022 سال 2022 کے قانون میں تو متناسب نمائندگی کے ذریعے ہی یونین کونسلوں کی نشستیں آلاٹ ہونا تھیں، مگر سات نشستوں میں ایک عورت کے لیے مخصوص نشستیں بھی براہ راست انداز میں چیئر پرسن کے مشترکہ پینل کا حصہ بنا دی گئی تھیں، جو بہتر طریقہ تھا لیکن اب حالیہ قانون مجریہ 2025 میں عورتوں کی نشستوں کو نصف کر دیا گیا ہے۔ اب یونین کونسل میں 13 ممبران ہوں گے، اور عورت کی نشست صرف ایک جبکہ 2013 میں یہی اسی انداز کی نمائندگی دو نشستوں کے ذریعے تھی اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ 2013 کے مقابلے میں 2025 میں عورتوں کی مخصوص نشستوں کے ذریعے نمائندگی نصف ہو جائے گی۔ یہ ناانصافی بھی ہے اور صوبہ کی وزیراعلی خاتون ہے ان کی حکومت میں یہ انصافی ہو رہی ہے 2013 میں جہاں 9 ہزار سے زائد خواتین کونسلرز متحرک تھیں۔اب 50 فیصد سے بھی کم ہوں گی۔ہو سکتا ہے کہ اب دیگر کیٹگریز جنرل محنت کش یوتھ اور غیر مسلم میں امیدواروں میں عورتیں زیادہ ہوں، مگر مخصوص نشستوں کی تعداد کو کم کرنا مناسب نہیں ہے اور پھر طریقہ انتخاب بھی غیر مناسب ہے ان ڈائریکٹ انتخاب بھی ماضی کے برعکس ہیں ووٹ کا تقدس بھی کمپرومائز کر دیا گیا ہے۔ یعنی بنیادی انتخاب بالغ رائے دہی کی بنیاد پر صرف نو نشستوں کے لیے ہوگا، اور پھر نو ممبران ہاتھ اٹھا کر مخصوص نشستوں کو منتخب کریں گے اس طریقے سے ضمیر کے مطابق ووٹ رائے دہی کا مفہوم بھی ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ سرکاری اثرورسوخ کے ساتھ ساتھ دیگر سماجی اور معاشی پریشرز ترغیب اور دباؤ بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں یہ طریقہ جمہوری اقدار کے خلاف ہے اور ہمارے آئین کی بھی مطابقت میں نہیں جہاں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ وزیراعلی اور وزیراعظم کا انتخابات کے سوا دیگر تمام انتخابات خفیہ رائے دہی سے ہوں گے میری بحث یہ ہے کہ 12 فروری 1983 کی تحریک کا اور 12 فروری کو عورتوں کی قومی دن قرار دینے کا عملی اظہار تو فیصلہ ساز اداروں میں اور حکومتی انتظامیہ میں ان کی مناسب بااختیار اور باوقار نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔لہذا مقامی حکومتوں میں عورتوں کی نمائندگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے یہ مخصوص نشستوں کے ذریعے تعداد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ انہیں پہلے سے منتخب نمائندوں (جنرل نشستوں) کی محتاجی سے بچانا بھی لازمی قرار دیا جائے۔مخصوص نشستوں کو بھی براہ راست بالغ رائے دہی اور خفیہ ووٹ کے ذریعے عام ووٹرز منتخب کریں۔ایسا کرنے عورتوں کی فیصلہ سازی کے ابتدائی مرحلہ میں نمائندگی بہتر ہو گی۔اور اس کے اثرات پوری سماجی و معاشرتی زندگی میں نظر آئیں گے۔مقامی حکومتیں صرف بنیادی سطح کی حکومتی نظام نہیں ہیں۔بلکہ یہ کمیونٹی لیڈز شپ کے لئے بہترین تربیت گاہ بھی ہیں جو خواتین کونسلرز یا سربراہ منتخب ہوتی ہیں۔وہ اپنے حلقہ کے عوام کو بہتر شفاف اور انصاف کے تحت خدمات سر انجام دیتی نظر آئی ہیں۔اب صوبہ کی موجودہ حکومت کا موازنہ سابقہ دو حکومتوں سے کر لیں گورننس میں بہتری نظر آتی ہے۔گہ کہ کئی مسائل ساتھ ساتھ چلتے ہیں مگر فیصلہ سازی میں با اختیار حیثیت سے اگر خاتون ہو گی تو مجموعی حکمرانی میں شفافیت اور سرعت انگیزی واضح طور پر نظر آئے گی۔جس کا منطقی نتیجہ عوام کو خدمات اور سہولیات میں بہتری نظر آئے گی۔آج کے کالم کا لب لباب اور خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کو با اختیار بنانے اور مساوی معاشرتی حیثیت دلانے کے لئے مقامی حکومتوں میں ان کی نمائندگی کو نمایاں کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی مخصوص نشستوں میں اضافہ کیا جائے اور براہ راست طریقہ انتخاب اختیار کیا جائے اور الیکشن ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ 5فی صد امیدواروں لازمی خواتین کو سامنے لائیں۔

جواب دیں

Back to top button