*آج ذوالفقار علی بھٹو ہوتے تو مسلم امہ کی حالت مختلف ہوتی، وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ذوالفقار علی بھٹو کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بصیرت افروز قیادت، خودمختار خارجہ پالیسی اور عام آدمی کو بااختیار بنانے کا وژن آج بھی پاکستان کی سمت کا تعین کر رہا ہے۔آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ کانفرنس بعنوان “ذوالفقار علی بھٹو: عالمی وژن اور معاصر تنازعات” سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہید بھٹو نے اسٹریٹیجک خودمختاری پر مبنی خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی اور پاکستان کو کسی عالمی بلاک کے ساتھ وابستہ کرنے سے انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک آزاد خارجہ پالیسی کے حامی تھے جو پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ کرتی تھی۔ انہوں نے طاقت کے بجائے اصولوں کو ترجیح دی اور ملک کے لیے اپنے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ بھٹو عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے سب سے پہلے چین کی اسٹریٹیجک اہمیت کو تسلیم کیا اور 1966 میں پاک چین دوستی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ آج سی پیک کی بات کی جاتی ہے، تاہم اس شراکت داری کا وژن بھٹو نے دہائیوں پہلے پیش کیا تھا اور آج پاک چین تعلقات کی مضبوطی انہی کی دوراندیشی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہید بھٹو نے “گلوبل ساؤتھ” کا تصور متعارف کرایا اور ترقی پذیر ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لیے کام کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں مسلم دنیا کو متحد کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا اور فلسطینی کاز کے لیے بھرپور آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو شہید دنیا میں فلسطین کے سب سے مضبوط حامیوں میں شامل تھے اور آج کی ناانصافیاں ایسی قیادت کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر بھٹو آج زندہ ہوتے تو مسلم امہ کو درپیش چیلنجز مختلف ہوتے۔انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو نے 1971 کی جنگ کے بعد پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے اور ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ شدید مشکلات کے باوجود بھٹو نے قوم کا اعتماد بحال کیا اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے کی راہ پر گامزن کیا۔وزیراعلیٰ نے مسئلہ کشمیر پر بھٹو کے مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسے تقسیم کا نامکمل ایجنڈا قرار دیا اور اقوام متحدہ میں ان کی تقاریر آج بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ بھٹو نے پاکستان کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا اور عام آدمی کو اقتدار کا حصہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو سے پہلے سیاست اشرافیہ کے گرد گھومتی تھی مگر انہوں نے عوام کو طاقت کا مرکز بنایا اور انہیں وقار، برابری اور سیاسی شعور دیا۔انہوں نے بھٹو کی سادگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسانوں کے ساتھ بیٹھتے تھے اور طبقاتی تقسیم کو ختم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو نے حکمرانی کے کلچر کو تبدیل کرتے ہوئے قیادت کو عوام کے قریب کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کی کامیابیاں بھٹو کے وژن سے جڑی ہوئی ہیں اور حکومت آج بھی ان کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی عالمی ترتیب انہی نظریات کی طرف بڑھ رہی ہے جن کی بنیاد بھٹو نے رکھی تھی۔مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ بھٹو شہید کی 47ویں برسی سندھ بھر میں عقیدت و احترام سے منائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قومی صورتحال کے پیشِ نظر برسی ضلعی سطح پر قرآن خوانی اور دعاؤں کے ساتھ منائی جائے گی، جیسا کہ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات ہیں۔وزیراعلیٰ نے تقریب کے انعقاد پر آرٹس کونسل اور اس کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو شہید کی قربانیاں پاکستان کی طاقت اور بقا کی ضمانت ہیں اور ایسے رہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button