*مقامی حکومتوں میں اقلیتی آبادی کی نمائندگی* تحریر: زاہد اسلام

اس ماہ کے ٓاخری روز پنجاب میں اقلیتی آبادی کے نمائندے پنجاب میں مقامی حکومتوں کے قانون میں طریقہ انتخاب کے حوالہ سے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ ان کا نعرہ ہے کہ ”سلیکشن نہیں الیکشن”ان کے ہمراہ دیگر طبقے جو اسی طریقہ انتخاب پر معترض ہیں۔وہ بھی یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ عورتیں مزدور کسان اور نو جوانو ں کو بھی اس قانون کے تحت جنرل نشستوں پر منتخب کونسلرز اپنے پہلے خصوصی اجلاس میں ہاتھ اٹھا کر منتخب کریں گے۔ان کا مطالبہ ہے کہ اگر عام ووٹرز اپنے 9 اراکین کو بالغ رائے دہی کی بنا پر خفیہ ووٹ کے ذریعے منتخب کر سکتے ہیں تو انہیں کیوں نہیں یہ حق دیا جاتا۔ کہ وہ بھی حلقہ کے ووٹرز کے براہ راست ووٹ کے ذریعے منتخب ہو سکیں۔ یہ بڑا جائز مطالبہ ہے ہم نے مشرف حکومت کے ماڈل 2001 میں یہ تجربہ کیا تھا اور کامیاب رہا تھا۔ مخصوص نشستوں کا چناؤ بھی جنرل نشستوں کے ساتھ ہی براہ راست حلقہ کے ووٹرز نے کیا تھا اور پھر یہ تجربہ 2005 کے دوسرے انتخابات میں بھی دہرایا گیا اور اس بار سیاسی جماعتوں نے بھی بھرپور حصہ لیا تھا۔مگر کیا کریں کہ ساری صوبائی حکومتیں ماسوائے خیبر پختون خواہ مقامی حکومتوں کی انتخابات میں اپنی زبردستی کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں رہتی ہیں اور سربرہان کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر اپنی مرضی کے نمائندے لانے کے لیے ہر طریقہ استعمال کرتی آرہی ہیں۔1979ء1984ء1990ء1995 ء2013ء2015 ء اور2022 ء کے انتخابات میں مخصوص نشستوں کا چناؤ ان ڈائریکٹ طریقہ سے جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والے ہی کرتے آرہے ہیں استثنی صرف 2001 اور 2005 کا انتخابات میں ہے۔ اس مسئلہ پر پہلے بھی بحث ہوتی آئی ہے کہ پاکستان کے حکومتی ایووانوں میں مخصوص نشستوں پر نمائندگی کا طریقہ انتخاب کیا ہو۔

یہ بحث عورتوں کی نشستوں کے حوالے سے زیادہ زور سے چلی تھی جب قومی اسمبلی میں عورتوں کی مخصوص نشستیں ختم ہو گئی تھیں اور ان کی دوبارہ بحالی کا سوال زیر بحث تھا مجھے یاد ہے اسلام آباد میں فاقی وزارت قانون کے اعلی افسروں کی مشاورت سے کئی آپشنز زیر غور لائے گئے کو۔شش یہی تھی کہ عورتوں کے نشستیں مخصوص بھی کی جائیں۔جو دو انتخابات گزر جانے پر ختم ہو گئی تھیں۔ اور ان نشستوں کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر براہ راست ووٹوں سے ہی منتخب کیا جائے تو پھر ساری آپشنز کو زیر بحث لا کر یہی اتفاق رائے تھا کہ سابقہ طریق ہی بحال رکھا جائے۔اس کی زیادہ وکالت سیاسی جماعتوں کی خواتین نے ہی کی تھی چنانچہ اس وقت سے قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کا طریقہ انتخاب ایک جیسا چلا آرہا ہے۔ اور اسے آئینی تحفظ بھی ہے یہ ایک طرح کی سلیکشن ہی ہوتا ہے جن کو تجویز کیا جاتا ہے ترجیحی فہرست میں اس پارٹی کو جتنی نشستوں کا حقدار مانا جاتا ہے اس کی ترجیحی فہرست سے اتنی نشستیں منتخب کر لی جاتی ہیں۔ اس طریق کار کے مثبت اور منفی پہلو موجود ہیں۔

مگر مقامی حکومتوں کا مسئلہ دوسرا ہے۔ مختلف ہے۔یہاں حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے اگر نشستیں الاٹ کی جائیں تو شاید یہ بحث نہ چلتی بلکہ ہر انتخابی پارٹی اور گروہ اپنی منتخب کردہ امیدواروں کو سامنے لے آتا اور ان کی ترجیحی انداز میں مرتب کی گئی فہرست انتخاب سے قبل الیکشن کمیشن کے پاس ہوتی۔ مقامی حکومتوں میں نمائندگی ایک محدود علاقے کے لیے ہوتی ہے۔ لوکل ایریا 25 ہزار کے لگ بھگ آبادی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس لیے وہاں سے ووٹرز اور امیدواران کو باہم مل کر اس نمائندگی کا تقاضہ پورا کرنے میں کوئی نقصان نہیں بلکہ بہتری ہوتی ہے۔ ووٹرز اپنی نمائندوں سے قریبی تعلق قائم کرتے ہیں۔ان کی باتیں سننے ہیں اپنا رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔اس تعلق داری(انٹریکشن)سے بہتر اور قابل اعتماد نمائندگی حاصل ہوتی ہے اور پھر کوئی جواز معقول نہیں ہے کہ ووٹرز 9 اراکین کو اپنے ووٹوں سے منتخب کریں اور وہ 9 اپنے ووٹرز کے اعتماد کو استعمال کرتے ہوئے اپنی صوابدید سے مخصوص نشستوں پر چارہ اراکین کا انتخاب کریں۔کیا جواز ہے؟ اور کوئی مضائقہ نہیں کہ سبھی 13ا راگین کا انتخاب ایک ہی طرز پر بالغ رائے دہی کی بنا پر براہ راست ووٹوں سے کیا جائے اور خفیہ ووٹ استعمال ہو، تاکہ ووٹ کا تقدس بحال ہو سکے اور آزادی رائے بلا خوف ہو، بلا دباؤ ہر ووٹر استعمال کر سکے۔

اس بحث کے تناظر میں ہمارے بعض اقلیتی نمائندوں نے صوبائی اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی ہے۔ جس میں جداگانہ طریق انتخاب اور مذہبی اقلیتی آبادی کو دوسرے ووٹ کے حق کو تسلیم کیا جانے کا مطالبہ شامل ہے۔ یہ ان کا حق ہے کہ وہ کوئی قرارداد دلائیں۔ اور اس طرح کا مطالبہ کریں۔ تا ہم کچھ پہلوں پر ضروری بات کرنا چاہیے۔ ان کا مطالبہ صرف پنجاب کے مقامی حکومتوں کے ایکٹ 2025 کے بارے میں نہیں ہے۔ بلکہ انہوں نے سارے انتخابی طریقہ کار (اپنے حوالے سے) کو ہی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو شاید ممکن نہ ہو سکے۔ مگر جدا کرنا انتخابی طریق کارSeprate Electionجو جنرل ضیاع کے زمانہ میں رائج تھا ا۔س کوبڑی جدوجہد کے بعد تبدیل کرایا گیا تھا اور مخلوط طریق طریقو(جوائنٹ الیکشن)اپنایا گیا تھا۔ بلکہ جناب نعیم شاکر مرحوم کے کاغذات مسترد کر دیے گئے کہ آپ جنرل نشستوں پر نہیں آ سکتے تو وہ عدالت چلے گئے تھے اور عدالت نے مخلوط طریقہ انتخاب کی بنا پر ہی انہیں حق دار تسلیم کیا تھا کہ وہ بھی جنرل نشست پر امیدوار بن سکتے ہیں۔ کیا ہمارے دوست واپس جانا چاہتے ہیں کہ مخلوط الیکٹورل سسٹم میں جو مین سٹریم ہونے کے چانس ہے۔ انہیں ختم کر دیا جائے۔ یعنی مسلمان نمائندوں کا انتخاب کریں اور غیر مسلم صرف غیر مسلم نمائندوں کا انتخاب کریں۔ اس طرح تو مذہبی اقلیتیں مرکزی دھارے سے باہر ہو جائیں گی اور جب مسئلہ مقامی حکومتوں کا ہو تو اس کے نقصانات دورس ہوں گے۔ مقامی حکومتوں میں یونین کونسلوں کی انتخابات میں تو کونسلرز کا انتخاب حلقہ کے سبھی ووٹرز کو کرنا بہتر ہوگا یہ دیکھیں بغیر کے امیدوار کی صنف یا عقیدہ کیا ہے۔اس طریقہ سے بہتر نمائندگی سامنے آئے گی ہمیں اب اقلیتی آبادی کو مرکزی دھارے کا حصہ بنا نے اور تسلیم کرانے کی طرف پیشرفت پیش قدمی کرنی چاہیے کہ وہ واپس 1980 کے دور میں جانا چاہیے۔مقامی حکومتوں میں طریق انتخاب کے لیے یہی معقول مطالبہ ہے کہ ایک لوکل ایریا کے ووٹرز اپنی کونسل کے تمام اراکین کو خفیہ ووٹ کے ذریعے شفاف انداز میں براہ راست منتخب کریں۔ ہمیں فی الوقت بات کو یہیں تک رکھنا ہوگا وگرنہ ایک دوسرا سلسلہ چل نکلے گا۔

جواب دیں

Back to top button