وزیر آبپاشی جام خان شورو اور وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی زیر صدارت حیدرآباد میں بلدیاتی اداروں کا اہم اجلاس

اجلاس میں سیکرٹری بلدیات سید خالد حیدر شاہ، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ اعجاز شاہ، مئیرحیدرآباد کاشف شورو، کمیشنر حیدرآباد بلال میمن، ڈپٹی کمیشنر زین العابدین، تمام ٹاؤنز کے چیئرمینز، بلدیاتی اداروں کے افسران، واسا اور حیسکو کے اعلٰی افسران و دیگر بھی موجود ہیں۔

اجلاس میں حالیہ مون سون بارشوں اور آئندہ متوقع بارشوں سے نبردآزما ہونے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی بندش ہے، جس کے باعث پمپنگ اسٹیشن بند ہوجاتے ہیں اور نکاسی کا عمل تعطل کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ کچی آبادیاں ہیں جہاں کسی قسم کا نہ سیوریج کا سسٹم ہے اور نہ ہی بارشوں کے پانی کی نکاسی کا کوئی انتظام ہے۔

واسا اور حیسکو کے اپنے مسائل ہیں جس کی وجہ سے یہاں مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ بارشوں کے دوران کینالز کے پانی میں کمی کی جائے گی۔2022 کی فلڈ میں جہاں جہاں مشینری لگائی گئی تھی اس پلان کو ریویو کیا جائے اور اس پلان کے تحت اضافی پوائنٹس کو مشینری انسٹال کی جائے۔ بارشوں کے دوران مشینری کی موومینٹ مشکل ہوگی اسی لیے تیاری میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ وقت تک جو بارشیں حیدر آباد میں ہوئی ہیں معاملات کنٹرول میں ہیں۔ زیادہ بارشوں کی صورت میں تکالیف ہوسکتی ہیں اس لئے ان مشکلات سے عوام کو بچانے کے لئے تمام افسران و ملازمین کو لازمی فیلڈ میں موجود ہونا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button