ستھرا پنجاب پروگرام اور اتھارٹی میں بے ضابطگیوں پر وزیر اعلٰی پنجاب کوخط،اہم انکشافات

خط کی کاپی چیئرمین نیب،گورنر پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کوبھی ارسال کی گئی ہے۔یہ خط قانون دان کی جانب سے بھجوایاگیاہے۔خط کے متن کے مطابق اربوں روپے کے منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں اور شفافیت کی کمی سوالیہ نشان ہے۔منصوبے میں پروکیورمنٹ قوانین کی مبینہ خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔منصوبے کی فزیبلٹی، ٹینڈرنگ اور مالی ساخت کی تفصیلات منظرعام پر نہیں لائی گئیں۔منصوبہ ممکنہ طور پر قانونی و مالی منظوریوں کے بغیر شروع کیا گیا۔پی اینڈ ڈی بورڈ کےطریقہ کار کو بائی پاس کرنے کرکےمنصوبے جاری ہوئے۔مسابقتی بولی کے عمل اور ٹھیکوں کی شفاف تقسیم پربھی سوالیہ نشان ہے۔متن کے مطابق اجارہ داری کی بنا پرمن پسند اور بااثر شخصیات کوٹھیکوں سے نوازاگیا۔ٹھیکوں میں عوامی فنڈز اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا خدشہ ہے۔نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو فرانزک تحقیقات کا حکم دیاجائے۔

پی سی ون، ٹینڈر دستاویزات، کنٹریکٹس اور آڈٹ رپورٹس جاری کی جائیں۔تحقیقات مکمل ہونے تک فنڈز کے اجرا اور منصوبے پر کام روکاجائے۔مقررہ مدت میں معلومات نہ دینے پر آئینی درخواست دائر کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ستھرا پنجاب کا لاہور میں ٹھیکیداروں کا مافیا زیادہ مضبوط ہے جن کے علاوہ کسی اور کو کام نہیں مل سکتا۔ٹینڈرز بھی ظاہر نہیں کئے جاتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button