دور حاضر میں جمہوریت مملکتوں میں بہترین ثمرات کا اشاریہ اس ملک کے انداز حکمرانی کے معیارات سے لگایا جاتا ہے۔کیونکہ اندازی حکمرانوں کے براہ راست اثرات منفی یا مثبت حوالوں سے رہائشی عوام کی زندگی سے طے کیے جاتے ہیں۔جہاں عوام حکومت،حکومتی پالیسیوں سے مطمئن ہوں گے۔ انہیں زندگی کی ضروریات بہ آسانی مہیا اور دستیاب وہاں خوشحالی ہو نگی، اور عوام کے مابین یکجہتی بھی ہوگی اور کوئی قروعی تضادات دب جائیں گے۔ نتیجا امن اور استثنی کا دور دورہ ہوگا۔ لہٰذا گڈ گورننس محض ذریعہ نہیں،بلکہ اظہار بھی بن جاتا ہے۔اب آئیے دیکھیں کہ”گڈگورننس”کی پیمانے اور معیارات کیا ہیں۔ عوام کو شریک بنانا، ان کی ضروریات کی تکمیل کے لیے شامل صوبہ بندی میں شامل کرنا، عوام کی ضروریات محض روٹی کھانا ہی نہیں ہوتا۔ ان کے لیے مناسب روزگار رہائش اور تعلیم،صحت کی ضروریات کی فراہمی یقینا اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر ان کی ذہنی نشونما، استعدادکار میں بہتری بھی ان کی ترقی و نشوونما کی ضامن ہوتی ہے اور یہ سب کچھ گراس روٹ پر مقامی حکومتوں کی فعالیت اور موثر تحریک کے باعث حاصل ہو سکتا ہے۔کیونکہ جمہوریت کے حقیقی ثمرات سے عوام اپنی روزمرہ معاشرتی زندگی میں استفادہ کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے ہر جمہوری ملک میں حکومتیں عوامی ضروریات کے لیے انداز سازی بھی کرتی ہیں۔اور ساری پالسیاں عوام کو زیادہ سے زیادہ فوائد پہنچانے کی غرض سے مرتب کی جاتی ہیں۔ اسی لیے جمہوری معاشرے میں سرکار کا فوکس عوامی ضروریات کو ایڈریس کرنا ہوتا ہے۔ مقامی حکومت اس عمل میں بہترین حکومتی درجہ ہوتی ہے۔کیونکہ مقامی حکومتوں کا دائرہ کار سکوپ ہی عوام کی روزمرہ ضروریات زندگی کی فراہمی اور مینجمنٹ ہوتا ہے۔ یہ بات ہے ہوتی ہے کہ کسی ملک یا صوبے میں مقامی حکومتیں کتنی با اختیار ہیں اور ان کے بنیادی رول۔ فنکشنز کیا ہیں۔ اور پھر ان کی گڈ گورننس کا انداز، طریق کار کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انگریزی راج میں بھی جب عوام کا جذبہ ٓازادی کو دھیماکرنا مقصود تھا۔ تو وائسرائی ہند نے لوکل سیف کا تصور رو شناس کروایا۔ یعنی مقامی سطح کی گورننس اور مینجمنٹ،مقامی رہائشی عوام کی از خود سیلف حکمرانی کی شکل میں متعارف کروائی۔ اگر انگریزی استعمار کا معقمہ کچھ بھی ہو مگر مقامی حکومتوں نے حکمرانی کی ابتدائی درجے کی کچھ کی حیثیت سے اپنی اہمیت تسلیم کروائی اور آہستہ آہستہ مسلمہ ہوتی گئی۔ گزشتہ صدی میں جب ریاستی اسٹیبلشمنٹ بھی نوزائدہ تھی۔ مقامی حکومتیں زیادہ بااختیار بھی تھیں اور ان کے فرائض سکوپ میں خاصی وسعت تھی۔ابتدائی پرائمری سطح کی تعلیم، انسانوں،حیوانات کی صحت، ٹرانسپورٹ، رہائشی سکیمیں۔ ٹاؤن پلاننگ، میونسپل ذمہ داریاں اور تفریحی، کھیل میلہ جات،تہواری تقریبات سبھی کچھ مقامی حکومتوں کے زیر انتظام ہوتا تھا۔ جوں جوں ریاستی اسٹیبلشمنٹ کی نشونما ہوتی گئی ان فنکشنز کی ادائیگی کے لیے بھی سرکاری ادارے بنتے گئے۔ نت نئے محکمے وجود میں آتے گئے تو مقامی حکومتوں کے روایتی فرائض کو خصوصی اداروں کی طرف شفٹ کر دیا گیا۔امپروومنٹ ٹرسٹ بنائے گئے۔پھر ڈیویلپمنٹ اتھارٹیاں اور پھر میگا پروجیکٹس کے مینجمنٹ کے لیے خصوصی ادارے وجود پاتے گئے۔ نتیجہ کیا نکلا کہ مقامی حکومتوں کا دائرہ کار سکڑتا گیا اور ان کے اختیارات میں کٹوتی ہوتی گئی۔ اسی طرح مقامی حکومتیں جو لوکل سیلف گورنمنٹ کی شکل تھی اب چند بنیادی ضروریات فراہمی اور مینجمنٹ تک محدود رہ گئی اور وہ بھی ٹیکنیکل افسران اور سٹاف کی مرہون منت بن کر رہ گئیں۔ اب پالیسی سازی اورفیصلہ سازی میں بھی تبدیلی آئی۔ اب عوام کے منتخب نمائندے جو لوکل کونسلیں تشکیل دیتے تھے وہ اب آہستہ آہستہ معدوم ہوتے گئے۔بلکہ ان کی ضرورت ہی ختم کر دی گئی۔ کیونکہ اب بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی جدید منصوبہ بندی اور مینجمنٹ کے جدید خطوط پر استوار کرنا مقصود تھا۔ اس سارے عمل کا منطقی تیجہ یہ نکلا کہ گڈ گورننس کا مطلب اور مفہوم بدل گیا۔ اب احکامات کی بنیاد پر عمل درآمد کروایا جاتا ہے۔ باز پر س ماضی کی نسبت بہتر اور آسان ہے کنٹرول موثر ہو گیا ہے۔عوام کو تو پھل کھانے سے مطلب رکھنا ہوگا۔ پھل کیسے اور کون دے رہا ہے۔ کہاں سے آ رہا ہے۔یہ عوام کا مسئلہ نہیں ہے۔یہ سوچ عام ہے اور ہمارے سبھی حکمران اور ان کے حاشیہ برادر نظریہ ساز اسے ہی گڈونس کہتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر گڈ گورننس اوپر سے فرد واحدکے احکامات کے ذریعے اور نتیجہ ہی ہونا ہے تو جدید جمہوری مملکتوں میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کی کیا ضرورت ہے۔ جدی پشتی اورمورثی حاکمیت، بادشاہت ہی کافی نہ تھی جو طاقت کے بل بوتے پر جدی پشتی حکمرانی کی شکل تھی۔بادشاہ وقت بڑے عوام دوستوں اور خداترس بھی گزرے ہیں۔ظالم ہی نہیں تھے پھر جدید نو آبادیاتی ادوار میں آمریتیں بھی تاریخ ساز کردار کی حامل تھیں۔ ہٹلر اور مسولین دونوں ہی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اقتدار پر پہنچے تھے۔ مگر تاریخ نے انہیں کس نام سے پکارا۔نتیجہ یہ نکلا کہ جدید معاشرے کثیر الفکری،کثیر القوی، کثیر النسلی ہوتے ہیں۔ ان کے لا تعداد پیشے،روزگار، کاروبار ہوتے ہیں۔ ان کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے بھی ہیں مگر جمہوریت میں سو کو شریک کار بنایا جاتا ہے۔ اکثریت کو حق ہوتا ہے۔ مگر اقلیت کے بھی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے چنانچہ گڈ گورننس فرد واحد کے احکامات نہیں بلکہ سب کو شامل کر کے Inclusive طرز حکمرانی سے مشروط ہے۔ چنانچہ مقامی حکومتیں اس کا ابتدائی پیمانہ ہے۔
Read Next
8 گھنٹے ago
*وزیر بلدیات پنجاب میاں ذیشان رفیق کی کامونکی میونسپل کمیٹی آفس آمد*
12 گھنٹے ago
وزیر بلدیات ذیشان رفیق کا مختلف شہروں کا دورہ،پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کا افتتاح اور سکیموں کا معائنہ
15 گھنٹے ago
*مقامی حکومتوں میں اقلیتی آبادی کی نمائندگی* تحریر: زاہد اسلام
18 گھنٹے ago
پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کی تعمیراتی سائٹس پر سیفٹی آڈٹ کیلئے ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹی قائم
1 دن ago




