*پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025* تحریر: زاہد اسلام

اج کل مقامی حکومتوں کے حوالہ سے بحث جا رہی ہے۔ پنجاب میں منتخب مقامی حکومت تشکیل کے مراحل میں ہیں۔ کئی سالوں کی تاخیر کے بعد ایک واضح قانون اسمبلی سے منظوری کے بعد نافذ العمل ہے۔ گو کہ اس کے تحت انتخابی عمل بہت دھیما ہیں اور کئی طرح کے خدشات کے ساتھ جاری ہے۔ مگر قانون تو ہے اوروہ بھی 9ماہ پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کے 15 کے لگ بھگ اجلاسوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ گو کہ اپوزیشن نے اسے منظور نہیں کیا۔ بلکہ عدالت میں چیلنج بھی کیا۔ جو ابھی تک زیر سماعت ہے، مگر قانون تو ہے۔اس کے تحت مجوزہ مقامی حکومتوں کی نشاندہی ”ڈی مارکیشن“ کا عمل جاری ہے۔ لیکن پھر بھی بعض ایسی جماعتوں نے اسے یکسر رد کر دیا ہے۔ جبکہ بعض دیگر حلقے اس کے تحت انتخابی طریقہ کار پر معترض ہیں اور سراپا احتجاج ہیں۔ خاص کردہ آبادی کے حصے جنہیں کمزور جان کر مخصوس نشستوں کے ذریعے نمائندگی دی جاتی ہے۔ ان میں عورتیں، نوجوان، محنت کش اور اقلیتی آبادی شامل ہیں۔ جبکہ خصوصی افراد جسمانی طور پر معذور اور ٹرانس جینڈر جنہیں پاکستانی آبادی میں اب تسلیم کیا جاتا ہے اور سندھ کی مقامی حکومتوں میں انہیں الگ نمائندگی کا حق بھی ہے۔ پنجاب میں انہیں یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ احتجاج تو بنتا ہے اور پھر یہ بھی قابل غور بات ہے کہ ان مخصوص نشستوں کا طریقہ انتخاب بھی غیر جمہوری ہے۔ یعنی پہلے جنرل نشستوں پر نو یونین کونسلرز منتخب ہوں گے۔پھر وہ چار مخصوص نشستوں والوں کو ہاتھ اٹھا کر منتخب کریں گے۔ احتجاج کرنے والے اپنی نمائندگی کے اس طریقہ کار پر احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ ان کا حق بھی ہے اور ان کا مطالبہ بھی معقول ہے۔ کہ جب 9 افراد براہ راست بالغ رائے دہی کے ذریعے خفیہ ووٹ کے استعمال سے عام ووٹرز منتخب کریں گے۔ تو وہ مخصوص نشستوں کو بھی ساتھ ہی خفیہ ووٹ کے ذریعے براہ راست منتخب کریں۔ جس طرح 2001 کے جنرل مشرف کے نظام کے تحت دو دفعہ کامیابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ حلقے قانون کو تسلیم کرتے ہیں۔ دوسرا حلقہ مخالفین کا ہے۔ جو اس قانون کو یکسر رد کر رہے ہیں۔ ان کے اعتراضات میں کچھ پہلو تو درست موقف ہیں۔ معقول بھی ہیں۔کچھ پہلو قانون میں موجود ا بہام کی بدولت ہے۔ آج ہم ان پہلووں پر بات کریں گے چند درج ذیل ہیں۔قانون کے تحت سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔یہ تاثر غلط ہے۔ انتخابات میں سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار دونوں حصہ لے سکتے ہیں۔ کسی کے لیے ممانعت نہیں ہے۔ البتہ قانون میں واضح نہیں کیا کہ سیاسی جماعتوں کے پینل ہوں گے۔ بلکہ درج کیا گیا ہے کہ انتخاب کے بعد ایک ماہ کے اندر اندر جیتنے والے اگر چاہیں تو کسی سیاسی جماعت میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اسے تاثر نکلتا ہے کہ کوئی کنگ پارٹی بنائی جائے گی اور پھر پارٹی چھوڑنے برخاستگی کی کلاز بھی ڈال دی گئی ہیں۔ اسے مزید واضح بنانے کی ضرورت ہے اور یہ وضاحت الیکشن رولز میں کر دی جائے۔ تو ابہام حل نکل آئے گا۔ دوسرا اعتراض جو جائز بھی ہے۔ اور اہم بھی ہے وہ مجوزہ قانون میں مقامی حکومتوں کے دائرہ کار اور اختیارات کے حوالے سے ہے۔ عمومی تنقید یہ کی جا رہی ہے کہ آئین کے آرٹیکل-A 140 میں جن مالی، سیاسی اور انتظامی خود مختاری کا ذکر کیا گیا ہے۔ رائج الوقت قانون اس تناظر میں مناسبت نہیں رکھتا۔ یہ بات اصولی طور پر درست ہے کہ پاکستان کے کسی صوبے کا قانون بااختیار مقامی حکومتوں کو تشکیل نہیں دیتا۔اسی لیے تو پنجاب اسمبلی اور خیبر پختون خواہ اسمبلی نے متفقہ قراردادوں کے ذریعے مزید آئینی وضاحتوں کا مطالبہ کیا ہے۔یہ تو اہم مسئلہ۔مگر جب تین صوبوں میں اس طرح کے قوانین کے تحت منتخب مقامی حکومتی متحرک اور فعال ہیں۔ تو پنجاب میں کیوں نہیں ہے؟

اس قانون میں ضلع کونسل یا ضلع گورنمنٹ کا وجود ختم کر دیا گیا ہے۔ اس بات کو تاریخی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ضلع کونسل 1959 سے چلی آرہی ہے۔ ایوب خان نے بنیادی جمہوتیوں کے نظام میں ضلع کونسل متعارف کروا کرائی تھی۔ ضلع کونسل ہر ریوینیو ضلع میں دیہی علاقے کی اعلی ترین کونسل ہوتی ہے۔ جو یونین کونسلوں کے توسط سے اپنے طے شدہ فنکشن ادا کرتی ہے۔ ضلع کونسل کی تشکیل سے قبل ڈسٹرکٹ بورڈ زہوا کرتے تھے۔ مگر اس وقت یونین کونسلیں موجود نہ تھیں۔ جبکہ شہری علاقوں میں میونسپل کمیٹیاں ضرور ہوا کرتی تھیں،یعنی دیہی کونسلیں اور شہری کونسلیں الگ الگ ٹTiers ہوا کرتے تھ۔ ضلع کونسلیں 1959 کے بنیادی جمہورتیوں کے نظام متعارف ہوئیں۔ ان کے فنکشنز تقریبا وہی تھے۔ جو ڈسٹرکٹ بورڈ زکے ہوا کرتے تھے۔جبکہ ریوینیو ضلع اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ڈسٹرکٹ کلیکٹر، ڈپٹی کمشنر کی شکل میں الگ ہوا کرتا تھا۔ اب ضلع کونسلیں 1958 سے لے کر 2001 تک موجود چلی آئی ہیں۔ صرف استثنا جنرل مشرف کا نظام ہے۔جو 2001 تا 2010 پنجاب میں 2017 تک رہا ہے۔ جو پاکستان کی تاریخ میں منفرد تھا۔ ضلع حکومت کا تصور جہاں ڈپٹی کمشنر کو محض افسر رابطہ کار بنایا گیا تھا۔ وگرنہ 2013 کے قوانین کے تحت بھی ضلع کونسل کا تصور بنیادی جمہورتیوں والا ہی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی حکومت کا ضلع کونسل کا تصور استثناہے۔ جو مشرف ماڈل کی طرز پر 2019 سے 2022 کے قوانین کے تحت متعارف کرایا گیا۔ مگر عملا نافذ نہ کیا جاسکا، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں بھی ضلع کونسل کا تصور وہی ہے۔ جو 1959،2013 اور2025ء کے قوانین میں ہے۔ مقامی حکومتوں کی فعالیت اور بااختیاری سے ہر کوئی متفق ہے۔قومی اسمبلی میں حزب اقتدار کے اراکین کی تقریری، اسلام آباد میں اعلی سطحی اجلاس سمٹ، پنجاب اسمبلی اور خیبر پختون خواہ کی اسمبلی کی قراردادیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں۔ کہ سبھی مرکزی اسٹیک ہولڈرز’مقامی حکومتیں ’اور وہ بھی منتخب اور بااختیار چاہتی ہیں۔ تو پھر خرابی کہاں ہے؟اس سوال کا جواب چاہتے ہیں کہ آخر با اختیار منتخب مقامی حکومتوں کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے؟ پر یہ وہ سوچ ہے جو موجود بھی ہے اور انداز حکمرانی میں پہناں ہوتی ہے۔ کہ گڈ گورننس انداز حکمرانی حکمرانی میں نہیں۔ بلکہ سہولیات اور خدمات کی فراہمی سے مشروط ہے۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی غالب سوچ ہے۔ اس لیے وہ دوسروں کو شامل کئے بغیر فیصلہ سازی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا سارا زورکام کی تکمیل،بروقت اور تیز رفتاری پر موقوف ہوتی ہے۔ اختیارات کی مرکوزیت پر انداز حکمرانی کو ہم گڈ گورنس قرار نہیں دے سکتے اور یہی ایک بنیادی کمزوری ہے۔ جس کے اثرات دور پا ہوتے ہیں۔مطلق الفسانیت خود سری پروان چڑھتی ہے۔ جو آمریت کو مضبوط کرتی ہے۔ جمہوریت میں گڈ گورننس کے معنی اور مفہوم قدر ے مختلف ہوتا ہے۔ جب ہم شراکت داری،اختیارات کی تقسیم اور دوسروں کو منتقلی پر یقین رکھتے ہیں۔ تو بسا اوقات مطلوبہ نتائج دیرسے ملتے ہیں۔ یا نامکمل نظر آتے ہیں۔ کیونکہ جب آپ سب کے خیالات سامنے لائیں گے۔اور ان کو اکٹھا کر کے فیصلہ سازی کی طرف جائیں گے۔ توتو فیصلہ متفقہ ہوگا۔اس کی پاپولرحمایت ہو گئی۔ اونر شپ بھی ہو گی۔ مگر عمل درامد گرفتاردھیما ہوگی۔ لیکن پائیدار ہو گی۔حتمی طور پر یہی گڈ گورننس کی پہچان ہو گی۔رائج الوقت سیاسی کلچر بھی گڈ گورننس کے حصول اور اطلاق پراثر انداز ہوتا ہے۔ہمارا سیاسی کلچر ہی ایسے ماحول میں پروان چڑھا ہے۔جہاں باہمی اعتماد کا فقدان ہے یا کمزوری ہ۔ شکوک و شبہات،سازش پر مبنی تھیوری کی موجودگی میں سیاسی کلچر ہر جگہ گڈ گورننس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور اس سیاسی کلچر کو درست کرنے کے لیے انہیں ہی کوشش کرنا ہوگی۔ جنہوں نے حالات کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔ اگر ہم اس ساری بحث کا خلاصہ کریں تو بہتر راستہ ہے کہ ہم مقامی حکومتوں کی اصلاح کریں۔ منتخب کونسلوں کو فعال بنائیں۔ مقامی حکومتوں کے اختیارات، وسائل میں اضافہ کریں اور لامحالہ یہ کریں گے تو صوبائی حکومتوں کے اختیارات کو نیچے منتقل کرنا ہو گا۔ گڈ گورننس کا ماڈل بدلنا ہوگا۔نگرانی اور فالو بزرگ تو ضرور کریں۔ مگر فیصلہ سازی میں اجتماعیت اور شراکت داری اپنائیں۔ یہ بہتر طریق سے حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ کہ ٓاغاز ہی مقامی حکومتوں کو متحرک،فعال اور بااختیار بنانے سے کیا جائے یہی ترقی کا زینہ ہے۔۔ اگر تو مطالبہ ہو کے ضلع گورنمنٹ کا تصور بحال کیا جائے تو اس کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ آئین کے آرٹیکل سات اور 140 سے میں اضافوں کے بغیر ضلع حکومت کو تیسرا درجہ حکومت تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مشرف ماڈل میں ضلع حکومت ممکن اس لیے ہوا تھا کہ فوجی حکمرانی میں وفاق اور صوبے ایک ہی طرح کی گورننس سے چلائے جا رہے تھے مارشل لاء فوجی حکمرانی میں ہر طرح کی گورننس ماڈل چل جاتا ہے۔ جمہوری اور آئینی حکمرانی بھی مشکل ہوتا ہے اس لیے ضلع کونسل تو ہو سکتی ہے۔ مگر وہ دیہی کونسل ہو گی۔ ضلع میں ضلع کی حکومت نہیں ہو سکتی۔ ایک اعتراض نکتہ مخصوص نشستوں کے طریقہ انتخاب کے بارے میں کہ پہلے جنرل نشستوں پر براہ راست انتخاب ہوگا۔ پھر وہ کونسل اجلاس میں ہاتھ اٹھا کر مخصوص نشستوں کو منتخب کریں گے یہ اعتراض درست ہے کہ اس طرح انہیں انتخاب نہیں سلیکشن ہی ہوگی۔ حکومتی کی دباؤ اور ترغیب کے ساتھ سیاسی کرپشن کا دروازہ بھی کھلے گا۔ اور پھر ایسا کیوں کرنے پر زور ہے۔ صرف اس لیے کہ حکومت کو خوف ہے کہ یہ نشستیں سے ان کے ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔ یہ تو کوئی سیاسی جمہوری رویہ نہیں ہے۔ اگر نو ممبران براہ راست خفیہ بیلٹ سے منتخب ہو سکتے ہیں مخصوص نشستوں والے چار اراکین کیوں نہیں۔ اس لیے انہیں بھی اپنا ووٹ بینک میسر ہوگا اور ان کی دست نگری میں خاتمہ ہوگا۔ نتیجتا ان کا اعتماد اور مرتبہ بھی بلند ہوگا۔ ایک اور نکتہ ہے۔جس پر کسی کا دھیان نہیں جا رہا کہ مخصوص نشستوں کی تعداد ان کی آبادی کہ کی مناسبت سے بہت کم ہے۔ جو 13 اراکین میں صرف ایک عورت بہت ناانصافی ہے۔ اس میں اضافہ ہونا چاہیے۔مخصوص عورت کی حکمرانی میں عورتوں کی سیاسی نمائندگی میں دگنا اضافہ ہونا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button