ہم جب بھی ذکر کرتے ہیں موضوع بحث مقامی حکومتیں بطور ادارے ہوتی ہیں ہم نے کبھی مقامی حکومتوں کے سرکاری اہلکاروں کے حالات بارے ذکر نہیں۔ اسی طرح مقام حکومتوں میں انتخابات پر تو زور دیا جاتا ہے لیکن منتخب کونسلرز اور سربراہان کی بے بوقعتی اور احتجاجی مظاہروں کا ذکر نہیں کرتے۔ہم عام طور پر ہمیشہ وکالت کرتے ہیں کہ مقامی حکومتوں میں پبلک سروس سے ا فسران کو نہ لایا جائے۔لوکل گورنمنٹ سروس کو مضبوط کیا جائے۔یہ مطالبہ نعرے کی حد تک معقول ہے، مگر اس کی تفصیلات میں جائے بغیر ہم اصل مسئلہ کی نشاندہی نہیں کر سکتے۔اسی طرح ملک بھر میں منتخب مقامی حکومتوں کا مطالبہ تو شدت سے کیا جاتا ہے لیکن جو پہلے منتخب نمائندوں کے ساتھ نارووا سلوک ہو رہا ہے اس پر بھی بات کرنے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ دنوں کی اہم خبر یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے منتخب تحصیل ناظمین اور منتخب کونسلروں کی بڑی تعداد اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرے کر رہی ہے۔ اور ان کے ہمراہ پورے صوبے سے نمائندہ کونسلرز بھی شریک ہیں۔ بنیادی وجہ اس بے اختیاری اور عدم کی توجہیی ہے۔ جس کا شکار وہ بنائے گئے ہیں۔صوبہ خیبر پختون خواہ میں 2019 میں جب دوسری ٹرم کا آغاز ہوا تو لوکل گورنمنٹ کے رائج نظام میں بنیادی تبدیلی کر دی گئی۔ ضلع گورنمنٹ کو منتخب سربراہ کی بجائے ڈپٹی کمشنر کی زیر نگرانی کر دیا گیا اور منتخب لوکل گورنمنٹ میں ضلع ختم کر کے تحصیل حکومت وضح کر دی گئی۔ مگر سرکاری محکمے جن میں لائن ڈیپارٹمنٹ بھی آتے ہیں ان کی مینجمنٹ اب ڈپٹی کمشنر زکے ذریعے ہوگی۔ یہی تنازعہ کا نکتہ آغاز ہے منتخب ناظمین تحصیل کونسل عملی طور پر بے اختیار ہیں۔ کیونکہ ساری خدمات اور سہولیات کی فراہمی ضلع پر مربوط اور متحرک حکومتی محکمہ جات بذریعہ ڈپٹی کمشنرز کرتے ہیں۔ اسی طرح تحصیل کونسلوں میں بھی پبلک سروس افسران بطور اکاؤنٹ آفیسر بجٹ پلاننگ اور استعمال میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔جبکہ عوام کے ووٹوں سے منتخب سربراہان، ناظمین اور نیبرہڈ اور ویلج کونسل ممبران کو ہر قسم کی منصوبہ سازی اور بجٹ کے حصول کے لیے سرکاری آفسران کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے اور یہ کیفیت صرف خیبر پختون خواہ میں نہیں۔ بلکہ سندھ،بلوچستان میں بھی لوکل گورنمنٹ سروس نسبتاکمزور ہے اور پاکستان ایڈمنسٹریٹرز تو سروس کے آفسران زیادہ طاقتور ہیں۔ مسئلہ سادہ اور آسان نہیں ہے فنڈز کے استعمال کا اختیار کلی طور پر منتخب افراد کے پاس ہوگا تو ہی وہ دوسرے منتخب افراد اور کونسلوں کو جواب دہ ہوں گے۔بصورت دیگر ے وہ سب مل کر حکومتوں کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں اور پھر وڈویلپمنٹ اتھارٹیز اور اس طرح کی پرائیویٹ کمپنیاں جو لوکل گورنمنٹ میں پبلک سروس کے افسران کے کنٹرول میں کام کرتی ہیں۔ منتخب نمائندوں کی پہنچ اور دسترس سے باہر ہیں۔ یہ رولز مقامی حکومتوں کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔ مقامی حکومتوں میں بہت بڑی تعداد میں گریڈ 16 تک کے ملازمین آتے ہیں۔ جن میں سارے نہیں زیادہ تر لوکل گورنمنٹ سروس کیڈر سے ہیں۔جبکہ ان کے سربراہ اور صاحبان با اختیار پبلک سروس کے افراد ہیں۔ زیادہ تر پی اے ایس کیڈر سے ہوتے ہیں جن کا مزاج زیادہ تر حاکمانہ ہوتا ہے۔ خود کو کمپنی بہادر کے نمائندے قرار دیتے ہیں، اور پھر چونکہ مقامی حکومتوں کا زیادہ تر انحصار صوبائی گرانٹ پر ہوتا ہے۔ لہذا ملازمین کو مالی دشواریاں بھی درپیش ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات ماہانہ
تنخوا ہوں کی ادائیگی میں بے قاعدگی ہوتی ہے۔ بہت بڑی تعداد ملازمین کی ابھی تک کنٹریکٹ ملازمین کی شکل میں چلائے جا رہے ہیں۔ ملازمت بھی ریگولر ائزڈ نہیں کی گئیں۔ ایک قلیل تعداد گھوسٹ ملازمین کی بھی ہے۔ جنہیں سیاسی مفادات کے تحت نوکری پر رکھا جاتا ہے۔ جبکہ وہ کام کہیں اور کسی اور کے لیے کرتے ہیں۔ چنانچہ اپ دیکھتے ہیں کہ لوکل گورنمنٹ نے ایمپلائی فیڈریشن کے ملازمین جگہ جگہ کی احتجاجی مظاہرے کرتی ہیں۔ نہ تو ان کے سروس رولز کی کو بہتر بنایا گیا ہے۔ اور نہ ہی ان کی تنخواہوں کی ادائیگی میں باقاعدگی آئی ہے جواز یہ بنایا جاتا ہے کہ صوبائی گرانٹ کی وصولی میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ آج کے مہنگائی زدہ معاشرے میں اگر کم از کم اجرتیں بھی باقاعدگی سے ادا نہیں نہ ہوتی ہوں تو”گڈ گورننس“ کا سوال تو ناممکن رہے گا






