*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا 55 ارب روپے کے ٹارگٹڈ سبسڈی پیکج کا اعلان*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کے روز بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے اثرات سے معاشرے کے کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے 55 ارب روپے کے جامع ہدفی سبسڈی پیکج کا اعلان کیا جو علاقائی کشیدگی، خصوصاً ایران تنازع کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کے لیے اعلان کردہ سبسڈیز کی مد میں 55 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرے گی۔صوبائی وزراء ناصر شاہ، محمد بخش خان مہر، مکیش کمار چاولہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے ہمراہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال نے عالمی تیل کی قیمتوں کو شدید متاثر کیا ہے جس کے باعث پاکستان جیسے ایندھن درآمد کرنے والے ملک پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر صدر آصف علی زرداری اور بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں غور کیا گیا جہاں تمام صوبوں کو اعتماد میں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایندھن اور گیس کے محدود ذخائر ہیں جو ملکی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں۔ عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود وفاقی حکومت نے ابتدائی طور پر قیمتیں برقرار رکھیں تاہم اس عمومی سبسڈی سے کھپت میں اضافہ اور مالی بوجھ بڑھ گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سفارش پر حکومت نے عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی نظام اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو غریب ترین طبقات پر مرکوز ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ کے ہدفی ریلیف نظام کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جس کے چار اہم اجزاء ہوں گے جن پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر عمل درآمد کریں گی۔موٹر سائیکل سواروں کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں تقریباً 67 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں ہیں اور ہر رجسٹرڈ مالک کو ماہانہ 2 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے جو 20 لیٹر ایندھن پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی کے برابر ہوگا۔ اس مقصد کے لیے محکمہ ایکسائز نے ایک ڈیجیٹل ایپلی کیشن تیار کی ہے جس کے ذریعے صارفین اپنا قومی شناختی کارڈ اور بینک تفصیلات درج کر کے رجسٹریشن کر سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 15 دن کے لیے موٹر سائیکل کی ملکیت کی منتقلی مفت کر دی گئی ہے تاکہ اصل مستحقین کو فائدہ پہنچ سکے۔زرعی شعبے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ایک سے 25 ایکڑ زمین رکھنے والے تقریباً 3 لاکھ 36 ہزار چھوٹے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 1500 روپے دیے جائیں گے تاکہ گندم کی تھریشنگ کے لیے ڈیزل اخراجات میں مدد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مستند ڈیٹا کی دستیابی کے باعث ادائیگیاں آئندہ ہفتے سے شروع کر دی جائیں گی۔ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کو روکنے کے لیے حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے لیے بھی سبسڈی اسکیم متعارف کرائی ہے جس کے تحت مسافر بسوں کو فی گاڑی ایک لاکھ روپے، دو ایکسل مال بردار ٹرکوں کو 70 ہزار روپے اور ہیوی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو 80 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ میں 27 ہزار سے زائد بسیں ہیں اور شہری بسوں کے لیے اضافی 1 لاکھ 40 ہزار روپے دیے جائیں گے کیونکہ ان کا ایندھن خرچ زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز سے کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا حلف لیا جائے گا جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ اس حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھنا اور مسافروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ مربوط حکمت عملی کے تحت پاکستان ریلوے نے بھی کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اضافی مالی بوجھ وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت مارکیٹوں کے اوقات کار کے تعین کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے دو سال قبل گندم خریدی تھی اور دونوں سالوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ گزشتہ سال گندم کی خریداری نہ ہونے سے کاشتکاروں کو نقصان اٹھانا پڑا، اس لیے رواں سال گندم خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے، کاشتکاروں کو سہارا دیا جا سکے اور گندم درآمد کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت معاشی دباؤ کے اس دور میں عوام کے کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح یہ ہے کہ ہدفی ریلیف فراہم کیا جائے اور مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جائے تاکہ عام آدمی کو اس مشکل وقت میں سہارا دیا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button