*انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کا عید میلاد النبی کے لیے مشترکہ پلان تیار ہے۔کمشنر لاہور نعمان یوسف*

کمشنر لاہورڈویژن نعمان یوسف و ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر فیصل کامران و چیرمین متحدہ علماء بورڈپنجاب ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد نوری کی زیر صدارت عید میلادالنبی انتظامات جائزہ کے حوالے سے ڈویژنل امن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں لاہور ڈویژن میں شامل چاروں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، علماء اکرام، امن کمیٹی ممبران اور ضلعی انتظامی محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس و دیگر محکموں نے عید میلادالنبی کے حوالے سے کیے گئے انتظامات بارے بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 12 ربیع الاول کو سکیورٹی کے لیے لاہور پولیس کے 7 ہزار اہلکار تعینات ہوں گے، 3 ہزار سول ڈیفنس رضا کار تمام روٹس پر سکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔ ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز اور موٹر بائیکس روٹس پر الرٹ اور اسٹینڈ بائی رہیں گی۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ٹریفک روٹ اور پارکنگ کے حوالے سے پلاننگ مکمل ہے، انتظامات کو یقینی بنایا جائیگا۔کمشنرلاہورڈویژن نعمان یوسف نے کہا ہے کہ انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کا عید میلاد النبی کے لیے مشترکہ پلان تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور بھر میں 71 بڑے جلوس ہوں گے۔11 ربیع الاول کو 19 اور 12 ربیع الاول کو 52 عید جلوس ہوں گے، ٹریفک پولیس اور ریسکیو 1122 اور الائیڈ محکموں نے انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔ کمشنر لاہور نے کہا کہ جلوس کے تمام روٹس پر پیچ ورک اور اسٹریٹ لائٹس کی بحالی یقینی بنائی جارہی ہیں، جشن میلادالنبی جلوسوں میں حفاظتی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے جارہے ہیں۔کمشنر لاہور نے کہا کہ انتظامات کی بہتری کے لیے تمام تجاویز کا خیر مقدم کرتا ہوں، ربیع الاول کے تمام پروگراموں کا بہترین اہتمام یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی جشن عید میلاد النبی کی خوشیوں کا حصہ ہوں گے، انتظامی امور اور سکیورٹی کے لیے تمام وسائل فراہم کریں گے، متعلقہ محکمے جشن میلاد کے تمام انتظامات بروقت مکمل کریں گے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیرمین متحدہ علماء بورڈپنجاب ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد نوری نے کہا ہے کہ آج جمعہ کے دوران امن عالم۔ محبت اور عشق رسالت کا پیغام عوام کو دیا ہے، حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق علماء و انتظامیہ میں مضبوط اشتراک کار ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ڈاکٹر فیصل کامران نے کہا ہے کہ شرپسند و فتنہ انگیز اور غیر اخلاقی عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button