"مثالی گاؤں” کا دائرہ کار 7500 دیہات تک بڑھانے پر غور،فیز ون پر 555 ارب لاگت کا تخمینہ، نئے مالی سال میں 150 ارب مختص کئے جائیں گے

وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت ایک اجلاس کے دوران مثالی گاؤں پروگرام میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر پروگرام کا دائرہ کار 7500 دیہات تک بڑھانے پر غور کیا گیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹری آسیہ گُل، سیکرٹری کوآرڈینیشن ٹو چیف منسٹر نے بھی شرکت کی جبکہ پنجاب رُورل میونسپل سروسز کمپنی (پی آر ایم ایس سی) کے سی ای او خُرم پرویز نے بریفنگ دی۔

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل ویلیج فیز ون پر 555 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ امید ہے کہ نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مثالی گاؤں پروگرام کیلئے 150 ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے پی آر ایم ایس سی کو فیز ون 18 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف شہروں کی طرح دیہات کو بھی ہر ممکن سہولیات کی فراہمی چاہتی ہیں۔ پنجاب حکومت کی کوشش ہے کہ پہلے مرحلے میں ہر صوبائی حلقے کے کم از کم 50 گاؤں شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ "مثالی گاؤں” بھی "مریم نواز کا سوہنا پنجاب” پروگرام کا حصہ ہے۔ ابتدائی طور پر 485 گاؤں شامل کئے گئے ہیں جبکہ 302 دیہات میں کام بھی شروع ہوگیا ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ مثالی گاؤں پروگرام کی مانیٹرنگ کیلئے ڈیش بورڈ بنایا جا رہا ہے جس سے کنٹریکٹرز کے کام کی نگرانی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرحلہ وار پنجاب کے تمام 22 ہزار 986 دیہات میں تقریباً 41 ہزار چھپڑوں کی بحالی ہوگی۔ دیہی چھپڑوں کی صفائی ایک منفرد سکیم ہے جس سے دیہات کا روایتی حُسن بحال ہوگا۔ گلیوں، ڈرینز، پارکس کی تعمیر کے ساتھ 200 دیہات میں واٹر سکیم بھی بنائیں گے۔ اجلاس میں وزیر بلدیات نے پی آر ایم ایس سی کے سی ای او کو سکیموں کے دورے کرنے کی بھی ہدایت کی۔

جواب دیں

Back to top button