پبلک ریلیشنز آفیسر،ستھرا پنجاب اتھارٹی،عمر چوہدری کی پی ایچ ڈی پبلک ڈیفنس میں شاندار کامیابی، پنجاب یونیورسٹی نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا

پبلک ریلیشنز آفیسر، ستھرا پنجاب اتھارٹی، عمر چوہدری نے کمیونیکیشن سٹڈیز میں پی ایچ ڈی پبلک ڈیفنس کامیابی سے مکمل کر لیا، جس کے بعد پنجاب یونیورسٹی نے ان کی پی ایچ ڈی کی باقاعدہ تکمیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ ڈاکٹر عمر چوہدری کا پی ایچ ڈی پبلک ڈیفنس پنجاب یونیورسٹی کے سکول آف کمیونیکیشن سٹڈیز میں منعقد ہوا، جہاں ان کے تحقیقی مقالے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان کے تحقیقی مقالے کا عنوان *”سرکاری اداروں میں پبلک ریلیشنز کے لیے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال اور درپیش مسائل کا جائزہ”* تھا۔

ڈاکٹر عمر چوہدری نے اپنا پی ایچ ڈی تحقیقی مقالہ *پروفیسر ڈاکٹر عائشہ اشفاق* کی زیرِ نگرانی مکمل کیا۔ پبلک ڈیفنس میں پروفیسر ڈاکٹر زاہد یوسف، پروفیسر ڈاکٹر میاں جاوید، پروفیسر ڈاکٹر عابدہ اشرف، ڈاکٹر عائشہ اشفاق، ڈاکٹر فہد، ڈاکٹر مدیحہ، ڈاکٹر شازیہ، ڈاکٹر سمن اور اسامہ محمود نے شرکت کی۔

پبلک ڈیفنس کے ممتحنین میں *پروفیسر ڈاکٹر زاہد یوسف اور ڈاکٹر میاں جاوید* شامل تھے۔ ممتحنین نے تحقیق کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے بالخصوص سوشل میڈیا صارفین کے رویوں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر معلومات کے پھیلاؤ اور سوشل میڈیا پر خبروں کی تصدیق کے رجحانات کو عصرِ حاضر کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا۔ڈاکٹر عمر چوہدری کی تحقیق میں سرکاری اداروں میں پبلک ریلیشنز کے لیے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال، اس کے اخلاقی و غیر اخلاقی پہلوؤں اور پبلک ریلیشنز پر اثر انداز ہونے والی سماجی و ثقافتی اقدار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کو خبروں اور معلومات کی تصدیق کے حوالے سے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں *سیاسی ایجنڈے پر مبنی غلط معلومات، غیر مصدقہ مواد اور معتبر ذرائع کی عدم دستیابی* نمایاں عوامل ہیں۔ تحقیق میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ سوشل میڈیا پر کسی خبر کی تصدیق یا عدم تصدیق کے فیصلے میں صارفین کے مختلف نفسیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عمر چوہدری کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا نے پبلک ریلیشنز کے روایتی طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان فوری، براہِ راست اور دو طرفہ رابطے کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم ان پلیٹ فارمز کے مؤثر استعمال کے ساتھ ساتھ اخلاقی ذمہ داری، شفافیت، جوابدہی اور معلومات کی درستگی کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔تحقیق میں ڈیجیٹل میڈیا پر پبلک ریلیشنز کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے *اخلاقی ڈیجیٹل پبلک ریلیشنز کا ایک جامع ماڈل* بھی پیش کیا گیا ہے۔ یہ ماڈل ڈیجیٹل دور میں سرکاری ابلاغ کو زیادہ *ذمہ دار، جوابدہ، شفاف اور مؤثر* بنانے کے لیے ایک واضح اور مستقبل بین فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ تحقیق کے اختتام پر اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر صارفین، میڈیا پروفیشنلز اور سرکاری اداروں کے لیے ذمہ دارانہ ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے اصول وضع کیے جائیں، جبکہ پبلک ریلیشنز کے شعبے میں *ڈیجیٹل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مؤثر ضابطۂ اخلاق (Code of Conduct)* تشکیل دے کر اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ڈاکٹر عمر چوہدری کی تحقیق کو موجودہ ڈیجیٹل دور میں سرکاری ابلاغ، پبلک ریلیشنز، سوشل میڈیا اخلاقیات اور معلومات کی تصدیق کے حوالے سے ایک اہم علمی کاوش قرار دیا گیا ہے، جو مستقبل میں سرکاری اداروں کی ڈیجیٹل کمیونیکیشن پالیسیز اور پبلک ریلیشنز کی مؤثر حکمتِ عملی کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔اس موقع پر یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ڈاکٹر عمر چوہدری کے پبلک ڈیفنس کے ساتھ ہی ان کی سپروائزر *پروفیسر ڈاکٹر عائشہ اشفاق* نے مختصر مدت میں 10 طلبہ کو پی ایچ ڈی کی تکمیل تک پہنچانے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button