دنیا بھر میں جمہوری ممالک ہوں یا شاہی سلطنتیں عوام کو روز مرہ اور بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی اور متعلقہ سہولیات و خدمات کی مینجمنٹ کے لئے مقامی سطح کی حکومتیں ہی ذمہ دار ہوتی ہیں۔دور حاضر میں یہ کم و بیش دنیا کے ہر ملک میں متحرک اور فعال نظر آتی ہیں۔اس کی وجہ بھی ہے۔کیونکہ ہر ملک میں مرکزی حکومت ملک کے بڑے بڑے ایشوز کو ڈیل کرتی ہے۔جیسے دفاع،خارجہ امور،بین الاقوامی تجارت،رابطہ،کمیونیکیشن،خزانہ مالیاتی امور اور مرکزی سطح کی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی جبکہ معاشرے میں کئی طرح کے دیگر ایشوز بھی متقاضی ہوتے ہیں۔کہ ان پر بھی منصوبہ بند عمل پیرا ہوا جائے۔اور پھر عوام کی روز مرہ ضروریات زندگی کے کئی اہم فرائض کو الگ سے ڈیل کرنا مجبوری بن جاتا ہے۔اسی لئے جدید ریاستی ڈھانچے کئی درجوں اور کئی پرتوں پر محیط ہوتے ہیں۔اور سب سے ابتدائی درجہ اور سطح مقامی حکومتیں ہوتی ہیں۔جن کے لازمی فرائض میں وہ تمام فنکشن شامل ہوتے ہیں۔جو روز مرہ زندگی کو آسان بناتے ہیں۔دنیا بھر میں مقامی حکومتیں موجود ہیں۔اور ان کے دائرہ اختیار میں آنے والے فنکشن کی ادائیگی زیادہ بہتر انداز میں ممکن ہوتی ہے۔جب رہائشی لوگ خود ہی ان کی مینجمنٹ کے ذمہ دار ہوں۔یہاں سے منتخب مقامی حکومتوں کا تصوور ابھرتا ہے۔ہمارے جیسے ملکوں میں انداز حکمرانی ہی عجب ہے۔قدیم شاہانہ طرز حکومت اور ماقبل جاگیر داری،قبائلی،نیم قبائلی طرز حکمرانی مسلسل چلا آ رہا ہے۔گو کہ اس میں بڑے بڑے ڈینٹ پڑ چکے ہیں۔مگر پھر بھی باقیات موجود ہیں۔چنانچہ ہمارے جیسے ملکوں میں جمہوریت توہوتی ہے۔مگر انداز حکمرانی شاہانہ یا درباری ہوتا ہے۔حکومت فرمانوں پر چلائی جاتی ہے۔آرڈر جاری کئے جاتے ہیں۔اور رعب دبدبہ سے آرڈر کی تعمیل کرائی جاتی ہے۔
عجب ماجرہ ہے کہ ہمارے ملک کی سیاسی قیادت،حزب اقتدار اور حزب مخالف سبھی منتخب مقامی حکومتوں سے خائف رہتے ہیں۔لیکن جب کبھی بھی انتخابات ہوتے ہیں۔تو یہی سیاسی قائدین بڑھ چڑھ کر مقامی حکومتوں کے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔بلکہ قیادت تو الگ رہی۔عام سیاسی کارکنوں کی اکثریت بھی مقامی حکومتوں کے انتخابات میں متحرک نظر آتی ہے۔آخر کوئی کشش تو ہے۔تو پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ اتنی ہچکچاہٹ کا اظہار کیوں کیا جاتا ہے۔فوجی حکومتوں کے دور میں مقامی حکومتوں کی اہمیت تو سمجھ آتی ہے۔کہ انہیں نئی سیاسی بھرتی درکار ہوتی ہے۔جو مقامی حکومتوں کے توسط سے فوجی حکمرانوں کو بہ آسانی دستیاب ہو جاتی ہے۔جبکہ سیاسی جماعتیں اس پہلو پر دھیان نہیں دیتیں۔ہمارے ملک کی سیاسی قیادت کا ایک بڑا حصہ مقامی حکومتوں کے ان ادوار سے ابھرا ہے۔جو فوجی حکمرانی کے دور تھے،بنیادی،جمہورتیں،جنرل ضیاء کے دور میں جنرل مشرف کے دور میں ایک نمایاں تعداد ایسے سیاستدانوں کی ہے۔جو مقامی حکومتوں سے ابھر کر ملکی سیاست کا حصہ بنے۔اب اگر سیاسی جماعتیں اپنے پروگرام میں منتخب مقامی حکومتوں کو فوقیت دیں تو انہیں بھی بہت بڑی تعداد میں نئے سیاسی کارکن دستیاب ہو سکتے ہیں۔کیونکہ ہمارا سیاسی کلچر بڑی حد تک انتخابی مہموں کے گرد ہی کھومتا ہے۔چند ایک نظریاتی جماعتوں کو چھوڑ کر زیادہ تر سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے اورکسی کو بے دخل کرنے کے حوالہ سے ہی متحرک اور فعال نظر آتی ہیں،جو کہ غلط تو نہیں مگر سیاسی جماعت کا کل پروگرام صرف اقتدار کے گرد ہی محدود رکھنا مناسب نہیں ہوتا۔سیاسی جماعت کو ملک اور خارجی پالیسیوں بارے عوامی مشاورت،آگہی اور رائے عامہ کی بیداری کو بھی اپنے پروگرام کا حصہ بنانا چاہتے۔کسی طرح ملکی معاشی تعلیمی،صحت عامہ اور بہبود آبادی کے مسائل ہی سیاسی فعالیت کا محور ہونا چاہیے۔یہی صورتحال بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی اور مینجمنٹ کا مسئلہ ہے جو مقامی حکومتوں کا محوری پروگرام ہوتا ہے۔ایک اور عمومی تاثر یہ ہوتا ہے کہ مقامی حکومتیں کرپشن کا ذریعہ کار آسانی سے بنتی ہیں۔ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں ہر سطح اور ہر قسم کی گورننس سے کرپشن کا راستہ نکل سکتا ہے۔وہاں مقامی حکومتوں کے ذریعہ بہت محدود بجٹ استعمال ہوتا ہے۔سب سے زیادہ خیبر پختونخواہ میں صوبائی کنسالٹیڈ فنڈز کا25فی صد زیر استعمال آتا ہے۔وہ بھی مختلف مقامی حکومتوں میں غیر منصفانہ بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔جبکہ دیگر صوبوں میں تو بجٹ کا زیادہ استعمال صوبائی حکومتوں کے تحت متحرک اداروں اور محکموں کے توسط سے ہوتا ہے۔اس لئے یہ تاثر کہ مقامی حکومتوں کے ذریعہ کرپشن پھیلتی ہے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔بلکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر کمیشن،کک بیکس کا تصور زیادہ غالب ہوتا ہے۔کیونکہ ملک بھر میں ترقیاتی کاموں پر زیادہ بجٹ کا استعمال انہی دو سطحوں پر کیا جاتا ہے۔مقامی حکومتوں کے حالات تو مالیاتی حوالوں سے کافی مخدوش رہتے ہیں۔اکثر اوقات مقامی حکومتوں کے ملازمین اپنی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کا تقاضہ کرتے نظر آتے ہیں۔اور بڑے شہروں کو چھوڑ کر جہاں مقامی حکومتوں کے اثاثہ جات کافی ہوتے ہیں۔جنکی بدولت ریونیو پیدا ہوتا رہتا ہے۔وگرنہ چھوٹے شہروں اور چھوٹی مقامی حکومتوں کے مالیات میں نا کافی ذرائع ہی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور وہاں بھی ٹھیکیداری نظام میں کمیشن اور کک بیکس شامل ہوتے
ہیں۔مگر ان کا حجم دیگر حکومتی درجوں کے کم ہوتا ہے۔
ایک اور اعتراض کیا جاتا ہے۔کہ اختیارات کا توازن روایات سے ہٹ کر مقامی حکومتوں کی طرف چلا جاتا ہے۔جو حکومتی سرکلز میں پسندیدہ نہیں ہوتا۔یہ بات بھی حقائق کے منافی ہے کہ مقامی حکومتوں کے پاس بہت کم اختیارات ہوتے ہیں۔کیونکہ دور حاضر میں پاکستان بھر میں مقامی حکومتوں کے فنکشن بہت محدود ہیں۔زیادہ تر فنکشنز متوازی اداروں کے پاس ہیں۔جو صوبائی حکومت کے براہ راست کنٹرول اور نگرانی میں کام کرتے ہیں۔ایسے میں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ بے اختیار مقامی حکومتوں سے اعلی حکومتی سرکلز کو کوئی خدشہ ہو گا۔بلکہ مقامی حکومتوں کی بے اختیاری کی وجہ سے صوبوں کا زیادہ با اختیار ہو جانا ہے۔کیونکہ اٹھارویں آئینی ترمیم نے صوبوں کو کئی اقافی اختیارات بھی اوپر سے نیچے منتقل کر دئیے ہیں۔جبکہ صوبوں نے انہیں زیادہ تر اپنے پاس ہی رکھا ہے۔ضلعوں کی سطح پر یا مقامی حکومتوں کو منتقل نہیں کیا(Not Devolution) یہ ہے اصل حقیقت۔
اسی ساری وضاحت کا مطلب یہی ہے۔کہ کوئی مدلل جواز نہیں ہے کہ مقامی حکومتوں کو اختبارات نہ دئیے جائیں اور وہاں منتخب کونسلوں کی فعالیت قائم نہ کی جائیں۔یہ سارا مسئلہ ہمارے سیاسی کلچر کا ہے کہ ہمارے حکمران مشاورت پر یقین نہیں رکھتے۔نہ ہی اپنے اختیارات میں اشتراک چاہتے ہیں۔بلکہ پسندیدہ اور غالب رجحان احکامات کے ذریعے گورننس چلانا ہے۔یعنی وہ حکم دیں اور عمل درآمد ہو جائے۔یہ اچھا یا صنفی رجحان ہو۔یہ الگ مسئلہ ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ غالب رجحان یہی ہے اورہماری آفسر شاہی کو بھی یہی پسند آتا ہے۔کیونکہ کمپنی کی حکمرانی اسی انداز میں کی جاتی رہی ہے۔جب تک ہماری سیاست کی حکمرانی ایسی انداز میں کی جاتی رہی ہے۔جب تک سیاسی طور پر بہتری نہیں آ جاتی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔






