*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدرت 1.72 ارب روپے کے ہدفی سبسڈی پروگرام پر عملدرآمد کےلیے اجلاس*

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے اثرات سے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہدفی فیول سبسڈی پروگرام کے اجرا کے لیے طریقۂ کار، نظام اور عملی حکمت عملی طے کرلی، جبکہ عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو قابل برداشت رکھنے اور صوبے کے ٹرانزٹ نظام کی بلا تعطل فعالیت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ہوا، صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، مکیش کمار چاولہ، محمد بخش خان مہر، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز شریک تھے، وزیراعلیٰ نے سستی سفری سہولیات کی فراہمی اور ٹرانسپورٹ نظام کی پائیداری کو یقینی بنانے پر زور دیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اقدام حالیہ عالمی جغرافیائی و سیاسی حالات کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث کرایوں میں اضافے اور عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال میں کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا جو بالخصوص کم آمدنی والے طبقات کو متاثر کرتا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے “ٹارگٹڈ پیپلز فیول ڈیفرینشل سبسڈی” متعارف کرائی ہے جس کے تحت بحران سے قبل اور موجودہ قیمتوں کے درمیان فرق کو پورا کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ پروگرام معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جبکہ عمومی سبسڈی کو غیر مؤثر اور مالی طور پر غیر پائیدار قرار دیا۔سبسڈی پیکج کے تحت ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو کرائے نہ بڑھانے کی شرط پر ماہانہ مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ بسوں، منی بسوں اور کوچز کو فی گاڑی ماہانہ 2 لاکھ 40 ہزار روپے تک سبسڈی دی جائے گی جبکہ ویگنوں اور پک اپس کو 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔ مال بردار ٹرانسپورٹ کے لیے چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار اور بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کے لیے سبسڈی کو روٹ کی لمبائی کے مطابق مختلف درجات میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے تحت طویل فاصلے کی بسوں کو ماہانہ 10 لاکھ 80 ہزار روپے تک سبسڈی دی جائے گی تاکہ صوبے بھر میں کرایوں کا استحکام برقرار رکھا جا سکے۔عوامی ریلیف کے تحت حکومت اپریل کے مہینے میں ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالک کو 2 ہزار روپے نقد فراہم کرے گی جس سے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے جو روزمرہ سفر کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں۔شفافیت اور بدعنوانی کے تدارک کے لیے سبسڈی کی ادائیگی ڈیجیٹل ایپ پر مبنی نظام کے ذریعے کی جائے گی جو محکمہ ایکسائز اور ٹرانسپورٹ کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگا۔ یہ نظام گاڑی کی رجسٹریشن، فٹنس اور ملکیت کی تصدیق کے بعد رقم براہ راست مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرے گا۔وزیراعلیٰ نے محکمہ ایکسائز کو ہدایت کی کہ آئندہ 15 دنوں تک دفاتر کے اوقات کار بڑھائے جائیں تاکہ رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنایا جا سکے اور پروگرام پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔یہ سبسڈی پروگرام، جس کی ماہانہ لاگت 1.72 ارب روپے ہے، تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کرنے والے ٹرانسپورٹ نظام کو سہارا دے گا، کرایوں کو مستحکم رکھے گا اور نجی گاڑیوں کے استعمال میں اضافے کی حوصلہ شکنی کرے گا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ریلیف شفاف اور بروقت انداز میں عوام تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہدفی حکمت عملی مشکل حالات میں مسافروں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر دونوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

جواب دیں

Back to top button