چونکہ پاکستان میں آئین اور قوانین کی رو سے ہر شہری کوحق حاصل ہے کہ وہ حکومتی اقدامات بجٹ سازی اور منصوبوں بارے معلومات سے آگاہی حاصل کر سکے۔صوبوں میں باقاعدہ معلومات تک رسائی کے قوانین لاگو ہیں اور متعلقہ محکمے کام بھی کر رہے ہیں۔یہی حق کسی لوکل ایریا کے رہائشی کو بھی حاصل ہے اور پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے سیکشن 137کے مطابق ہر رہائشی اپنی لوکل گورنمنٹ سے اس کے فنکشن کی ادائیگی کے حوالہ سے معلومات کی درخواست کر سکتا ہے اور اسی سیکشن کے تحت متعلقہ لوکل گورنمنٹ پابند ہے کہ وہ درخواست موصول ہونے کے14دن کے اندر مطلوبہ معلومات فراہم کرے۔اسی طرح سیکشن(4)-48 کے تحت ہر لوکل گورنمنٹ کی ہر میٹنگ پبلک کے مشاہدہ کے لئے کھلی ہے ما سوائے ان سیشن کے جس بارے متعلقہ کونسل نے سادہ اکثریت سے محدود شرکت بارے فیصلہ کیا ہو۔اسی طرح مقامی حکومتوں کی تمام کاروائی اور فیصلہ جات بارے شہری معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔قوانین اور قواعد کی رو سے تمام معلومات تک رسائی اور مقامی حکومتوں کی جانب سے پرو ایکٹو(Pro Active) اعلان بھی ضروری ہے تا کہ کونسل خود ہی عوام کو اپنی کارکردگی اور منصوبہ جات بارے آگاہ کرے۔ماضی میں ہم دیکھتے آئے ہیں کہ مقامی حکومتوں کے تمام منصوبہ جات،تکمیل مدت آغاز وغیرہ بارے لکھا گیا۔بورڈ آویزاں ہوئے تھے۔وہ قانون اور قواعد میں اب بھی ضروری ہیں۔مگر غفلت اور عامیانہ پن(Casual) رویہ جات کی بدولت ایسے اشتہارات نظر نہیں آتے۔جبکہ یہ قانون اور آئینی طور پر ضروری ہے۔معلومات تک رسائی کا دوسرا پہلو زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔اس سے افواہ سازی جنم لیتی ہے۔اور قیاس کی بدولت عوام میں طرح طرح کی بے بنیاد باتیں پھیلتی ہیں۔آج سوشل میڈیا کے دور میں درست معلومات فراہم نہ کی جائیں تو اندازہ کریں کہ کس قسم کی افواہیں کتنی تیزی سے پھیلتی ہیں۔جن کی بدولت منفی تاثرات اور قیاس آرائیاں اور کسی حد تک مبالغہ آمیز قصے کہانیاں بہت نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں،انہی نقصانات سے بچنے کے لئے حکومتی سطح پر تا دیبی اقدامات ہوتے ہیں سخت قوانین کے تحت کاروائیاں مزید لگاؤ پھیلاؤ کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔اور یہ سب کچھ اس شکل میں ہوتا ہے۔جب درست اور بروقت معلومات کی فراہمی نہیں ہو تی۔ہونا تو یہ چاہیے کہ پیشگی انداز میں حکومت اور متعلقہ ادارے ایسی معلومات کو پبلک کریں یا پھر شہری گروپوں کی طرف سے تقاضا پر قواعد کے مطابق معلومات فراہم کریں۔اگر یہ کاروائی بروقت ہو اور قانون،قواعد کے مطابق ہو،تو افواہ سازی اور قیاس آرائیاں جنم نہیں لیتی ہیں۔اس کے نتیجے میں ہم آہنگی اور یگا نگت بر قرار بھی رہتی ہے۔بلکہ مضبوطی بھی ہوتی ہے۔مقامی حکومتوں کے حوالہ سے معلومات تک رسائی کو بروقت اور آسان بنانے سے نچلی سطح پر افواہ سازی اور قیاس آرائیوں پر مبنی جھوٹی یا غلط معلومات کا راستہ بند ہوتا ہے۔چونکہ پنجاب کا قانون2025ء اب لاگو ہے اور اس میں یہ حق رہائشی شہریوں کو دیا گیا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے جلد از جلد ہر سطح کی مقامی حکومت میں آفیسر کو ذمہ داری کے تحت کوئی پبلک انفارمیشن آفیسر تعینات کیا جائے۔اور رواج ڈالا جائے کہ ہر مقامی حکومت اور اس کے ذیلی ادارے اپنی اہم منصوبہ جاتی معلومات کو از خود پبلک کریں اور کسی درخواست پر مطلوبہ ضروری معلومات کو14دن کے اندر اندر درخواست گزار کو فراہم کریں۔
Read Next
3 دن ago
سیکرٹری بلدیات زید بن مقصود کا دورہ شیخوپورہ،مریدکے اسٹورم واٹر ڈرین کو30اگست،کوٹ عبد المالک ڈرین کو 30 ستمبر تک مکمل کیا جائے،ہدایت
3 دن ago
یونین کونسل ملازمین کے مجوزہ سروس رولز کے مطابق سیکرٹری اور نائب قاصد کی اہلیت کا چارٹ
4 دن ago
محکمہ بلدیات نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لئے12 ارب 52 کروڑ کے فنڈز مانگ لئے سمری ارسال صوبائی کابینہ منظوری دے گی
6 دن ago
سیکرٹری لوکل گورنمنٹ زید بن مقصود کا سپیشل سیکرٹری ڈویلپمنٹ شاہد زمان لک کے ہمراہ دیپالپور کا دورہ
1 ہفتہ ago
سیکرٹری بلدیات پنجاب زید بن مقصود نے عہدے کا چارج سنبھال لیا،محکمانہ امور،ترقیاتی منصوبوں اور بلدیاتی نظام پر بریفنگ
Related Articles
پی ڈی پی:51 شہروں میں 87 انڈرگراؤنڈ ٹینک مکمل،اضافی ٹینکس بنانے پر کام شروع ہوگیا ہے، وزیر بلدیات ذیشان رفیق
2 ہفتے ago
کسی جگہ مشینری کی کمی ہے تو سیکرٹری بلدیات کے نوٹس میں لایا جائے،وزیر بلدیات ذیشان رفیق کا چیف افسران سے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں خطاب
2 ہفتے ago




