وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے 6 میگاواٹ کارگاہ پاور پروجیکٹ کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی کو اقتدار سنبھالنے کے بعد سب سے بڑا چیلنج گلگت بلتستان میں درپیش بجلی بحران تھا، خصوصاً گلگت، سکردو، چلاس اور ہنزہ کے علاقے میں بجلی کا بحران بہت زیادہ ہے جس کی بڑی وجہ گزشتہ دس سالوں میں بجلی کے منصوبے مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اضافی بجلی سسٹم میں شامل نہیں ہوئی۔ ہم نے ترجیحی بنیادوں پر جن پاور منصوبوں کی ریویجن درکار تھی ان کو ریوائز کیا جس کی وجہ سے زیر التواء منصوبے مکمل ہورہے ہیں۔ پاور پروجیکٹس ٹارگٹ کرکے وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ نلتر 16میگاواٹ پاور پروجیکٹ کا منصوبے پر ٹینڈر ہونے کے بعد کئی سالوں سے کام شروع نہیں ہوا تھا، ہم نے متعلقہ کمپنی کو مجبور کیا جس کی وجہ سے 16میگاواٹ پاور پروجیکٹ نلتر پر کام تیزی سے جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام پاور پروجیکٹس کا ٹائم لائنز کا تعین کیا گیا ہے ان ٹائم لائنز کے مطابق منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جارہاہے۔ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کیلئے 100میگاواٹ سولر پاور پروجیکٹ کا اعلان کیاگیا ہے جس کو ایک سال کی مدت میں عملی جامہ پہنانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ کارگاہ 6میگاواٹ پاور پروجیکٹ کی تکمیل سے گلگت کیلئے اضافی 6 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہورہی ہے جو خوش آئند ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے والے ٹھیکیداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ گلگت بلتستان کے مفاد عامہ کے منصوبوں کے معیار اور رفتار کو یقینی بنانے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کارگاہ 6 میگاواٹ پاور پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ محکمہ برقیات کی جانب سے اس منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
Read Next
3 دن ago
وزیرِ خزانہ محمد علی اختر گلگت بلتستان کے سینئر وزیر مقرر
3 دن ago
براڈ پیک سمیت حالیہ کوہ پیمائی حادثات پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا سخت نوٹس، ٹریکنگ و کوہ پیمائی قوانین اور ایس او پیز پر جامع نظرِثانی کا فیصلہ
4 دن ago
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس سے خطاب
5 دن ago
سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹریٹ کا دورہ گلگت بلتستان
1 ہفتہ ago





