پاکستان کے تین صوبوں میں سندھ،بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں سال 2013ء کے بعد سے دو منتخب مقامی حکومتوں کا دورانیہ اس سال اختتام پزیر ہو جائے گا۔جبکہ پنجاب میں دسمبر2021ء کے بعد سے منتخب مقامی حکومتیں نہیں ہیں۔اسی طرح اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں بھی منتخب مقامی حکومتیں کئی سالوں سے التواء کا شکار ہیں۔حالانکہ کنٹونمنٹ بورڈوں میں بھی حلقہ بندیاں نظر ثانی شدہ فائنل ہو رہی ہیں۔جو نئے انتخابات کا ابتدائی مرحلہ ہوتی ہیں۔خیبر پختونخواہ میں بھی دورانیہ اختتام پزیر ہو چکا ہے اور سرکاری افسران کو ایڈمنسٹریٹرز تعینات کر دیا گیا ہے۔پہلے یہاں کی حکومت نے دورانیہ کی توسیع پر غور کیا تھا۔مگر پارلیمانی کمیٹی نے اس کی مخالفت کی اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔لہذہ اب دورانیہ کے خاتمے کے بعد انتظامی افسران کو بطور ایڈمنسٹریٹرز تقرری کر دی گئی ہے۔جبکہ پنجاب میں ایسے ایڈمنسٹریٹرز گزشتہ پانچ سالوں سے اضافی ذمہ داریاں ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ہماری جمہوری منتخب صوبائی وفاقی حکومتوں کو تسلی ہوتی ہے جب وہ احکامات کے ذریعے سرکاری افسروں کو ایڈمنسٹریٹرز لگا کر مقامی حکومتوں کو فعال رکھتے ہیں۔ان کا خیال ہوتا ہے کہ اگر منتخب مقامی حکومتوں کی کونسلیں ہوں گی تو کھپ رولا زیادہ ہو گا،جبکہ صوبائی حکومت کے احکامات کو سرکاری افسران بطور ایڈمنسٹریٹرز تابعداری اور چستی سے بروئے کار لاتے ہیں۔ادھر حکم دیا ادھر بجا آوری ہو گئی۔یہ طریقہ زیادہ پسندیدہ ہے۔اب خیبر پختونخواہ میں بھی اسی ڈگر پر چلنے کی ابتداء ہو گئی ہے۔اللہ نہ کرے کہ یہ دور پنجاب کی طرح پانچ سالہ ہو جائے۔جس کا اندیشہ ہے کہ عالمی حالات مکمل صورتحال بالا خصوصی انرجی کا بحران اور ہمسایہ ممالک سے کشیدگی کے باعث شاید انتخابی عمل ہموار نہ رہ سکے تو یہ سرکاری افسران ہی مستقل ذریعہ بن جائیں۔
سرکاری انتظامی افسران کو جب مقامی حکومتوں میں بطور ایڈمنسٹریٹرز لگایا جاتا ہے تو ان پر یہ اضافی بوجھ ہوتا ہے۔وہ پہلے ہی انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کئی دیگر فرائض بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں۔مثلا پرائس کنٹرول کرنا،ٹاؤن پلاننگ کی نگرانی،نظم نسق کو برقرار رکھنا،ضلع،ڈویژن اور تحصیل میں اعلی ترین انتظامی و مالیاتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ متعلقہ مقامی حکومتوں کے فرائض بھی ان کی ذمہ داری میں ڈال دئیے جاتے ہیں۔تو ظاہر ہے انسانی اہلیت کو پھر بالا واسطہ طریقوں سے اضافی ذمہ داریوں کی انجام دہی کرنا ہوتی ہے۔لہذہ مقامی حکومتوں کے جملہ افسران بھی زیادہ خود مختار ہو جاتے ہیں۔وہ بھی سمریاں تیار کرتے ہیں اور اپنے ایڈمنسٹرٹیرز سے منظوری حاصل کر لیتے ہیں۔اس طرح کے تمام پر منصوبوں پر بلا مشاورت ہی کام کیا جاتا ہے۔عوام سے پوچھنا درکنار جو اہم اسٹیک ہولڈرز ہوتے ہیں۔بہ شمول سیاسی جماعتیں بھی اس سارے عمل میں اجنبیت کا شکار ہو جاتی ہیں۔نتیجہ کام کی بہتری نہیں ہوتی،بلکہ مسائل مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔اور آہستہ آہستہ عوام اپنی مقامی حکومتوں سے بیگانہ ہو جاتے ہیں۔نظریاتی طور پر مقامی حکومتیں بہتر نتائج بہتر سروس ڈلیوری تبھی کر سکتی ہیں۔جہاں فیصلہ سازی،منصوبہ سازی عوامی مشاورت اور شراکت داری سے سر انجام دی جائے۔دنیا بھر میں بھی اور پاکستان بھر میں بھی یہ تجربہ کامیاب رہا ہے۔جب بھی مقامی حکومتوں میں عوام کو شریک کار بنایا گیا ہے۔کیونکہ اس شکل میں منصوبہ سازی اور عمل درآمد تک عوام خود کو احساس ملکیت کی بدولت شراکت کار اور ذمہ دار سمجھتے ہیں۔اور یہی گڈ گورننس کا اظہار بھی ہوتا ہے۔اور گڈ گورننس کے حصول کا زینہ بھی ہوتا ہے۔البتہ اس میں احکامات کی بجائے مشترکہ فیصلہ سازی کی سپرٹ ہوتی ہے۔جس میں عوامی سطح کی مشاورت بھی لازمی ہوتا ہے۔ہمارے ہاں پنجاب،اسلام آباد اور کوئٹہ شہر میں انتخابی عمل جاری تو ہے،مگر نہایت دھیمے پن کے ساتھ جاری ہے۔ماضی میں فوجی قیادتیں بھی مقامی حکومتوں پر نظر کرم کرتی نظر آتی ہیں۔بلکہ انہی کے دور حکومتوں میں ہی مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تواتر اور تسلسل بر قرار رہ سکا ہے۔پہلے فیلڈ مارشل کے دور حکومت میں دو دفعہ باقاعدگی سے بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات ہوئے،تیسرے فوجی دور میں پھر دو دفعہ 2001ء اور2005ء میں باقاعدگی سے منتخب مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوئے۔جبکہ کسی بھی جمہوری حکومت نے باقاعدگی نہیں دکھائی۔ماسوائے خیبر پختونخواہ میں دو ادوار مکمل ہوئے۔سندھ اور بلوچستان میں بھی دو ادوار مکمل تو ہوئے ہیں۔تا ہم تھوڑی تاخیر ہوتی رہی ہے۔لیکن پنجاب کا ریکارڈ ہے کہ دس سال قبل آخری انتخابات ہوئے تھے،جبکہ پانچ قوانین بدلے گئے۔چار دفعہ انتخابی شیڈول بھی آئے اور واپس لئے گئے۔اب بظاہر تو انتخابی عمل جاری ہے مگر اتنی دھیمی رفتار سے کئی دفعہ شک بڑھ جاتے ہیں۔کہ ہمارے حکمرانوں کے نزیک گڈ گورننس احکامات کے ذریعے سرکاری افسروں کو دوڑا دوڑا کر مقامی حکومتوں کی سہولیات اور خدمات کی فراہمی یقینی بنانا رہ گیا ہے۔ہم کچھ زیادہ کہہ نہیں سکتے،حالانکہ انتخابات کے ذریعہ بھی مرضی کے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں تو پھر خدشات کیوں ہیں۔






